بیٹی کی تعلیم کیوں ضروری ہے؟ ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

کوئی بھی پیر سب سے پہلے اپنے گھر سے پیر بنتا ہے.
کوئی اپنی بہو یا داماد کو ڈاکٹر، پائلٹ، انجینئر نہیں بناتا. سب اپنی اولاد پر انویسٹ کرتے ہیں، وقت بھی اور پیسہ بھی، محنت بھی اور محبت بھی.

ہر کوئی اپنی اولاد کے لیے ایک پڑھا لکھا بر تلاش کرتا ہے. بیٹوں کو تو اکثر ہی والدین پڑھاتے ہیں کیونکہ وہ ان کا مستقبل ہوتے ہیں جبکہ بیٹیوں کو پڑھانے میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتے کہ انہوں نے کون سا کام کرنا ہے، اگلے گھر ہی جانا ہے. بچیوں کی کم تعلیم بھی رشتے نہ ہو پانے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے.
اب شعور آ رہا ہے اور والدین نے اولاد میں صنفی امتیاز برتنا کم کر دیا ہے. بیٹے ہوں یا بیٹیاں، اب سمجھدار ماں باپ پڑھانے لگے ہیں.

والدین اگر یہ سوچتے ہیں کہ بیٹی کو ڈاکٹر انجینئر بنا دیا تو سسرال والے نوکری کروائیں گے، اس لیے بیٹی کو سادہ سا ایف اے بی اے کروا دیتے ہیں، تو ان کے اس بھولے پن پر صرف اتنا ہی سمجھانا چاہوں گی کہ محترم والدین آپ کی بیٹی نے اگلے گھر میں کام تو کرنا ہی ہے. اب یہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ اس کے لیے چولہا چوکی برتن اور کپڑوں کی دھلائی کے ساتھ محض مسز فلاں کی شناخت پسند کرتے ہیں یا اسےگھر سے ڈاکٹر، انجینئر، کپتان یا افسر بنا کر بھیجتے ہیں. جہاں آپ کی بیٹی کی نہ صرف اپنی پہچان ہو بلکہ ٹیبل کرسی آفس والی افسری بھی ہو.

ماں باپ اپنی اولاد کو جو سب سے بہتر تحفہ دیتے ہیں، وہ اچھی تعلیم و تربیت ہے.

اکثر والدین بیٹی کو تربیت تو دیتے ہیں، ساس سسر کو ماں باپ سمجھنے کی یا اچھے اخلاق و برتاؤ کی، اچھا اوڑھنے پہننے یا کھانا پکانے کی لیکن تعلیم میں ڈنڈی مار جاتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   ویران بستی کا نوحہ - سائرہ ممتاز

اچھے والدین! سدا حالات ایک سے نہیں رہتے. کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں. اللہ سب کےگھر سدا سکھی اور سلامت رکھے لیکن طلاقیں بھی اسی معاشرے میں ہوتی ہیں، اور آئے دن کے حادثات و بم دھماکوں نے بیوگی کی شرح بھی بڑھا دی ہے. اب ایسی صورتحال میں ایک عورت اگر بےہنر ہو تو یا تو سسرال کے ٹکڑوں پر آئے گی یا پھر بھائیوں کےگھر بھابیوں کی جوتیوں میں کھائے گی.

اچھا ایسا نہ بھی ہو. اگر شوہر کی آمدنی ہی کم ہو اور آپ کی بیٹی اس کا ساتھ دے گی تو کس کی عزت ہے، اور کس کی بیٹی سکھی رہے گی. آج کل کا سکھ معاشی خوشحالی سے مشروط ہے.

میرا ماننا ہے کہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں، تعلیم دونوں کی برابری کی بنیاد پر ہونی چاہیے، مواقع برابر کے ہوں، صنفی امتیاز نہ برتا جائے.
ہاں! ہونہار بچہ (لڑکا یا لڑکی) اپنی قابلیت کے بل بوتے پر جتنا آگے نکل جائے، وہ قدرت کا چناؤ ہو. ہر بچہ ہنر حاصل کرے.

پروفیشنل تعلیم سب کے لیے، چاہے وہ پائپ فٹنگ یا ٹیلرنگ ہو یا جہاز اڑانا.
سادہ ایف اے ، بی اے آخر کیا کر لیں گے. زیادہ سے زیادہ؟

تونگری بہ ہنر است نہ بہ مال
دانائی بہ عقل است نہ بہ سال
خوشحالی ہنر سے آتی ہے مال و زر سے نہیں
دانشمندی عقل کی دین ہے عمر کی نہیں.

محترم والدین!
اپنی بیٹی کو اپنے گھر سے پیر بنا کر بھیجیں تاکہ اگلے گھر میں بھی اس کی گدی مستحکم ہو.

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں