ایاز نظامی اور درس نظامی - قاضی حارث

پرانے زمانے کا ذکر ہے کسی ملک میں دو کمپنیاں کام کرتی تھیں، دونوں کا کاروبار مصالحہ جات بنانے کا تھا۔ عورتیں اس وقت نئی نئی مصالحہ جات سے متعارف ہوئی تھیں، کہاں سب کچھ کانٹ چھانٹ کر دو گھنٹوں میں بریانی کا مصالحہ تیار کرنا اور پھر بھی کچھ نہ کچھ کمی رہ جانا، اور کہاں تیس روپیہ کا بازار سے ڈبہ منگا کر پتیلی میں انڈیل دینا اور داد سمیٹنا۔ مارکیٹ چند ہی دنوں میں عروج پر جا پہنچی تھی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ دونوں کمپنیاں ایک دوسرے کے مقابل (کمپیٹیٹر) تھیں، دونوں کی کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طرح زیادہ سے زیادہ گاہک کو اپنی طرف کھینچ کر مدمقابل کو شکست دی جائے۔ ایک کمپنی کا مالک بےچارہ شریف آدمی تھا اس نے سوچا یہ ہدف اسی طرح ممکن ہے کہ ہم اپنا منافع کم کرکے قیمتیں گھٹا دیں اور اس طرح گاہک ہمارے مصالحے خریدے گا اور مقابل کو مارکیٹ سے جانا پڑ جائے گا۔
دوسری کپمنی کا مالک چالباز تھا اس نے سوچا کہ منافع گھٹانے کی بجائے کوئی دوسری ترکیب اپنانی چاہیئے کہ جس سے مقابل مارکیٹ سے بھاگنے پر مجبور ہوجائے اور گاہک کیلیئے ہمارے مصالحہ جات کے علاوہ کوئی دوسری چوائس نہ ہو۔ اس کمپنی کے مالکان نے ایک چال کھیلی۔ انہوں نے دوسری کمپنی میں کام کرنے والے پراڈکشن مینیجر کو ڈبل تنخواہ پر کام کرنے کی آفر کی۔ ایسی پرکشش آفر؟ وہ فورا راضی ہوگیا۔ اب ہوا یوں کہ اس کمپنی کے مالکان نے اس کو کہا کہ آپ کو اس کمپنی سے جاب نہیں چھوڑنی بلکہ وہاں رہتے ہوئے ہمارے لیئے کام کرنا ہے۔ آپ کو اس کمپنی کی اسٹریٹجیز ہمیں لیک آؤٹ کرنی ہیں تاکہ ہم ان کا پہلے سے بند و بست کرکے رکھ لیں۔ بہرحال پراڈکشن مینیجر راضی ہوگیا۔ اب وہ تین تنخواہیں اٹھا رہا تھا اور جس کمپنی کا ملازم تھا دراصل ان کا غدار تھا۔ ایک دن دوسری کمپنی کے مالکان نے اس مینیجر کو ایک عجیب سا ٹاسک دیا۔ اس کو کہا گیا کہ جس پلانٹ میں لال مرچ پِس رہی ہے وہاں جا کر لال اینٹ کا برادہ ڈالنا ہے۔ پراڈکشن مینیجر ملازمت پر تھا مجبور ہوگیا۔ جب یہ لال اینٹ کا برادہ ڈالا گیا اور پسی لال مرچ مارکیٹ میں سپلائی ہوگئی اور لوگوں نے کھانوں میں کرکری محسوس کرکے مصالحہ میں پتھر کی آمیزش کی شکایت کی تو چند ہی دنوں میں گاہکوں کی طرف سے طوفان اٹھا اور یہ کمپنی ان سب حالات کا مقابلہ نہ کرتے ہوئے مارکیٹ سے آؤٹ ہوگئی۔ اور اس طرح دوسری کمپنی کے چالباز مالکان اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے، پراڈکشن مینیجر پر کیس ہوا اور عدالتوں کی چکر۔
یہ تو تھی بزنس کے حوالے سے ایک کیس اسٹڈی کہ کس طرح کاروباری حضرات دوسروں کی کمپنیوں میں اپنا بندہ گھسا کر وہاں کا نظام سمجھنے ، مخبریاں کروانے اور وقتا فوقتا ان کو نقصان پہنچا کر مارکیٹ سے آؤٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسی طرح کا کچھ کیس یہاں ہمارے مدارس کا بھی ہے۔ مدارس دینیہ چاہے وہ کسی بھی مسلک کے ہوں، ان کے مقابل کوئی چھوٹی موٹی چیز نہیں بلکہ عالمی طاغوتی طاقتیں ہیں۔ جی ہاں عالمی! اب اس کی وجہ جو بھی ہو اس سے صرف نظر اس حقیقت کو سمجھیئے کہ یہ بات مسلم اور صد فی صد درست ہے کہ مدارس کے مخالفین اپنے لوگوں کو باقاعدہ طور پر مدارس میں داخل کروا کے مخبریاں لیتے ہیں، ان کا نظام سمجھ کر ان کے خلاف اسٹرٹجیز تیار کرتے ہیں اور وقتا فوقتا ان کی "گُڈ وِل" کو متاثر کرنے کیلیئے ان کا نام بھی استعمال کرتے ہیں۔
اس لیئے اس بات کو سمجھ لیجیئے کہ مدرسہ سے پڑھا ہوا ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ شخص ولی الزمان ہوگا بلکہ بدنیت شخص کو آپ لاکھ نصیحت کریں اس پر اثر نہیں ہونے والا۔ وہ عبد اللہ بن ابی کی طرح موقع کا انتظار کرتا ہے۔ بقول شاعر:
لاکھ تو پیار کے منتر رہے پڑھتا قیصر
جن کی فطرت میں ہو ڈسنا وہ ڈسا کرتے ہیں
۔
عین ممکن ہے کہ آنے والے کچھ دنوں میں چند بدنیت اور جہلاء کا تعلق مدرسے سے جوڑ کر مدارس کا نام بدنام کیا جائے۔ اس وقت آپ یہ تحریر اپنے دماغ میں یاد کیجیے گا۔