چھیڑے اور چھوئے بغیر لکیر کو چھوٹا کرنے کا کھیل- حفیظ نعمانی

سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے جب حکومت سنبھالی اور اپنے تینوں بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کا مسئلہ سامنے آیا تو ان کے سامنے سرکاری اور پرائیویٹ یا مشنری اسکولوں کی تفصیل آئی۔ اس وقت انہیں معلوم ہوا کہ کروڑوں یا اربوں روپے خرچ کرکے جو سرکاری اسکولوں میں تعلیم دی جارہی ہے ان اسکولوں میں پڑھانے والوں اور والیوں کے اپنے بچے بھی پرائیویٹ اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو جوش آیا اور انھوں نے کہا کہ تمام سرکاری اسکولوں کو جلد سے جلد معیاری اسکول بنادیا جائے اور وہ سرکاری افسروں کو حکم دیں گے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں پڑھائیں اور وزیر اعلیٰ نے اپنے لڑکے کو لامارنٹیل اور دونوں لڑکیوں کو لاریٹومشنری اسکولوں میں داخل کرایا۔ جہاں داخلہ اور پہلے سال کی فیس ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وزیر اعلیٰ سے اتنے پیسے لینے کی ہمت نہ پڑی ہو۔

اکھلیش یادو نے اس وقت کہا تھا کہ تمام سرکاری اسکولوں کو جلد سے جلد معیاری بنایا جائے ا ورسرکار کی طرف سے بچوں کو یونیفارم، کتابیں، فیس اور دوپہر کا کھانا دیا جائے گا۔ اور وہ اعلان کرنے کے بعد یا تو سو گئے یا بھول گئے کہ پھر ایک بھی اسکول کچھ اچھا ہونے کے بجائے اور بدتر ہوگیا۔ یونیفارم، کتابیں اور فیس کی ضرورت اس لیے نہیں پڑی کہ بچے صرف دوپہر کوآتے ہیں اور انہیں جو کھانا دیا جاتا ہے وہ اس سے بھی زیادہ بد تر ہوتا ہے، جتنا جیل میں دیا جاتا ہے، جہاں بھی ٹی وی کا کیمرہ دکھاتا ہے وہاں تھالی میں دال اور چاول ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے کوئی چیز پانی میں پڑی ہے۔ اور کھانے والے کھاتے ہوئے کم اور گراتے ہوئے زیادہ نظر آتے ہیں۔
نئے وزیراعلیٰ یوگی جی نے بھی پرائیویٹ اسکولوں کی اندھیرنگری کو جلد سے جلد ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ تو ہم بھی جانتے ہیں کہ کسی چیز کو مٹانا اور گرانا بہت آسان ہے اور بگڑی کو بنانا بہت مشکل ہے۔ وزیر اعلیٰ اگر سرکاری اسکولوں کو اس قابل بنادیں کہ وہاں واقعی تعلیم ہونے لگے تو نہ یونیفارم کی ضرورت ہے نہ کتابوں کاپیوں اور فیس کی۔ ماں باپ خود اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں بھیجنے لگیں گے اور پرائیویٹ اسکول کی لوٹ مار خود ختم ہوجائے گی۔ پرائیویٹ اسکولوں میں ۲۵ فیصدی تو وہ پڑھاتے ہیں جن کے پاس ضرورت سے بہت زیادہ روپیہ ہے اور انہیں شان دکھانا ہے کہ بے بی ا ور گڈوکی فیس ایک ایک لاکھ جاتی ہے۔باقی ۷۵ فیصدی وہ ہیں جو اس لیے پڑھاتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں اور پرائیویٹ اسکولوں کے علاوہ کہیں پڑھائی نہیں ہوتی۔
وزیر اعلیٰ یوگی جی صرف سرکاری ا سکولوں کو دیکھیں، ہر اسکول کی عمارت معقول ہو، وہاں کرسیاں اور بینچ ہوں، یونیفارم مقرر ہو،جو والدین بنائیں اور نصاب وہ ہو جو عام طور پر بازار میں مل جائے۔ اور پڑھانے والوں پہ سختی کی جائے کہ وہ سنجیدگی سے پڑھائیں۔ ہر سرکاری اسکول کا ٹیچر 30-40ہزار روپے مہینہ تنخواہ لیتا ہے اور صرف اسکول آکر رجسٹر میں دستخط کردیتا ہے۔ اور جو لڑکیاں اتنی ہی تنخواہیں لے رہی ہیں وہ اپنے گھریلو کام کرتی رہتی ہیں۔ پرائیویٹ اسکولوں کی زیادہ تعداد ان لیڈروں کی ہے جو حکومت میں حصہ دار ہیں یا حکومت کی نظر کرم ان پر ہے۔ اسی وجہ سے اگر ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوتی ہے تو وہ حکومت سے ختم کرادیتے ہیں یا ہائی کورٹ چلے جاتے ہیں اور عدالت کا جواب ہوتا ہے کہ کس اسکول نے آپ کو مجبور کیاکہ آپ ان کے اسکول میں پڑھائیں؟ آپ کے نزدیک لوٹ مچی ہے تو آپ دوسرے اسکول میں پڑھائیے۔ ہریانہ کے ایک ذمہ دار بتارہے تھے کہ ہریانہ میں پرائیویٹ اسکول ۷۵ فیصدی بی جے پی نیتاؤں کے ہیں۔ یوگی جی بھی پہلے معلوم کرلیں کہ ان کے کتنے وزیروں اور اسمبلی کے ممبروں یا ان کے رشتہ داروں کے کتنے اسکول ہیں؟
ہمارے گھر میں ایک خادمہ ہے اس کا شوہر چائے کا ٹھیلہ لگاتا ہے، ایک لڑکا ہے جو ایک کارخانہ میں اے سی کا کام کرتا ہے۔ وہ اپنی لڑکیوں کو پڑھا رہی ہے اور مجبور ہے کہ پرائیویٹ اسکول میں پڑھائے۔ ہرسال کی کتابیں حسین گنج کی صرف ایک دوکان پر ملتی ہیں اور تب وہ چھوٹی تھیں تو ان کی کتابیں ناری کلا مندر میں ملتی تھیں جو پتلی ہونے کے باوجود سیکڑوں روپے کی ہیں، یونیفارم اور جوتے کی دوکانیں بھی مخصوص ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر اس کے بچے سرکاری اسکول میں
پڑھیں تو اس جیسے ماں باپ سرکار کو دعا دیں گے۔ یہ بات اب ثابت ہوچکی ہے کہ صرف لیڈروں نے اپنی لڑکیوں اور جاہل لڑکوں کے لیے پرائیویٹ اسکول کھولے اورسرکاری اسکولوں کو صرف اس لیے برباد کردیا کہ وہ ان کے جاہل بچوں کے روزگار میں رکاوٹ تھے۔ حکومت آتی ہے اور جاتی۔ وزیر تعلیم سرکاری اسکولوں کا ماتم کرتے ہیں لیکن ان کو اسکول بنانے کی کوئی کوشش نہیں کرتے۔ زیادہ تر ا سکولوں میں پڑھانے والے تو 6ہیں لیکن پڑھنے والے 4ہیں ظاہر ہے کہ یہ سازش نہیں تو کیا ہے؟
وزیر اعلیٰ یوگی اگر ڈنڈے مار کر پرائیویٹ اسکولوں کی فیس کم کرادیں گے یا داخلہ کی فیس کم کرادیں گے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔انھوں نے بھی ہر پڑھنے والے بچہ کی طرح یہ کھیل ضرور کھیلا ہوگا کہ ایک لائن کھینچ کر سب بچوں سے کہا کہ اس لائن کونہ سٹاؤ نہ کاٹو نہ چھوؤ۔ مگر چھوٹا کردو۔ اور کوئی تیز دماغ کا بچہ آیا اور اس نے اس لائن کے برابر ایک اس سے بڑی لائن کھینچ دی اور کہا لو یہ چھوٹی ہوگئی۔ یہی وزیر اعلیٰ کو کرنا چاہیے کہ سرکاری اسکولوں کو اپنے دور میں بڑی لکیر بنادیں اور ہر پرائیویٹ اسکول کو چھوٹا کردیں۔ ہر اسکول سے اچھی پڑھائی اچھا یونیفارم اچھی اور سستی کتابیں صرف ضرورت بھر کاپیاں ا ور کوئی پابندی نہیں کہ کس دوکان سے خریدو، بازار کی ہر دوکان پر سب کچھ ملے۔ اور معیارایسا ہوجائے کہ ایم ایل اے یا وزیروں سے سفارش کرانے کے لیے لوگ آئیں کہ ہمارے بچہ کا فلاں سرکاری اسکول میں داخلہ کرادیں۔پرائیویٹ اسکول میں 5یا زیادہ سے زیادہ ۱۰ ہزار تنخواہ ملتی ہے جبکہ سرکاری اسکولوں میں 20سے 40ہزار تک تنخواہ اور پھر ریٹائر ہونے کے بعد خود کو پنشن اور مر گئے تو بیوی کو پنشن پھر غیر شادی شدہ لڑکی کو پنشن گویا ایک آدمی کی نوکری سے پورے خاندان کی پرورش اور پھر بھی انعام صفر۔ اس سے زیادہ فضول خرچی کیا ہے؟ اور اگر سرکاری اسکولوں کا سدھار نہ ہو سکے تو ہائی اسکول تک کی تعلیم سرکاری طور پر بند کردی جائے اور سب کو رٹائر کرکے اسکول کی اپنی عمارت ہو تو فروخت کردی جائے کرائے کی ہو تو خالی کردی جائے اس سے حکومت کا اربوں روپیہ برباد ہونے سے بچ جائے گا۔ اس کے بعد پرائیویٹ اسکولوں پر پوری پابندی لگا دی جائے۔ غضب خدا کا کہ جگہ سو بچوں کی ہے اور فارم ہزاروں فروخت کردیتے ہیں اور صرف فارم سے ہی لاکھوں کما لیتے ہیں لیکن وہ سب نیتا ہیں اس لیے ان کو لگام کون لگائے؟