کہیے اور سمجھیے ! یا سمجھا دیجئے - گل رانا

دنیا میں کئی طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔لبرل، انتہا پسند، اعتدال پسند۔ہر مذہب میں ایسے افراد موجود ہیں ۔

ہم میں سے ہر اک شخص جتنی بھی تعلیم حاصل کر لے لیکن اپنی فطرت سے دور نہیں بھاگ سکتا۔

ہم جیسے ہیں ویسے ہی رہتے ہیں۔ہم اچھائی اور برائی میں بھی اپنی اپنی پسند کے اچھے اور برے کاموں کا انتخاب کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ ٹھیک ہے؟؟؟

کسی بھی شخص کی شناخت اس کا مذہب ہوتا ہے۔

بات کچھ بھی ہو ۔۔شروع آپ کے مذہب سے ہوتی ہے ۔مثلا اس مسلمان نے یہ کیا، اس ہندو نے یہ کیا ۔یہ عیسائی ہے یا یہ یہودی ہے۔

اس کے بعد آپ رنگ نسل کی بات کرتے ہیں۔

مختلف مزاہب کے مختلف عقیدے ہوتے ہیں اور ان کے ماننے والوں کا اس مذہب سے تعلق جڑ جاتا ہے۔

کوئی بھی مذہب قتل، کسی انسان کو تکلیف پہنچانے، یا نقصان پہچانے کی تعلیم قطعاً نہیں دیتا۔

ایک مسلمان کا بنیادی عقیدہ اللہ اور اس کے رسولوں پہ ایمان اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں اور ان پہ نازل کی گئی کتاب پہ ایمان لانا اور اس سے رہنمائی حاصل کرنا ہے۔

دنیا کا کوئی بھی مزہب نعوذ باللہ کسی بھی پیغمبر کی توہین کا درس نہیں دیتا۔چاہے وہ ہندو ہو مسلمان ہو یا کوئی اور۔۔۔ایک انسان کا مذہب سے تعلق صرف دنیا تک نہیں بلکہ یہ دو جہانوں کا سودا ہے۔جو وہ اپنے دل سے طے کرتا ہے اور آخر تک اس پہ قائم رہتا ہے۔

تو بحثیت مسلمان میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی دشمن کو بھی تکلیف نہیں پہنچائی ۔ہمارے مذہب میں امن اور بھائی چارے کا درس دیا جاتا ہے۔ہم نہ صرف اپنے مزہب کے لوگوں سے اچھے اخلاق کے پابند ہیں بلکہ اور مذاہب کے لوگوں کو بھی تکلیف نہیں پہنچا سکتے۔اگر آپ خود کو مسلمان کہتے ہیں تو آپ ایسا کر ہی نہیں سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی ہم آہنگی کے نام پر سیکولرازم کا منجن - محمد سعد

اب آتے ہیں دوسری بات کی طرف۔!

بحیثیت مسلمان اگر کوئی بھی میرے مذہب کے خلاف بولتا ہے یا میرے پیارے آقا کی شان میں گستاخی کرتا ہے اور مسلسل کرتا ہے تو پہلا فرض اس ریاست کے حاکم کا ہے کہ ایسے شخص کا سر قلم کر دے۔

اور اگر ریاست غافل ہے تو اپنے آقا سے محبت کا ثبوت یہی ہے کہ میں یہ کام کروں۔

لیکن یاد رکھیے ؟

واضح ثبوت اور دلائل کے بعد ہی میں یا ریاست یہ کام کر سکتی ہیں ۔

محض شبہ کی بنا پہ یا کسی مفاد کی آڑ میں مجھے قطعاً ایسا کرنے کی اجازت نہیں ۔یہ نا صرف یہاں میری بربادی کا سبب بنے گا بلکہ آخرت میں بھی مجھے جہنم میں دھکیل کر لے جائے گا۔

تیسری بات۔۔!

ہر ریاست کو دشمنوں کا سامنا رہتا ہے۔یہ اس ریاست کے حاکم پہ منحصر ہے کہ وہ ان سب کا سد باب کرے۔

اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو پھر بھی آپ کو درپردہ چھپی سازشوں سےآگاہ رہنا چاہیے۔ایک شہری ہونے کے ناطے یہ آپ پہ فرض ہے کہ جہاں تک ہو سکے قاعدے قانون کو مدنظر رکھ کے آپ اپنے مسلمان بھائی، ملک اور مذہب کی حفاظت کرو۔لیکن ان سارے پہلوؤں کو سامنے رکھ کے!

ناکہ فرقہ واریت، انتہاپسندی اور اپنی مرضی کے دلائل کا پرچار کر کے۔!

باخبر رہیے، اچھے رہیے۔۔

بےخبر رہ کے برے بننے کی غلطی مت کریں۔۔!

خدا کے لیے ایک دوسرے کو مت ماریے۔

سمجھیے اور سمجھانے کی کوشش کیجئے۔!