مشعال خان اور نورین لغاری، تصویر کے دو رخ - ثمینہ رشید

مشعال خان کے بہیمانہ قتل کی تفتیش میں ہر روز ناقابل یقین قسم کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ یہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ ایک یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک طالب علم کے قتل کی سازش کی اور اس کو انجام تک پہنچایا۔

مشعال خان کے دوست عبداللہ اور یونیورسٹی کے ایک طالبِ علم وجاہت خان کے بیان نے اس ظلم کی داستان کے ایسے پہلوؤں پہ روشنی ڈالی ہے جو احاطہ تصور میں لانا بھی مشکل ہے۔ وجاہت خان کے بیان کے مطابق اس نے یونیورسٹی انتظامیہ کے کہنے پر مشعال خان پہ توہینِ رسالت کا الزام لگایا۔ اس ضمن میں تحقیقات جتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں، اس پر خیبر پختونخواہ کی حکومت کا مثبت کردار قابلِ ستائش ہے۔

اس ضمن میں مولانا طارق جمیل اور خادم حسین رضوی جیسے علماء کی طرف سے واقعے کی مذمت دیکھنے میں نہیں آئی۔ اگر، مگر، چونکہ سے شروع ہونے والی سوشل میڈیا کی پوسٹس نے بہت سے لوگوں کو مایوسی کے سوا کچھ نہ دیا۔ مانا کہ اس سازش میں مرکزی کردار عبدالولی خان یونیورسٹی کی انتظامیہ، اے این پی اور پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور تحریک انصاف کے کونسلر اور اس کے سٹوڈنٹ ونگ کا ہے لیکن وہیں اس سلسلے میں ایک اسلامی جماعت سے تعلق رکھنے والے طالب علم کا نام بھی سامنے آیا ہے۔

لیکن کیا کوئی اس بات سے انکار کرسکتا ہے کہ اس سازش کے پسِ پردہ عناصر نے اپنی کرپشن اور مشعال خان کی آواز دبانے کے لیے جو ہتھیار استعمال کیا، وہ توہینِ رسالت کا ہے۔ توہینِ رسالت کے قانون کو اس انتہا پسندی تک لانے والی تو وہی جماعتیں ہیں جو مسجد و منبر سے انتہا پسندی کا زہر معاشرے میں اس حد تک پھیلا چکی ہیں کہ اس عفریت کو کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ اسی لیے مخالف نظریات رکھنے والی جماعتوں نے بھی معاشرے کی نفسیات پہ ہاتھ رکھا اور انُ کے ہاتھ میں توہین رسالت کا ہتھیار تھما دیا۔

سوشل میڈیا نے اس سلسلے میں جس قدر اہم کردار ادا کیا ہے وہ انتہائی قابلِ قدر ہے۔ پہلی مرتبہ سوشل میڈیا کی قوت اپنے آپ کو منواتی ہوئی محسوس ہوئی ہے۔ اس کے بعد روایتی میڈیا نے بھی آنکھوں سے پٹی اتار دی۔ صاحب اقتدار لوگوں کو بھی اندازہ ہوگیا کہ کنٹرولڈ میڈیا کے باوجود عوام ایک طاقت ہیں، ان کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔ جس قدر تیزی سے اس کیس میں تفتیش آگے بڑھ رہی ہے، یہ ہم سب کے لیے باعث اطمینان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمان ہی مورد ِ الزام کیوں؟ - قادر خان یوسف زئیؔ

اور اس پورے معاملے میں مفتی نعیم کا ذکر کرنا بےجا نہ ہوگا جنہوں نے کھل کر اس ظلم کی مذمت کی ہے اور اقرار کیا ہے کہ توہینِ رسالت کے قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ مشعال کو شہید کہے جانے کا ان کا بیان اندھیرے میں ایک روشنی کی کرن کی طرح ہے۔ ایک امید کہ اتنے سارے منفی ردعمل میں کوئی ایک تو مثبت پہلو بھی بھی آیا۔

ابھی مشعال خان کے معاملے پر لوگوں کے دل بوجھل تھے کہ نورین لغاری کی گرفتاری اور بیان نے ایک ایسے سیاہ باب کی نشان دہی کی ہے جس نے ہر ذی شعور کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل غائب ہونے والی نورین کے بارے میں پہلے ہی شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ داعش میں شامل ہونے کے لیے گھر سے چلی گئی ہے، لیکن نورین کے گھر والے مسلسل مصر تھے کہ یہ اغواء کا کیس ہے۔ نورین لیاقت میڈیکل کالج میں سال دوم کی طالبہ تھی اور اس کے والد کا تعلق بھی تعلیم و تدریس کے شعبے سے ہے۔ لیاقت میڈیکل کالج کے وائس چانسلر نے یونیورسٹی میں شدت پسند عناصر یا گروہ کی موجودگی کی تردید کی ہے۔ نورین نے لاہور میں 14 اپریل کو گرفتاری کے بعد انکشاف کیا ہے کہ اسے ایسٹر تہوار پہ لاہور میں کسی چرچ پہ خودکش حملے کرنے کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

اب آپ مشعال خان اور نورین لغاری کے واقعات کا جائزہ لیں۔ ایک ذہین طالب علم، انتظامیہ کے ظلم سے نہ ڈرنے والا، اپنے اور دوسروں کے حقوق، ناانصافی کے لیے آواز اٹھانے والا انسان جسے اب تک کی کارروائی کے مطابق توہینِ رسالت کو ہتھیار بنا کر قتل کیا گیا۔ دوسری طرف ایک میڈیکل کالج کی طالبہ جس کے والد بھی سندھ یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں، اپنی مرضی سے دہشت گردوں کے ساتھ شامل ہوجاتی ہے، اور پھر گرفتار ہونے پر اقرار کرتی ہے کہ اس کا خودکش دھماکے کی کارروائی میں شامل ہونے کا ارادہ یا منصوبہ تھا۔ یہ دو واقعات ایک اہم حقیقت کی نشانی کر رہے ہیں۔ نئی نسل کو مذہب کی تعبیر یا تو دی ہی نہیں جا رہی یا جو تعبیر دی جا رہی ہے، وہ نورین لغاری جیسے لوگ پیدا کر رہی ہے یا ایسے لوگ جو مذہب کے نام پہ مشعال جیسے لوگوں کو موت کی نیند سلا دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   لڑکیوں میں سوشل میڈیا کا غلط استعمال - سعدیہ نعمان

اب آپ چاہے لاکھ کہیں کہ وہ لبرلز تھے اور یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ قتل پلان کیا۔ لیکن دنیا نے تو یہی دیکھا کہ اللہ اکبر کے نعروں کی گونج میں مشعال کو توہینِ رسالت کے الزام میں بے رحمی سے مار دیا گیا۔ اس واقعے سے پوری دنیا کو جو پیغام گیا، وہ یہ کہ 1990ء سے اب تک تقریبا ساٹھ لوگوں کو اسی قسم کے الزام میں مارا جاچکا ہے۔ ایک طرف توہینِ رسالت کے الزام کے تحت مشعال کی جان لی گئی، دوسری طرف مذہب ہی کے نام پہ نورین لغاری جیسے طالب علم دہشت گردی کا راستہ اپنا رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ان دو انتہاؤں کے بیچ توازن، امن و سلامتی اور رواداری کا راستہ کہاں کھو گیا ہے اور اسے کون تلاش کرے گا؟ جب مرنے والا بھی کلمہ گو اور مارنے والا بھی مسلمان ہونے کا دعویدار تو فیصلہ تو آپ کو کرنا ہوگا کہ آپ کے مذہب کی اصل روح اور پیغام کیا ہے؟ اور آیا آپ ظلم کرنے والے کے ساتھ ہیں یا مظلوم کے ساتھ؟ اور کیا توہین رسالت میں جھوٹا الزام لگانے والا بھی اسی قانون کے تحت اسی سزا کا مستحق ہے یا نہیں؟

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں