ترجیح، خوب صورتی یا خوب سیرتی؟ - عثمان حبیب

ہمارے ہاں اکثر سیرت کی باتیں کرنے والے بھی صورت پہ مرتے ہیں اور اکثر خوبصورت چہروں کے گھر بس جاتے ہیں اور پاکیزہ آنکھیں پردوں کے پیچھے روتی رہ جاتی ہیں۔۔۔۔!

دینداری صرف اسی کا نام نہیں کہ نماز روزے کی پابندی کی جائے۔ ہمارے ہاں اکثر اس طرح کے "دیندار" حضرات رشتے میں سب سے زیادہ نخرے دکھاتے ہیں۔۔۔۔!

کسی کے ہاں رشتے دیکھنے جائیں تو ایسا نہیں لگتاکہ رشتہ ڈھونڈنے گئے ہیں بلکہ محسوس ہوتا ہے کسی منڈی میں جانور خریدنے آئے ہیں۔۔۔۔۔گھر واپس آکر وہ عیب بیان کریں گے اور وہ تبصرے کریں گے گویا خود ابھی ابھی کوہِ قاف سے اتر آئے ہوں۔۔۔۔!

رشتہ نہیں پسند تو کچھ فضول کہے بغیر انہیں کہہ دیں کہ ہمارا انتظار نہ کریں۔ ایک ایک عیب بیان کرنا ۔۔۔جوکہ بعض اوقات عیب ہوتابھی نہیں۔۔۔ طعنے دینا، جملے کسنا اسلام تو دور، یہ کہاں کی انسانیت ہے۔۔۔؟؟؟

ذرا دیر کے لیے یہی جملے زیر لب خود سے کہیں!

کیا محسوس ہوا ؟ جن پر آپ یہ جملے کس رہے ہیں انہیں محسوس نہیں ہوگا؟ ان کے دل نہیں ہیں؟ ان کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی؟

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو خوب صورت بنایاہے اور اس کا ذکر اپنے مقدس کلام میں بھی فرمایاہے : لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ ہم کون ہوتے ہیں کسی کو بد صورت کہنے والے؟ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کسی میں عیب نکالنے کا؟جنہیں بد صورت کہاجارہاہے آخر یہ کہاں جائیں گے، ان کے رشتے کن کے ساتھ ہوں گے؟؟؟

یاد رکھیں چاند سی بہو، بیوی آپ کو دن میں تارے بھی دکھاسکتی ہے!!

خوب صورتی کی بجائے اولین ترجیح خوب سیرتی ہونی چاہیے۔ ان پاکیزہ آنکھوں کو پاکیزہ ہی رہنے دیں۔ ان حیادار نظروں کو حیا سے جھکا رہنے دیں، انہیں بے حیائی پر مجبور نہ کریں۔ ان کی سروں سے حیاکی ردا نہ اتاریں۔ آج کسی کی بہن، بیٹی کے بارے میں ریمارکس دے رہے ہیں، توکل کو آپ کی بہن، بیٹی بھی کسی کے طنزیہ جملوں کا شکار ہوگی!!

یہ بھی پڑھیں:   کہاں گئے میرے دیس کے رہنے والے - رانا اورنگزیب رنگا

ان حیاداروں اور دینداروں کو بیاہ کر لائیں اور گھر کو جنت نظیر بنائیں!