گستاخئ رسول، مسئلے کا حل – عبید الرحمٰن شفیق

گستاخئ رسول ﷺ جہاں ایک طرف بہت سنگین مسئلہ ہے وہاں دوسری طرف بہت نزاکت کا حامل بھی ہے۔اس مسئلہ میں غفلت اور سستی برتنا کسی طور مناسب نہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے غلط اور ناجائز استعمال کا نتیجہ صرف و صرف معصوم جانوں کے قتل جیسے سنگین جرم اور ناقابل معافی گناہ کی صورت میں ہی ہوتا ہے۔

وطن عزیز پاکستان میں پچھلے بیس سے پچیس سالوں میں جب سےتوہین رسالت کا قانو ن پاس ہوا ہے اب تک 1500 سے زائد مقدمات درج ہوچکے ہیں جن میں نصف سے زیادہ مقدمات میں مورد الزام مسلمانوں کو ہی ٹھیرایا گیا ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں مذہب سے گہری واقفیت رکھنے والے افراد کم ہی ہیں لیکن گستاخئ رسول کاتصور کرنا پھر بھی محال ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ملک میں توہین رسالت کے درجنوں مقدمات محبان رسول کے خلاف ہی درج کروائے گئے۔۔۔ ؟اس کی دو اہم وجوہات ہیں۔

اول یہ کہ اکثر لوگ تو اپنی جہالت اور ناواقفیت کی بنا پر کچھ ایسی اشیاء پر توہین رسالت عائد کر بیٹھتے ہیں جس پر توہین کا اطلاق سرے سے ہوتا ہی نہیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ یہ مسئلہ انتہائی نزاکت کا حامل ہے اور ہر خاص و عام کو اس بات کی قطعاً اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ جس پر چاہے جیسے بھی چاہے توہین رسالت کا الزام لگا دے۔ عربی زبان کا ایک مقولہ ہے العوام کالانعام کہ عام عوام تو جانوروں کی مانند ہوتی ہے جو ان کو جس ڈگر پر لگائے وہ سر جھکائے اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ لوگ تو محبت رسول کے جذبے میں بغیر سوچے سمجھے کسی طرح کا بھی قدم اٹھالیتے ہیں۔ جس کا خمیازہ اس معصوم انسان کو اپنی جان گنوا کر بھگتنا پڑتا ہے۔

دوسری وجہ وہ لوگ ہیں جو صرف و صرف اپنی مذہبی عصبیت اور ذاتی عناد کی بنا پر کسی پر بھی توہین رسالت کا الزام لگا کر اسے قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں۔ یہ دوسری قسم کے لوگ اللہ کی عدالت میں مجرم ہونے کے ساتھ ساتھ اس بے گناہ کے بھی مجرم ہیں جو بیچارہ اتنابھی نہیں جانتا اس کہ اس کو کس جرم کی پاداش میں قتل کی کیا جارہا ہے۔

اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ سب سے پہلے حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس مسئلے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے فی الفور علماء و مشائخ کا ایک مشترکہ بینچ تشکیل دے جو مکمل ذمہ داری اور غیر جانب داری سے سے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد کوئی فیصلہ لے اور پھر اس کے بعدموجودہ قوانین کی روشنی میں اس فیصلے کو کسی منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ کسی بھی عام انسان کو اس میں دخل دینے قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے اور جوکوئی اس قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے اس کے خلاف بھی سخت سے سخت قانونی کارروائی ہو۔

لیکن خدا جانے ہماری حکومت کب ہوش کے ناخن لے گی اور تب تک نجانے کتنی جانیں اس کی سستی اور غفلت کی بھینٹ چڑھیں گی؟ ساتھ ہی یہ ہماری ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ نعروں اور جذبات سے ایک قدم آگے بڑھ کر شعور کی دنیا میں قدم رکھیں۔ کہیں ایسا نہ ہو جس عمل کو ہم اپنے لئے باعث نجات سمجھ رہے ہو وہی ہمارے لئے وبال جان بن جائے۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam