عدالتی فیصلہ یا سیاسی طعنہ- حا مد میر

’’میرے دشمن نے مجھے کہا کہ اپنے دشمن سے محبت کرو۔میں نے اس کا کہا مان لیا اور اپنے آپ سے محبت کرنے لگا۔‘‘
یہ الفاظ جبران خلیل جبران کے ہیں اور ان الفاظ پر غور کرنے والوں کیلئے نکتہ یہ ہے کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کے اندر چھپا ہوتا ہے بس اسے پہچاننے کی ضرورت ہے۔ جبران کہتا ہے کہ میں مسافر ہوں اور جہاز ران بھی ہوں۔ میں ہر روز اپنی روح کے اندر ایک نئی دریافت کرتا ہوں۔ ایک اور جگہ جبران لکھتا ہے کہ ہمارا ذہن انسان کے وضع کردہ ’’قوانین کے سامنے سر جھکا دیتا ہے لیکن ہماری روحیں ان قوانین کو قبول نہیں کرتیں۔آپ سوچ رہے ہونگے کہ آج مجھے جبران کیوں یاد آ رہا ہے ؟ ذرا یاد کیجئے۔2012ء میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے توہین عدالت کے ایک مقدمے میں اپنا فیصلہ سنایا تھا ۔ یوسف رضا گیلانی پر الزام تھا کہ منی لانڈرنگ کے ایک کیس کو دوبارہ کھلوانے کیلئے سپریم کورٹ نے انہیں سوئٹزر لینڈ کی حکومت کو خط لکھنے کا حکم دیا لیکن انہوں نے یہ خط نہیں لکھا ۔ خط نہ لکھنے کی پاداش میں انہیں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا گیا اور یوں وہ وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیئے گئے ۔ فیصلہ سنانے والے پانچ میں سے ایک جج آصف سعید کھوسہ تھے جنہوں نے فیصلے میں جبران خلیل جبران کا باربار حوالہ دیا تھا اور کہا تھا کہ جو قومیں طاقتور لوگوں کا احتساب نہیں کرتیں وہ تاریخ میں زندہ نہیں رہتیں۔ 2012ء میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا آج پانچ سال کے بعد انہیں پاناما کیس میں وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے بارے میں فیصلہ سنانا ہے ۔ یوسف رضا گیلانی کی تقدیر کا فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے کیا ۔ نوازشریف کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کو کرنا ہے ۔ گیلانی پر توہین عدالت کا الزام تھا ۔نواز شریف اور ان کے خاندان پر منی لانڈرنگ اور اثاثے چھپانے کا الزام ہے۔ گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ عمران خان اور خواجہ محمد آصف نے دائر کیا تھا۔ نواز شریف کے خلاف مقدمہ بھی عمران خان نے دائر کیا ہے اور خواجہ محمدآصف اپنے لیڈر کا دفاع کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ مکافات عمل ہے لیکن ایسے مہربان بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ پاکستان کی عدالتیں نواز شریف کے خلاف فیصلے نہیں دیا کرتیں۔یہ ایک سیاسی طعنہ ہے جسے غلط ثابت کرنے کیلئے کئی دلائل دیئے جا سکتے ہیں لیکن اس طعنے کی اصل وجہ اپریل 1993ء کا وہ فیصلہ ہے جو سپریم کورٹ نے نواز شریف کے حق میں سنایا تھا۔
آئیے آج میں چند سطور میں آپ کو اپریل 1993ء سے اپریل 2017ء تک کا ایک سفر کرائوں۔اس مختصر سے سفر میں آپ کی حیرانی کے بہت سامان سےموجود ہیں ۔حیرانی اس لئے کہ 1990ء میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کیا تو سپریم کورٹ نے صدر کے فیصلے کو بالکل درست قرار دیا ۔ 1993ء میں اسی غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کوبرطرف کیا تو سپریم کورٹ نے صدر کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے نواز شریف کی حکومت بحال کر دی تھی ۔ صدر نے وزیر اعظم نواز شریف کو 18اپریل 1993ء کو برطرف کیا اور سپریم کورٹ نے صرف ایک ہفتے کے بعد 26اپریل 1993ء کو نواز شریف کی حکومت بحال کر دی۔ اس پورے مقدمے کی تفصیل ’’نواز شریف بمقابلہ غلام اسحاق خان ‘‘ کے نام سے ایک کتاب میں اکٹھی کی گئی یہ کتاب مرزا عزیز ا لرحمٰن ایڈووکیٹ نے مرتب کی اور یہ کتاب اس وقت کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے اپنے دستخطوں سے مجھے عنایت کی تھی۔ نسیم حسن شاہ صاحب نے اپنے دستخطوں کے اوپر انگریزی میں یہ بھی لکھا کہ ہمیشہ اوپن مائنڈ رکھو۔ آج اسی اوپن مائنڈ کے ساتھ میں نے اس کتاب کی دوبارہ ورق گردانی کی تو بار بار میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلتی رہی ۔آپ تو جانتے ہیں کہ نسیم حسن شاہ صاحب اور جسٹس آصف سعید کھوسہ میں کیا رشتہ ہے ؟شاہ صاحب کھوسہ صاحب کے سسر ہیں اللہ ان کی مغفرت کرے ۔
جسٹس نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں نواز شریف حکومت کو بحال کرنے والے بینچ میں جسٹس شفیع الرحمٰن، جسٹس سعد سعود جان، جسٹس عبدالقدیر چودھری، جسٹس اجمل میاں، جسٹس افضل لون، جسٹس رفیق تارڑ، جسٹس سلیم اختر، جسٹس سعید الزمان صدیقی اور جسٹس فضل الٰہی خان شامل تھے ۔ ان دس ججوں نے نواز شریف کے حق میں فیصلہ دیا صرف ایک جج جسٹس سجاد علی شاہ نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا اور کہا کہ لاہور کے وزیراعظم کو بحال کیا جاتا ہے لاڑکانہ کی وزیر اعظم کو بحال نہیں کیا جاتا۔ اور سنئے عدالت میں نواز شریف کا دفاع کرنے والوں میں سابق اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار کے علاوہ خالد انور، خالد اسحاق، ذکی الدین پال، آفتاب فرخ، اکرم شیخ، اشتر اوصاف علی اور میاں ثاقب نثار شامل تھے ۔ ثاقب نثار آج چیف جسٹس آف پاکستان ہیں اور شاید اسی لئے انہوں نے پاناما کیس سننے سے معذرت کرلی کیونکہ 1993ء میں وہ نواز شریف کا دفاع کرنے والے وکلاء میں شامل تھے ۔ اشتر اوصاف علی آج اٹارنی جنرل بن چکے ہیں۔ 1993ء میں عدالت میں صدر غلام اسحاق خان کی وکالت کرنے والوں میں اٹارنی جنرل عزیز اے منشی، مقبول الٰہی ملک، فقیر محمد کھوکھر، چودھری اعجاز احمد اور مخدوم علی خان بھی شامل تھے ۔ اب مخدوم علی خان پاناما کیس میں نواز شریف کے وکیل ہیں ۔
1993ء میں نواز شریف کے حق میں فیصلہ دینے والے بینچ پر نظر ڈالیں اور اوپن مائنڈ کے ساتھ نوٹ کریں کہ جسٹس نسیم حسن شاہ صاحب پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ بنائے گئے ۔جسٹس رفیق تارڑ کو مسلم لیگ (ن) نے صدر پاکستان بنایا ۔جسٹس سعید الزمان صدیقی بھی مسلم لیگ (ن) کے صدارتی امیدوار بنے اور آخری دنوں میں سندھ کے گورنر بنائے گئے ۔ منصفوں کو ان عہدوں پر بیٹھناچاہئے یا نہیں ؟ یہ ایک لمبی بحث ہے البتہ جبران نے یہ ضرور کہا تھا کہ تاریخ اپنے آپ کو انہی لوگوں کے سامنے دہراتی ہے جو تاریخ سے ناواقف ہوں ۔اپنی تاریخ پر نظر دوڑا لیں ۔اپنے عدالتی فیصلے میں جبران کے جملے نقل کرنے والے جج پاناما کیس کا فیصلہ لکھتے ہوئے جبران کو سامنے رکھیں گے یا نہیں ؟ مجھے نہیں معلوم کہ فیصلہ کیا آئے گا ۔ مجھے صرف یہ معلوم ہے کہ 2012ء میں یوسف رضا گیلانی کو اس جرم کی سزا ملی تھی کہ انہوں نے منی لانڈرنگ کے ایک مقدمے کی تحقیقات کو آگے بڑھانے کیلئے عدالتی حکم کو نظرانداز کیا ۔ کیا پاناما کیس میں بھی عدالت کی طرف سے وزیر اعظم کو ایسا کوئی حکم دیا جاسکتا ہے ؟ امید ہے کہ یہ فیصلہ کسی فرد کو کمزور یا مضبوط نہیں کرے گا بلکہ ریاست اور اس کے اداروں کو مضبوط کرے گا اور آئندہ کوئی گستاخ، 1993ء کے عدالتی فیصلے کو اپنا سیاسی طعنہ نہیں بنائے گا ؟