ہراساں ہونے کے بعد بھی عورت ڈرے؛ آخر کیوں؟- سائرہ فاروق

اوائل سرما کا یہ روشن اور چمکیلا دن تھا۔ دھند چھٹنے لگی تھی۔ نیلگوں آسمان تاحد نگاہ صاف تھا۔ شاہراہ ریشم پر ہماری بس رک چکی تھی اور باوجود کوشش سٹارٹ نہ ہونے پر ہم سب سٹوڈنٹ نیچے اتر گئے اور ہر آنے والی گاڑی کی جانب ہم ایسے دیکھتے کہ اس سے زیادہ متبرک آج کچھ نہیں۔ ارد گرد برف کی دبیز تہہ جمی ہوئی تھی فر اوڑھنے کے باوجود ٹھنڈ اپنا آپ منوا رہی تھی۔ سڑک کے کنارے نیچے نشیب میں تیس سے زائد گھر دکھ رہے تھے۔ اس چھوٹی سی بستی کی چمنیوں سے نکلتا سیاہ دھواں، پراٹھوں اور توے پر پیاز سے بنے آملیٹ کی مہک زندگی کی نوید سنا رہی تھی۔ مجھے یہ سب سحر زدہ کرتا.... اپنے ہونے کا یقین دلاتا.... کہ اچانک سردار اشمل کی آواز نے وہ سحر توڑ ڈالا....

"آج جن پروفیسر کی پہلی کلاس ہے تو پیارو اپنی خیر منا لو.... "

اس کی بات سن کے جھرجھری آئی.... موٹے عدسوں کے پار تیز چبھتی، پھنکارتی نگاہیں تصور میں ابھری تو خلق میں کانٹے ابھرنے لگے

"کیا ہے اشمل ہم کوئی نرسری کے بچے ہیں جو ڈرا رہے ہو؟ "

" بیٹا تم تو ان کی کلاس میں ویسے بھی کھڑی رہتی ہو، آج اک بار اور سہی" عقب سے بیک وقت کئی قہقہے ابھرے

"ہاں تو لیٹ ہوں گی، تو کھڑی تو ہوں گی" عقب سے پھر قہقہے بلند ہوئے اور میں سٹپٹائی... اور جواب دینے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ سردار اشمل اپنی مختصر سی داڑھی سہلاتے ہوئے سامنے کی طرف متوجہ کیا اور ہم سب عالم بیتابی میں آنے والی گاڑی کو تکنے لگے۔

گاڑی ہمارے قریب رکی اور ہم سب اس میں بیٹھ گئے ہمارے یہاں کا سفر پنڈی، اسلام آباد کی طرح تکلیف دہ نہیں ہوتا، جگہ جگہ گاڑی نہیں رکتی ایبٹ آباد کے قریب موڑ ذرا خطرناک ہونے کی وجہ سے دل ڈرتا ہے، مگر جب آپ مسلسل سفر کے عادی ہوں تو پھر اردگرد کے حسین مناظر آپ کو گرفت لے لیتے ہیں ۔

میں جس سیٹ پر بیٹھی تھی وہاں میرے ساتھ ہی لاء کی سٹوڈنٹ بھی بیٹھی تھی۔ جارجٹ کا دوپٹہ لیے یہ کافی ماڈرن لڑکی تھی۔ اس نے کسی اچھے برانڈ کی لیکن انتہائی تیز پرفیوم لگائی ہوئی تھی جو اس کے ذوق کا پتہ دے رہی تھی۔ مگر اس لڑکی کی بے چینی مجھ سے چھپی نہ رہ سکی، میں ابھی حیران ہی تھی کہ وہ لڑکی میرے کندھے پر شدید دباؤ ڈالتے ہوئے پیچھے مڑی اور چیختے ہوئے بولتی چلی گئی"تمھیں شرم نہیں آتی منہ پر داڑھی رکھی ہے اور حرکتیں دیکھو، تم کیا اپنی بیٹیوں کے ساتھ بھی ایسی حرکتیں کرتے ہو؟ "

مخاطب شخص منمنایا ۔ مغلظات کا اک سلسلہ لڑکی کے منہ سے برآمد ہوا اور میرے کندھے پر اس کے ہاتھ کا دباؤ بھی بڑھ گیا اچانک گاڑی کے بریک چرچرائے اور گاڑی رک گئی، ڈرائیور مڑا" کیا بات ہے ؟"

یہ بھی پڑھیں:   صنف نازک اور ہراسیت - علی عبداللہ

" لو جی اب اس کو کیا بتائیں؟ "میں دل ہی دل میں بڑبڑائی ۔

ڈرائیور پٹھان تھا، پشتو میں انتہائی درشت لہجے میں بولا" بھائی صیب فوراً اترو، ایک منٹ کا دیر نہ ہو"

" ہم نے پیسہ دیا ہے، مفت میں نہیں بیٹھا"مخاطب شخص منمنایا

"اوئے تیری تو"موٹی سی گالی برآمد ہوئی

"اتر جلدی...... چل...... " اوپر تلے گالی...

اور پھر...... چراغوں میں روشنی نہ رہی پیچھے سے جو چیز نکل کر اتری وہ ادھیڑ عمر کے بابا جی تھے سرخ خضاب سے تر بتر داڑھی، آنکھوں میں سرمہ اور ہاتھ میں تسبیح، دل بے تاب کو انھیں مزید تکنے کی ہمت نہ ہوئی میں نے زور سے آنکھیں میچ لیں۔

دل ہی دل میں ان پر دو حرف بھیجے اور پھر میں عجیب یاسیت میں گھر گئی۔ میرے پہلو سے لگی لڑکی، جو انتہائی ہمارے ماحول میں بولڈ لگی، بولڈ بولی، مگر اب اس کے بدن کی کپکپاہٹ اور دبی دبی سسکیاں مجھے بھگونے لگیں تھیں مجھے دکھ ہوا اور بے حساب ہوا۔

اگرچہ اس کے اور میرے ثقافتی روئیے مختلف تھے ہم ساتھ بیٹھے تھے مگر ہماری دنیائیں مختلف تھیں، سوچ مختلف تھی پہناوے مختلف تھے کچھ بھی مشترک نہ تھا سوائے احساس انسانیت کے.... وہ میرے لیے قابل احترام تھی سماج کے رواجوں سے ہٹ کر جدید پہناوے، وہ بھی اک لڑکی کے، اس پدرسری سماج میں کہاں قبول؟ یہاں لڑکی ہونا آسان کہاں؟

بسوں، ویگنوں میں اکثر لڑکیوں کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ہم باہر نکلنے والی عورت چاہے سٹوڈنٹ ہو یا آفس ورکر کو عجیب نظروں میں کیوں تولتے ہیں؟ کہ دیکھو یہ حرافہ نجانے کہاں جارہی ہے؟ دیکھو تو اس کے ہاتھ میں موبائل ہے، نجانے کس یار کو میسج کر رہی ہے؟ کال آرہی ہے ضرور اس کا کسی کے ساتھ چکر ہے، یہ مسکرائی، توبہ پوری چھنال ہے، پتہ نہیں کتنوں کے ساتھ یاری ہے؟

یقیناً تعلیم زدہ اس معاشرے میں تربیت کی کمی ہے ہم ابھی تک یہ تربیت گھر سے شروع ہی نہیں کر پائے باہر نکلنے والی لڑکی یا عورت کے ساتھ برتاؤ کیسا کرنا چاہیے اور نہ ہی ہم نے اپنی بچیوں کو ایسے غیر متوقع ہونے والے واقعے کے خلاف مدافعت کرنا سکھا سکے ہیں اور جو چیز اس سماج میں سکھائی، وہ ہے خاموش رہنا، چاہے کچھ بھی ہو جائے اس پر بات نہیں کرنا، چھپا لو اسے ۔

صنفی بنیاد پر یہ تشدد اور روئیے عام ہیں اور روزمرہ معمولات کا حصہ بنتے ہیں، مگر ہم انھیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لڑکیوں پر فقرے کسنے، انہیں چھونے، معنی خیز گفتگو، گانے گا کر فحش اشارے کرنے، کہنی مارنے جیسی غلیظ حرکتیں چند لمحوں کے لیے مرد کو تسکین تو دیتی ہیں مگر دوسری کی پوری زندگی داؤ پر لگ جاتی ہے مگر حرام ہو کہ ہم اسے سماجی برائی نہیں سمجھتے، جبکہ یہ جرم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   استاد یا بھیڑیے - محمد اسمٰعیل بدایونی

اب فیصلہ لڑکی نے خود کرنا ہے کہ وہ کیسے جینا چاہتی ہے، گھٹ کر یا اعتماد کے ساتھ؟دوسروں کو قائل کرنے سے بھی پہلے خود کو قائل کرنا سیکھ لیں کہ اگر آپ کو کوئی ہراساں کر رہا ہے تو کیا اس میں آپ غلط ہیں؟ کیا آپ ذمہ دار ہیں؟ پہلے تو آپ خود کو اس الزام سے باہر نکالیں، احساس شرمندگی سے باہر نکلیے.... کیونکہ جب تک آپ خود اعتمادی نہیں دکھائیں گی تو دوسروں کو قائل کیسے کریں گی؟

ہمارے عمومی سماجی روئیے بھی پہلے لڑکی کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں کہ ضرور لڑکی کا لباس، بناؤ سنگھار ایسا ہوگا جو دوسرے کو متوجہ کا باعث بنا، مگر دوسرے کو اس حیوانی احساس سے بری کر دینا ہمارے سماج میں عام ہے جو انتہائی موذی اور غلط ہیں۔

لڑکیوں کو یہ یادرکھنا ہے کہ اگر کسی نے ہراساں کیا تو اس میں آپ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ایسے میں پریشان ہونا معمول کے مطابق ہے۔ ایسے وقت شرم سے چپ ہو جانا مجرم کو مزید طاقتور کرنے کے مترادف ہے، بولیں تاکہ ان کی حوصلہ شکنی ہو ایسے میں آپ کا شرمندہ ہونا انتہائی غلط ہے اور آپ کا ہی کیس کمزور کرتے ہوئے آپ کو ہی اس جرم میں برابر کا شریک سمجھے گا۔

پبلک پلیس پر ایسا ہونے کی صورت میں اپنی بات کو پر اعتماد طریقے، مضبوط لب ولہجے کے ساتھ باوقار انداز میں سامنے لائیں۔ مسکرائیے نہیں، نہ ہی شرمیلا انداز اختیار کریں کیونکہ آپ کی ہی بات میں دم نہیں رہے گا۔ بد زبانی، بد کلامی مت کریں، متعلقہ فعل کو نام دے کر، جو بھی اس مذکورہ فرد کی جانب سے ہوا، حوصلے سے بلند آواز میں بولیں، مگررو کر بات مت کریں۔

ہمارے ہاں معاشرے کی سخت گیر روایات کی وجہ سے بھی حرف شکایت زبان پر نہیں لاتیں کیونکہ اس میں خسارہ عورت کا ہی ہےاب وقت آگیا ہے کہ ان روایات کو بدلنا چاہیے، نہیں تو یہ ناسور بن کر ہماری بچیوں کو دیوار میں چنوا دے گا۔ آخر اس سماج کے شملے کو اونچا کرنے کے لیے صرف بیٹیاں ہی کیوں قربان گاہ تک لائی جائیں؟ بنیاد گھر سے شروع ہوتی ہے تو تبدیلی بھی گھر سے شروع ہونی چاہیے، معاشرے میں سدھار خود ہی آجائے گا ۔