لڑکیوں کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال، احتیاط بہت ضروری - حرم فارس

فیس بک بہت بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی ایپ ہے جس میں حقیقت بھی پائی جاتی ہے اور جعلی پن بھی۔ "فیک آئی ڈیز" کے حوالے سے تحفظات ہر اس شخص کو ہوتے ہیں جو اپنے اردگرد صرف انہی کو رکھنا چاہتے ہوں جو مخلص ہوں۔ بالخصوص سوشل میڈیا کی اس دنیا میں لڑکیاں جو مرد حضرات کو 'ایڈ' کرنے میں احتیاط برتیں اور دوسری جانب وہ معصوم بہنیں جو فیک آئی ڈیز کے حوالے سے پریشانی کا اظہار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ بہت سی لڑکیاں جو عام طور پر ہر قسم کی لڑکیوں کو ایڈ کرلیتی ہیں اور ان کا مقصد کچھ اچھا سیکھنا سمجھنا ہوتا ہے لیکن اس میں نقصان بھی اٹھانا پڑ جاتا ہے۔

ایسی آئی ڈیز جو آپ تک دینی معلومات پہنچا رہی ہوں لیکن شک ہو کہ یہ جعلی ہیں، لیکن آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچا رہیں تو بہتر ہے آپ بھی ان کے لیے تکلیف کا باعث نہ بنیں۔ رکھنا ہے تو رکھیں ورنہ نکال دیں۔ ایسی بہت سی آئی ڈیز کے پیچھے محض تبلیغی نقطہ نظر ہوتا ہے لیکن یاد رہے کہ اس حوالے سے بھی احتیاط کرنا ضروری ہے جیسا کہ چيٹنگ سے مکمل پرہیز کیا جائے۔

کسی بھی خاتون کی آئی ڈی دیکھ کر ان کے سامنے اپنے مسئلے مسائل لے کر نہ پہنچا کریں۔ معاملہ یہ ہے کہ دینی مزاج کی آئی ڈیز پر عورتیں اور لڑکیاں اندھا دھند اعتماد کرکے اپنے مسائل شیئر کرنا شروع کردیتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ اس کے پیچھے کوئی برے ذہن والا شخص ہو، بلکہ کوئی تبلیغی نقطہ نظر سے کام کرنے والا بھی ہو سکتا ہے لیکن کیا آپ پسند کریں گی کہ آپ اپنے ایسے مسائل کسی مرد سے ڈسکس کر رہی ہیں جو آپ حیاء کی وجہ سے چھپا کر رکھتی ہوں؟ اس لیے محتاط رہیں۔

فیک آئی ڈیز کو پہچاننا ہر بار آسان نہیں ہوتا لیکن ہمیشہ مشکل بھی نہیں۔ گمان اچھا رکھنا چاہیے لیکن اس کے ساتھ پردے کے لیے احتیاط بھی ضروری ہے۔ دینی ہی نہیں بلکہ دیگر آئی ڈیز کے حوالے سے بھی چند نکات پیش ہیں:

یہ بھی پڑھیں:   کیا فیس بک آلہ تبلیغ ہے؟ حافظ محمد زبیر

کسی کو بھی ایڈ کرنے سے قبل اسکی آئی ڈی کو ایک نظر دیکھ لیا کریں۔ پروفائل پکچر، کور فوٹو اور اسکا 'اباؤٹ'، کہیں نہ کہیں اس یوزر کی سوچ کو نمایاں کر رہے ہوتے ہیں۔ ہر بار یہ ضروری نہیں جیسا کہ بہت سے لوگ بڑی سلجھی ہوئی پوسٹنگ کر رہے ہوتے ہیں لیکن اچانک آپکو ان باکس میں ان کی جانب سے ایسا میسج وصول ہوتا ہے کہ آپ خود شرمندہ ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال سے بچنے کے دو راستے ہیں یا تو آپ صرف جاننے والوں کو ایڈ کریں یا پھر ایسی آئی ڈیز سامنے آنے پہ فوراً بلاک کا آپشن استعمال کریں اور دوسروں کو بھی خبردار کر دیں ۔

ایسی آئی ڈیز جو ایڈ ہوتے ہی آپ کو میسج پہ میسج شروع کر دیں اور فوراً آپ سے ایسے سوالات کرنے لگیں جو آپ کی ذات سے متعلق ہوں توان سے محتاط رہیں۔ زیادہ تر یہ لڑکے ہوتے ہیں اور ان میں سے بہت سے چند باتوں کے بعد ہی سچے مومن بن کر اگل دیتے ہیں کہ وہ جھوٹ بولنا پسند نہیں کرتے اس لیے بتا رہے ہیں کہ وہ لڑکا ہے۔لیکن کئی بار نہیں بتاتے لیکن ان کے سوال فوراً کھٹک جاتے ہیں۔ آپ کی روزمرہ مصروفیات، رہائش، تعلیم اور محبت وغیرہ کے بارے میں سوالات پوچھنے والی کوئی لڑکی بھی ہو سکتی ہے لیکن اگر ایسا ہے تو اس لڑکی سے بھی محتاط رہیں۔

کوئی بھی آئی ڈی جو نئی ہو، آپ اسے پہلے نہ جانتی ہوں اور آتے ہی اس سے بہترین کام ہونے لگے یعنی ایسی پوسٹنگ جو فوراً توجہ کھینچ لے اور کچھ ہی دنوں میں لائکس کی تعداد بھی زیادہ ہو جائے۔ اس کے بارے میں ایک بات یاد رکھیں کہ اس آئی ڈی کے پیچھے جو بھی بندہ یا بندی ہے وہ کسی صورت نئی یا نیا نہیں ہے۔ ایسی آئی ڈیز کے فیس بک استعمال کرنے کا طریقہ بہت کچھ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ آیا یہ صارف سوشل میڈیا استعمال کرتا رہا ہے یا نہیں۔ اس صورت میں ایڈ کرتے ہوئے دھیان رکھیں، بالخصوص وہ بہنیں جو سوشل میڈیا کے استعمال سے زیادہ آشنا نہيں۔

یہ بھی پڑھیں:   لائیکس کا چسکا - عثمان آفریدی

پھر ایسی آئی ڈیز سے بھی محتاط ہونے کی ضرورت ہے جو بظاہر تو دینی دکھائی دیں لیکن جس طرح کے مسائل شیئر کریں وہ ایسے ہوں جو حیا کے متقاضی ہو۔ لڑکیاں عام طور پر بہت کھل کر بات نہیں کرتیں خاص طور پر اگر وہ دینی ہو۔ مسائل سے آگہی بھی ڈھکے چھپے الفاظ ہی میں کرتی ہیں تاکہ حجاب رہے۔ اس لیے ایسی صورت میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

پھر ایسی آئی ڈیز بھی ہوتی ہیں جن کو آپ عرصے سے فالو کرتی ہیں اور آپ کوکبھی شک بھی نہیں گزرتا کہ اچانک یہ فیک نکل سکتی ہیں۔ اس لیے ہر کسی سے دوستی بنانے کی کوشش نہ کریں، سوائے جن کے ساتھ تعلق پرانا ہو۔ کچھ عرصہ قبل میری آئی ڈی میں ایک لڑکی ایڈ تھی بہت اسلامی پوسٹس ہوا کرتی تھیں۔ مجھے عموماً میسجز وصول ہوتے رہتے ہیں، خاص کر اسلامی بہنوں کے تو وہاں مجھے اس بہن کا میسج وصول ہوا، جنہوں نے شائستہ انداز میں میرے لکھنے کی تعریف کی اور ایک دو باتوں کے بعد چلی گئیں۔ کچھ عرصہ بعد اس کی جانب سے ایک اسٹیٹس پیش ہوا کہ میری بہنیں مجھے معاف کر دیں میں ایک لڑکا ہوں، اتنی دیر لڑکی بنا رہا اب معافی چاہتا ہوں۔ اب جو محتاط رہیں ان کو تو پریشانی نہ ہوئی لیکن وہ لڑکیاں جو دینی تعلق کی بنا پہ ان باکس میں مسئلے مسائل زیر بحث لاتی رہتی ہیں، ان کے لیے یہ ایک دھچکا تھا۔ ضروری نہیں ہر بار ایسا ہو لیکن سوشل میڈیا پہ محتاط رہنا ہی اس کے استعمال کا بہترین ہنر ہے۔