توہین رسالت اور طرز احتجاج - ابو محمد

ہماری عوام اسٹیج پر کام کرتے ہوئے اداکار جیسی ہے جسے لاؤڈ ایکسپریشنز دینے پڑتے ہیں، ہنسنا بھی زور سے پڑتا ہے، رونا بھی زور سے، خوشی اور غم کے تاثرات بھی بہت زیادہ کر کے دکھانے پڑتے ہیں کیونکہ معمولی تاثرات تو آس پاس کے شور میں دب جاتے ہیں. منطقی اعتبار سے اسے اجتماعی بےحسی سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے، جہاں آپ کے اطراف پر چھوٹی موٹی چیخ کا اثر ہی نہیں ہوتا. یہ کیفیت اس انتشار و شور کو جنم دیتی ہے جو ہمارے اندر سے اپنی بات منوانے کے لیے اٹھتا ہے، ہم سب کو معلوم ہوتا ہے کہ کسی چھوٹی موٹی چیز یا بات کو تو کسی نے سننا ہی نہیں، معاشرے میں تشدد کی اول وجہ تو یہی شور اور ڈیسپریشن ہے جو ہم سب کے اندر ہے.

اسے دوسرے اینگل سے دیکھیں. مہذب معاشروں میں احتجاج کے لیے شہر کی ایک مخصوص جگہ ہاتھ میں ایک مارکر سے لکھا پلے کارڈ لے کر کھڑے ہو جانا ہی کافی ہوتا ہے، اسے نوٹس بھی کیا جاتا ہے اور اس پر ایکشن بھی لیا جاتا ہے. جبکہ ہمارے ہاں یہ احتجاج اپنے اوپر پیٹرول ڈال کر آگ لگانے سے لے کر لوگوں اور حکومت کی املاک کو نذر آتش کرنے تک سے ریکارڈ کرایا جاتا ہے. جہاں معاملہ سنگین ہو اور یقین بھی ہو کہ اسے حکومت یا ریاستی اداروں نے حل نہیں کرنا، وہاں یہ احتجاج جان لے کر یا جان دے کر ریکارڈ کرایا جاتا ہے.

جان لینے اور دینے تک پہنچے اس طرز احتجاج کو اگر چند مثالوں سے واضع کروں تو ان میں سے ایک ہے تحریک انصاف کا چار حلقے کھولنے کا مطالبہ. یہ آئینی اور قانونی مطالبہ صرف چار حلقے کھولنے تک تھا، اگر اسے تب حل کر دیا جاتا تو بات وہیں ختم ہو جاتی. لیکن یہ مطالبے سے تند و تلخ بیانات، بیانات سے مظاہروں، مظاہروں سے جلسوں، ٹریبیونلز، عدالتیں، سینٹ و اسمبلی، اسمبلی سے لانگ مارچ، لانگ مارچ اور دھرنا اور دھرنے سے لاک ڈاؤن تک جا پہنچا. جب نوبت کشت و خون کی آئی تو سپریم کورٹ نے جمائی لیتے ہوئے مداخلت کر کے انصاف تو نہ دیا لیکن ایک فریق کو نا انصافی سے دبا کر مسئلہ ٹھنڈا کرا دیا. اگر کوئی سمجھتا ہے کہ بات ختم ہوگئی ہے تو یہ غیر منطقی ہوگا. یہی کچھ صورتحال پاناما کیس کی رہی.

یہ بھی پڑھیں:   دی کنٹریکٹر (آخری قسط) - ریحان اصغر سید

بالکل ایسا ہی تب ہوا جب پاکستان میں مقدس ہستیوں کو پیہم گالیوں، کفر کے فتووں اور لعنتوں پر ریاست کو مداخلت کرنے کا کہا گیا، قانون کے دروازے کھٹکھٹائے گئے، مرض بڑھتا گیا کے مصداق بات بڑھتی گئی، گلیوں میں خون خرابوں کے بعد سپریم کورٹ نے مقدمہ سننے کی رضامندی ظاہر کی، مقدمہ چلا، ایک فرقے کی طرف سے ناموس صحابہ و اہل بیت پر رکیک حملوں کے ثبوت پیش کیے گئے، یہ گالیاں پڑھ کر مدعی بھی روئے، وکیل بھی روئے اور جج بھی روئے، اور پھر فیصلہ محفوظ ہو گیا. اس فیصلے کو محفوظ ہوئے آج 25 سال ہو چکے، انصاف نہ ہو سکا. نتیجہ.... ان پچیس سالوں میں پیہم قتل و غارت، مار دھاڑ، دنگے اور فساد .... لیکن ریاست نہ جاگی.

بالکل ایسا ہی تب نظر آیا جب شاتم رسول کو سزا دینے یا مقدمہ میرٹ پر چلانے کا کردار ادا کرنے کے بجائے ایک گورنر ملزمہ کے ساتھ بیٹھ کر اسے رہا کرانے کا عزم کرنے لگا. تب عوام نے گورنر کو بھی نہ چھوڑا. آپ مت مانیں لیکن پاکستان کی پوری تاریخ میں ایسا دوسرا جنازہ نہیں ہوا جیسا ممتاز قادری کا تھا. کیا اب بھی یہ سمجھانے کی ضرورت تھی کہ عوام کیا چاہتی تھی اور انصاف کے تقاضے کیا ہوتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ اگر ریاست بےحس نہ ہو، ذمہ داری پوری کرتی ہو، پلے کارڈ پر، اخباری خبر پر انصاف دیتی ہو تو کوئی چوراہے میں کھڑا ہو کر اپنے آپ کو آگ کیوں لگائے گا؟ اگر ریاست انصاف کی ضمانت دیتی، تو ہمارے اندر ایسا شور, انتشار اور احتجاج کیوں پیدا ہوتا کہ ہم اپنے ہاتھوں انصاف کرنے لگ جاتے.