آج 20 اپریل کی ”شِکر دوپہر“ کو میری سوئمنگ کی خواہش- نصرت جاوید

میرے کچھ چاہنے والے ضرورت سے زیادہ مہربان ہورہے ہیں۔منگل کی شب سے مجھے یہ بات یاد دلاکر شاباش دے رہے ہیں کہ میں نے پیر کی صبح چھپے اس کالم میں ”پیش گوئی“ کردی تھی کہ عمران خان جیسے صف اوّل کے رہ نما صوابی کے نواحی گاﺅں زیدہ جانا شروع ہوجائیں گے۔ وہاں انسان دِکھتے بھیڑیوں کے ایک غول کے ہاتھوں صحافت کے ایک بڑبولے طالب علم کی وحشیانہ ہلاکت کا اس کے والد کو ”پرسہ“ دیا جائے گا۔ایسے ”پرسہ“ کے بعد ”ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا“والی بڑھک لگانا بھی ضروری ہوتا ہے۔یہ بھی ہوگیا ہے۔
اپنے اسی کالم کے اختتامی کلمات میں سپریم کورٹ سے میں نے یہ التجا بھی کی تھی کہ ہمارا ریگولر اور سوشل میڈیا،مشال کی ہلاکت کے بعد سے معاشرے میں مذہب کے نام پر پھیلائے جنون کے بارے میں انتہائی پریشان ہوگیا ہے۔پولیس اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کی بے حسی وغیرہ کے بارے میں کئی تلخ سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ان سوالات سے ریاست اور معاشرے کی جان چھڑانے کے لئے مناسب ہوگا کہ فروری کے آخری ہفتے سے پانامہ کے بارے میں روکے فیصلے کا اب سپریم کورٹ اعلان کرہی دے۔
منگل کی شام سورج ڈھلتے ہی یہ ا علان ہوگیا کہ جمعرات 20اپریل کو دوپہر دو بجے پانامہ قضیے کا فیصلہ سنادیا جائے گا۔اس اعلان کے ٹی وی سکرینوں پر ٹِکروں کی صورت پہنچتے ہی”قوم“ مشال کو فراموش کرنا شروع ہوگئی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے ترجمانوں کا غول اس بات پر اصرار کرتے ہوئے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ دل وجان سے تسلیم کیا جائے گا،ممکنہ فیصلے کے خدوخال اپنی خواہشات کے عین مطابق بیان کرنا شروع ہوگیا۔
ممکنہ فیصلہ وقت سے پہلے سنانے کی دوڑ میں راولپنڈی کی لال حویلی میں بیٹھے بقراطِ عصر یقینا سب پر بازی لے جا چکے ہیں۔پانامہ دستاویزات کی بدولت اٹھے سوالات نے انہیں بھی پریشان کردیا تھا۔ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے وہ ایک فریادی کی صورت سپریم کورٹ بھی پہنچ گئے۔ چونکہ موصوف ہر فن مولا ہوا کرتے ہیں،اس لئے انہیں اپنا کیس پیش کرنے کے لئے کسی وکیل کی معاونت حاصل کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔عزت مآب ججوں نے ان کے ”دلائل“ کو بہت غور اور احترام سے سنا۔
پانامہ قضیے کا ایک اہم فریق ہوتے ہوئے لال حویلی کے مکین اور فتح جنگ میں واقعہ زمین کے ایک چھوٹے رقبے پر کاشت کاری کے ذریعے رزق حلال کمانے والے بقراطِ عصر کئی دنوں سے دعویٰ کررہے ہیں کہ جمعرات کے دن سپریم کورٹ سے تابوت برآمد ہوگا۔اس تابوت میں ”کرپشن“ یا ”قانون“ کی لاش موجود ہوگی۔ انگریزی زبان کے قواعد صرف ونحوکے مطابق وہ جو یک سطری فقرہ ادا کررہے ہیں اسے Either/Orدکھاتا تصور کیا جاتا ہے۔پہیلیوں کی صورت بشارتیں دیتے ایسے فقروں کو تعبیر کی ضرورت نہیں ہوتی۔انہیں قانون کی گرفت میں لانا بھی بہت مشکل ہوتا ہے اور توہین عدالت کا قانون کئی دلاوروں کی زبانیں گنگ کردیتا ہے۔
اس قانون کے ہوتے ہوئے بھی ہمارے بقراطِ عصر نے اپنی بات کہنے کا ڈھنگ ایجاد کرلیا ہے۔میں اگر اس کی تعبیر میں مصروف ہوگیا تو توہین عدالت کے الزام میں دھرلیا جاﺅں گا۔اپنی جان پر آئی مشکل کو رفع کرنے کے لئے میری اَن پڑھ مگر دین دار ماں نے مجھے ایک وظیفہ سکھایا تھا۔میری خوش قسمتی کہ وہ یاد آگیا۔اسے پڑھ کر اپنے جسم پر پھونک مارلی ہے۔لہذا صرف یہ کہنے کی جرا¿ت عطا ہوگئی کہ بقراطِ عصر سپریم کورٹ کو درحقیقت بتارہے ہیں کہ ا نہیں 20اپریل کو ”کرپشن“ کا جنازہ نکالنا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے ”قانون“ کا تابوت برآمد ہونے کی ویسے بھی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔
بقراطِ عصر تو حق گوئی کے ہنر میں یکتا ہیں۔اس ہنر سے محروم اگرچہ انتہائی پڑھے لکھے لوگوں کی اکثریت بھی یہ طے کربیٹھی ہے کہ جمعرات20اپریل کو دوپہر 2بجے کے بعد سے نواز شریف وزیر اعظم ہاﺅس کو خالی کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ہمارے کئی باخبر صحافیوں نے اگرچہ یہ اطلاع اپنے ٹی وی پروگراموں میں کئی ہفتے قبل ہی فراہم کردی تھی کہ نواز شریف وزیر اعظم ہاﺅس سے اپنا ذاتی سامان رائے ونڈ منتقل کرچکے ہیں۔اب شاید وہ خالی ہاتھوں وہاں سے باہر آئیں گے۔اُمید یہی ہے کہ جب وہ خالی ہاتھ وزیر اعظم ہاﺅس سے باہر آئے تو کوئی سرکاری گاڑی انہیں لاہور تک پہنچانے کے لئے استعمال نہیں ہوگی۔اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ پانامہ دستاویز میں بتائی دولت کے انبار سے خریدی کسی گاڑی میں بیٹھیں اور لاہور روانہ ہوجائیں۔
مجھے خبر نہیں کہ نواز شریف وزیر اعظم ہاﺅس سے رخصت ہوکر لاہور بذریعہ سڑک روانہ ہونا چاہیں گے یا نہیں۔موٹروے جیسی سڑکوں پر اپنی گاڑی خود چلانے کا اگرچہ انہیں بہت شوق ہے۔اپنی گاڑی مگر وہ خود چلاتے ہوئے موٹروے یا جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور کے سفر پر روانہ ہوں گے تو سکیورٹی کے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔شاید بہتر یہی ہوگا کہ وہ لاہور جانے کے لئے ہوائی سفر کی تیاری کریں۔پی آئی اے کا کوئی جہاز جمعرات کی شام لاہور جانے کو تیار ہے تو اس کا ٹکٹ ابھی سے خریدلیں۔اگرچہ یہ امکان بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پرپنجاب کے وزیر اعلیٰ کا خصوصی طیارہ موجود ہوسکتا ہے۔وہ اس میں سوار ہوکر بھی لاہور جاسکتے ہیں۔اس طیارے کا ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے ممکنہ طورپر ”نااہل،ٹھہرائے نواز شریف کے سفر کے لئے استعمال مگر مناسب نہیں ہوگا۔محترمہ تہمینہ درانی صاحبہ جو ان دنوں ٹویٹر کے ذریعے اس ملک کو کرپشن سے آزاد کروانے کے جہاد میں مصروف ہیں،اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے نواز شریف کے لئے اس طیارے کے استعمال کو ناممکن بناسکتی ہیں۔ یہ طیارہ میسر نہ ہوسکا تو ایک صاحب ہوتے ہیں چودھری منیر۔ ان کا بھی جہانگیر ترین کی طرح اپنے استعمال کے لئے ایک ذاتی طیارہ ہے۔وہ کس دن کام آئے گا؟
یہاں تک پہنچنے کے بعد اچانک خیال آگیا کہ اپنے ہمہ وقت متحرک ومستعد چینلوں اور ان پر رونما ہونے والے بقراطوں کی ذہانت وبصیرت کے طفیل مجھے جمعرات 20اپریل کی دوپہر آنے والے فیصلے کی خبر معلوم ہوچکی ہے تو میں اس دن ہاتھ میں ریموٹ پکڑے اپنے کمرے میں موجود ٹی وی کے سامنے کیوں بیٹھوں۔کاش مجھے تیراکی کا شو ق ہوتا۔ میں اسلام آباد میں موجود کسی ایسے کلب کارکن ہوتا جہاں ان کے اراکین کے شوق کی تسکین کے لئے سوئمنگ پول بھی موجود ہیں۔جمعرات 20اپریل کی ”شِکر دوپہر“ٹی وی اور سمارٹ فون پر چھائے شوروغوغا سے آزاد ہوا میں وہاں سوئمنگ کررہا ہوتا تو کتنا مزہ آتا۔