پانامہ کیس، فیصلہ پر بریکنگ نیوز - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

آپ سب تو ہمت والے لوگ ہیں، لیکن میں ان پیرانِ تسمہ پا اور ان کے پیغامات سے سخت بیزار ہوں.

اچانک واٹس ایپ کی اطلاعی گھنٹی بجے گی، معلوم ہوگا پاٹ دار آواز میں ایک صاحب ہدایات جاری کر رہے ہیں. لاہور والے فلاں مارکیٹ اور فلاں شاپنگ مال اور مزید فلاں فلاں ریستوران تشریف نہ لے جائیں، بم حملہ کا خطرہ ہے. آپ اس فلاں کی لسٹ دیکھتے ہیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ گھر سے ہی نہ نکلیں. ابھی آپ سوچ ہی رہے ہوتے ہیں کہ وہی آواز ایک بار پھر سماعت سے ٹکراتی ہے کہ میں موٹر وے پر ہوں اور کچھ دیر میں لاہور پہنچ رہا ہوں. گویا پہنچتے ہی ایسا حصار کھینچوں گا کہ لاہور کے اردگرد موجود سب خودکش بمبار بھسم ہو کر رہ جائیں گے.

کون کہتا ہے کہ پانامہ کا فیصلہ محفوظ تھا؟ کم از کم چار دفعہ تو مجھے کسی مہربان نے اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا کہ ’’سب طے ہو چکا‘‘ بلکہ ایک ’’بابا‘‘ تو کچھ زیادہ ہی excited ہوگئے. پانامہ کا سارا فیصلہ بتا دیا اور کہا کہ یہ نہایت خفیہ ہے. میسج کا ٹائٹل تھا.
Highly Confidential, Breaking News.
اب اگر یہ خفیہ ہے تو بریکنگ نیوز کاہے کی، اور اگر بریکنگ نیوز ہے تو پھر خفیہ، چہ معنی؟

ایک اور بندہ، جو اپنے اعتماد کے حساب سے تو ان پانچ ججوں میں سے ہی ایک ہو سکتا تھا، اس لہجہ میں مخاطب تھا گویا کہہ رہا ہو بیٹا ساری عمر کی نیک نامی داؤ پر لگا کر بتا رہا ہوں. فیصلہ کل آ جائے گا. میرے بچو رکھنا سنبھال کے! ایسا لگا جیسے صدیوں کا بوجھ اس خاکسار کے ناتواں کندھوں پر آن پڑا ہو. آج اس بات کو بھی تین ہفتے گزر گئے.

ابھی ابھی ایک اور اطلاع پہنچائی گئی ہے کہ مریم صفدر بمع اہل و عیال و اسحاق ڈار آج رات ملک سے فرار ہونے کو ہیں. ان محترم سے عرض ہے کہ بھائی ہمارا کوئی لین دین بھول چوک باقی نہیں، ان میں سے کسی کی طرف. آپ کیوں تکلیف کر رہے ہیں ہمیں بتانے کی. نہیں مانے. تین چار اور نمبروں سے یہی پیغام پھر آ گیا. میں نے کہا لگے رہو میاں، تمہارے خلوص کا بدل ہمارے پاس تو ہے نہیں.

یہ بھی پڑھیں:   کیا میاں نوازشریف کی واپسی ممکن ہے؟ عبیداللہ عابد

بس میری درخواست آپ لوگوں سے ہے. اللہ تعالٰی کو حاضر ناظر جان کر کہیے، کبھی ان وارننگز، خیر خواہانہ اطلاعات یا ’’اندر کی باتوں‘‘ کو سچ ہوتے دیکھا؟ کبھی؟
تو پھر آپ انہیں فارورڈ کیوں کر دیتے ہیں؟ ?

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں