ان معصوم اور بے گناہوں کے قتل کا ذمہ دار آخر کون ؟ سہیل ذکی الدین

آج کل ملک میں گؤرکشکوں کے نام پر ایک نئی فوج کھڑی ہوئی ہے۔ یہ اپنے آپ کو گائے کے محافظ کہتے ہیں۔ ایسا دکھائی دے رہاہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینا ،کسی کا بھی قتل کرنا، عوتوں کی عصمت سے کھیلنا ، اور ہر طرح کے غیر قانونی کام کرنا انھیں جائز ہے۔ان گؤ رکشکوں نے ملک میں کئی مسلمانوں کا سرعام قتل کیا ہے۔ آخر کسی کی عزت سے ان گؤ رکشکوں نے جگہ جگہ ہندو چوکی بنا رکھی ہے؟ حکومت نے ان چوکیوں کو آخر کیوں نظر انداز کر رکھا ہے؟ گؤ رکشا کے نام ر ہتھیاروں شع لیس نوجوان آنے جانے والوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ کیا انھیں حکومت کی سرپرستی حاصل ہے؟ ۲۸ ؍ ستمبر ۲۰۱۵ء کو اتر پردیش کے دادری ضلع کے بشیرا گاؤں میں رہنے والے ۵۲ سال کے محمد اخلاق سیفی اور ان کے گھر والوں پر گاؤ کے لوگوں نے اس شک میں حملہ کیا کے اُن کے فریج میں گائے کا گوشت ہے۔ لاٹھیوں اور پتھروں سے اخلاق اور ان کے گھر والوں کو پیٹا گیا۔

رات کے ۳۰۔۱۰ بجے ہوئے اس حملے میں محمد اخلاق سیفی کا انتقال ہو گیا۔ایف آئی آر کے مطابق موقع واردات سے ۲؂ دو کلو گوشت حراست میں لیا گیا اور فارنسک رپورٹ کے مطابق لیب میں ۵ء۴ کلو گوشت پہنچایا گیا تھا۔ پہلے یہ رپورت آئی کی گوشت بکرے کا ہے ، بعد میں رپورٹ تبدیل ہو گئی۔ دنیا بھر میں جو مقتول ہوتا ہے اُس کی نعش(dead body) کا پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کیس میں اخلاق کی نعش کی جانچ سے پہلے اُن کے فریج میں کون سے جانور کا گوشت تھا اُ کی جانچ ہوئی۔ اخلاق کے قتل میں گرفتار ۱۵ قاتلوں میں سے ایک قاتل روی سیسوڈیا پولس حراست میں چکن گنیا اور گردے فیل ہونے کی وجہ سے چل بسا۔ اکھلیش حکومت نے اس کے گھر والوں کو ۲۰ لاکھ کا معاوضہ دیا تھا۔ گاؤ ں والوں نے اّ س کی نعش کو ترنگے جھنڈے میں لپیٹ کر اس طرح سے اُس کی آخری رسومات ادا کی جیسے کہ وہ بہت بڑا دیش بھکت یا شہید ہو۔ گؤ رکشکوں کے ذریعے ۱۵ ؍ اکتوبر ۲۰۱۵ ء کو ہماچل پردیش کے سرمور ضلع کے چھوٹے سے گاؤں لواسا میں رہنے والے ۲۲ سال کے نعمان پر گؤ رکشکوں نے حملہ کیا۔ اُس کی ٹرک کو گھیر لیا اور اُسے اور اُس کے چار ساتھیوں کو بے حد زدکوب کیا ۔ نعمان اُن گؤ رکشکوں کی مار برداشت نہ کر پایا یور چل بسا۔ اُدھر سری نگر کے مقامی رُکن پارلیمنٹ نے کی دی ہوئی بیف پارٹی کی مخالفت میں وہاں کے گؤ رکشکوں نے کچھ گاڑیوں پر حملہ کیا۔ اس حملے میں ایک ٹرک کا کلینر زاہد احمد جل کر خاک ہو گیا۔ یہ واقعہ ۱۰ ؍ اکتوبر ۲۰۱۵ء کو ہوا۔ رانچی ، جھارکھنڈ میں ۱۸؍ مارچ ۲۰۱۶ء کو دو لوگ اپنے جانورو ں کو جمعہ کے ہفتہ واری بازار میں بیچنے کے لیے لے جارہے تھے ۔ ۳۵ سالہ محمد مظلوم اور ۱۳ سالہ آزاد خان عرف ابراھیم کو گؤرکشکوں نے راستے میں لٹھیر ضلع کے بالومتھ کے جنگلات میں مار کر اُن کی لعشوں کو جھاڑ پر ٹانگ دیا۔ اُن کا جرم صرف یہی تھا کہ وہ مسلمان تھے اور جانوروں کی خرید و فروخت کرتے تھے۔ اُنھیں پہلے بے رحمی سے پیٹا گیا پھر اُن کے منہ میں کپڑا ٹھوس کر اُن کے ہاتھوں کو پیٹھ پر باندھ دیا گیا اور انھیں درخت پر پھانسی کے پھندے سے لٹکا دیا گیا۔اس معاملے میں انجان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ان قتل کے ذمہ دار آخر کون ہیں؟ ۱۱ ؍ جولائی ۲۰۱۶ء کو گجرات کے گیر سومناتھ ضلع کے موٹا سمادھیالیہ گاؤ ں میں ۴ دلتوں کو کچھ گؤ رکشک کار سے باندھ کر اُنا شہر تک لے گئے اور وہاں بیچ چوراہے پر سب کے سامنے لوہے اور لکڑی کے ڈنڈوں سے ان کی بے تحاشہ پٹائی کی۔ ان پر یہ الزام لگایا کہ انھوں نے گائے کو مارا ہے۔ لیکن وہ بیچارے تو مری ہوئی گائے پر سے چمڑا نکال رہے تھے۔ انھوں نے اس گائے کو نہیں مارا تھا۔ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے وہ دلت اُس مری ہوئی گائے کے چرم کو بیچ کر گزارا کرنے والے تھے۔ جماترا جھارکھنڈ ہی میں ۳؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء کو ۲۲ سال کے نوجوان منہاج انصاری کو پولس نے اپنی حراست میں لیا۔ وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ دسہرہ اور محرم کے دوران شہر میں امن قائم کرنے کی غرض سے اُسے حراست میں لیا گیا ہے۔ منہاج ایک واٹس اپ گروپ چلاتا تھا۔ جس پر بیف کے تعلق سے کوئی میسیج وائرل ہوا تھا۔ اُس کا یہی گناہ تھا کہ وہ اُس گروپ کا ایڈمن تھا۔ ۹ ؍ اکتوبر تک پولس کسٹڈی میں اُسے اتنی بے رحمی سے پیٹا گیا کہ اُس کا انتقال ہو گیا۔آفیسر انچارج سب انسپکٹر ہریش پاٹھک کے خلاف ایف آئی آر در ج ہو ئی اور اُسے معطل بھی کردیا گیاہے۔ ایک سال کی بیٹی کا بے قصور باپ منہاج انصاری کے قتل کا ذمہ دار آخر کون ہے؟ ۲۴ ؍ اگست ۲۰۱۶ء کو ہریانہ کے میوات ضلع میں ایک ۲۰ سالہ اور ایک ۱۴ سالہ لڑکی پر گینگ ریپ کیا گیا، ان کے گھر والوں کو گھر میں بند کر کے پیٹا گیا او ر انھیں اتنا مارا گیا کہ ان کی موت واقع ہو گئی۔ ان پر یہ الزام تھا کہ ان لوگوں نے گائے کا گوشت کھایا ہے۔ اسی دوران میوات کے ساتھ ساتھ وہاں ہائی وے پر آنے والے کئی گاؤں جیسے کہ نوح، فیروز پور جھرکا ، نگینہ ، پنہانا ، بھڈاس اور شاہ چوکا کی کئی ہوٹلوں کی بریانی ضبط کی گئی اور اسے حسار کی لالہ لچپت رائے یونیورسٹی آف ویٹرنیٹی اینڈ دی اینیمل سائنس میں جانچ کے لیے بھیجا گیا۔ گائے کا گوشت کھانے کے جرم میں اپنی عصمت لٹا بیٹھی دونوں بہنوں کے مجرم اور جن کا قتل ہوا ان کے قاتل کون ہیں؟ اتر پردیش میں حکومت کی تبدیلی کے بعد حکومت کی جانب سے جانوروں کو ذبح کرنے ک مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ ان جگہوں کو سیل کر دیا گیا۔آخر کار اتر پردیش کے الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو یہ کہہ کر پھٹکار لگائی کہ لوگوں کے کھانے پینے پر آپ روک نہیں لگا سکتے ۔ یکم اپریل ۲۰۱۷ء کو جئے پور کے بازار سے گائے کے دودھ کا بیوپار کرنے والے لوگوں پر گؤ رکشکو ں نے حملہ کیا۔ جانوروں کو خرید کر لے جانے والے ۵ لوگوں کے ٹرک پر حملہ کیا۔ اس ٹرک کا ڈرائیور ارجن غیر مسلم تھا اسی لیے اسے چھوڑ دیا گیا اور باقی ۴ لوگوں کو روڈ پر دوڑا دوڑا کر مارا گیا۔ ۳۵ سال کے پہلو خان نامی شخص کو اتنا بے تحاشہ مارا کہ دوران علاج وہ چل بسا۔ پہلو خان کو مارتے ہوئے گؤ رکشکوں کا ویڈیو کافی وائرل ہوا۔ پہلو خان کے قتل کے ذمہ دار آخر کون ہیں؟ بابری سے دادری تک اور دادری سے آج تک ملک میں مسلمانوں پر ہو رہے مظالم کے ذمہ دار ہم کسے سمجھتے ہیں؟ حکومت کسی کی بھی آئے مرتا تو مسلمان اور دلت ہی ہے۔ آخر ایسا کیوں ؟ اس ملک کے آئین نے مسلمانوں کو بھی مساوات کا درجہ فراہم کیا ہے۔ لیکن اکثریت کی جانب سے ہمیشہ اقلیتوں کو اور خصوصاً مسلمانوں کو آخر کیوں دوسرے درجہ کے شہر ی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے؟ حکومت کرنے والے ایک طرف سب کا ساتھ ، سب کا وکاس کی باتیں کرتے ہیں تو دوسری طرف ان کا رویہ اقلیتوں اور مسلمانوں کے تئیں دوہرا نظر آتا ہے۔آخر کیوں۔۔۔؟ ایک طرف آپ نے اتر پردیش ، راجستھان ، مہاراشٹرا اور گجرات میں بیف پر پابندی لائی ہے اور دوسری طرف اروناچل پردیش ، آسام ، منی پور ، میگھالیہ ، میزورم، ناگالینڈ ، سکم، تری پورہ، کیرالا، اور گوا میں آپ بیف کاٹنے کی ، کھانے کی اور اسے ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ ایسا کیوں۔۔؟ زیادہ تر بیف ایکسپورٹرس غیر مسلم حضرات ہیں۔ آپ بیف کے ایکسپورٹ پر بین کیوں نہیں لاتے ؟ اگر گائے اور اس کی نسل کے ساتھ آپ کے جذبات جڑے ہوئے ہیں تو کیا اس کے گوشت کو ایکسپورٹ کرنے میں آپ کو تکلیف نہیں ہوتی؟ گائے کے بہانے کہیں آپ کسی مخصوص مذہب کے لوگوں کے ساتھ انتقام تو نہیں لے رہے ہیں؟ ملک میں موجود سیکولر ذہنیت رکھنے والے لوگوں سے میری گزارش ہے کہ ان فرقہ پرستوں کو بے نقاب کیجیے۔ جانوروں کے لیے انسان کا خون بہانا کون سا دھرم سکھاتا ہے؟ جذبات کی سیاست کرنے والے مندر اور مسجد کے مدعوں پر آج تک ہندو اور مسلمان میں تفریق پیدا تو کرتے ہی تھے، اب جانوروں کے ذریعے بھی سیاست کرنے لگے ہیں۔ انھوں نے گائے کو ہندو اور بکرے کو مسلمان بنا دیا ہے۔ ہماری گنگا جمنی تہذیب کو چند فرقہ وارانہ ذہنیت رکھنے والے لوگوں نے گندہ کر دیا ۔ بے گناہ اور بے قصور لوگوں کو ناحق شہید کیا جا رہا ہے۔ گؤ رکشکوں کے ذریعے جن معصوم اور بے گناہوں کا قتل ہوا ہے ان قتل کے ذمہ دار آخر کون ہیں؟

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam