تبدیلی - حیاء حریم

شجّی۔ ۔ شجّی میرے بچے۔ ۔ جلدی اٹھو، صبح ہو گئی ہے۔ ۔

شنبم نے اپنے بیٹے شرجیل سے چادر کھینچی۔ ۔ وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا

اسے اٹھتا دیکھ کر شبنم نے استری اسٹینڈ پر شرٹ رکھی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے واش بیسن کی طرف لے گئی، اس کا منہ ہاتھ دھلا کر تولیے سے اس کا چہرہ خشک کیا۔ اس کے سامنے دودھ کا پیالہ رکھ دیا، ساتھ ساتھ میز پر بکھرے برتن بھی سمیٹنے لگی، ایک ہاتھ سے وہ اس کے لئے ڈبل روٹی پر چاکلیٹ اسپریڈ لگا رہی تھی اور دوسرے ہاتھ سے اس کے لبوں سے دودھ کا پیالہ لگا کر اسے زبردستی پلا رہی تھی، لیکن وہ شرجیل ہی کیا جو جلدی ناشتہ کر لیتا، وہ اسے تیز نظروں سے گھورتی بھی جارہی تھی کہ وہ جلدی ناشتہ کر لے۔

ناشتے کے برتن سنک میں جمع کر کے اس نے ایک نظر گھڑی پر ڈالی اور فورا ایک ڈبے میں چکن چیز رول گرم کر کے شرجیل کے بستے میں رکھا،

وہ ایسے ہی سرعت سے تمام کام کر لیتی تھی، ایک ہاتھ سے اسے کپڑے پہنا رہی ہوتی تو دوسرے ہاتھ سے اس کا اسکول بیگ تیار کر دیتی، کبھی جھک کر اس کے جوتے کے تسمے باندھتی تو اگلے ہی لمحے میں اس کے سر پر کنگھی پھیر کر انہیں ترتیب دے چکی ہوتی۔

گھڑی کی بڑی سوئی تیس کے ہندسے پر پہنچی تو اس نے شرجیل کو دروازے کی طرف چلنے کو کہا، ایک نظر آئینے میں اپنے سراپے پر ڈالی، اسے اپنے بکھرے بالوں میں کنگھی کرنے کا تو وقت ہی نہیں ملا تھا، اس نے ایک ہاتھ سے اپنے بکھرے بالوں کو پیچھے کیا، اور دوسرے ہاتھ سے بستر کی بے ترتیب چادر بھی کھینچ کر درست کردی۔

یہی اس کا روز کا معمول ہوتا، اسے کوئی کام بھی اطمینان سے کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی تھی، ہاتھ میں چابی کا گچھا اٹھائے وہ باہر نکلی تو شرجیل اسی سست روی سے کھڑا تھا۔

جلدی بیٹا۔ ۔ !! اس نے گھر کا دروازہ لاک کیا اور سامنے کھڑی اپنی گاڑی کا دروازہ کھول دیا، شرجیل کو اٹھا کر گاڑی میں بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔

مس کو سبق ٹھیک سے سنانا، ہوم ورک لازمی چیک کروانا، اور بیگ میں رول رکھا ہے وہ لنچ بریک میں کھا لینا، چھٹی میں گیٹ سے باہرنہ نکلنا جب تک میں نہ آؤں۔

پندرہ منٹ کی ڈرائیونگ میں وہ اسے روزانہ کی یہی نصیحت و ہدایت دہرا کر سناتی۔

سمجھ گئے نا؟؟ پھر دوبارہ پوچھتی، تو شرجیل اونگھتے ہوئے سر ہلا دیتا۔

اسے اسکول کے سامنے اتار کر وہ دیکھتی رہتی جب تک اس کے اندر جانے کا اطمینان نہ ہوجاتا وہ وہاں سے نہ ہلتی، اور روز دروازے پر گھڑے گارڈ سے بھی کہہ دیتی کہ جب تک میں لینے نہ آؤں اسے باہر جانے نہ دینا۔

جی میم۔ ۔ آپ بے فکر رہیں۔ گارڈ اسے اطمینان دلاتا۔

اور وہ اپنے آفس کی طرف گاڑی موڑ لیتی۔


گھر میں داخل ہوتے ہی شبنم نے اپنا بیگ الماری میں رکھا، شرجیل کو کپڑے تبدیل کرواتے ہوئے وہ اس سے دن بھر کی تمام کارگزاری بھی سنتی رہی، جاؤ یہ کپڑے لانڈری میں ڈال کر آؤ۔

یہ بھی پڑھیں:   گائناکالوجسٹس پیسے کی خاطر نارمل کیسز کو آپریشنز میں بدلتی ہیں؟ - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

اس نے کپڑوں کا گولا سا بنا کر شرجیل کو تھمائے۔

جتنی دیر میں وہ کپڑے ڈال کر آیا تو شبنم میز پر گرما گرم کھانا ترتیب دے چکی تھی۔

کھاؤ بیٹا، ، آج آپ کی پسند کے آلو چاول ہیں۔ ۔ وہ چمچ اس کے منہ میں ڈالتی رہی۔

شرجیل کو کچھ دیر بعد ہی وہ بستر پر لٹا کر تھپکیاں دے رہی تھی، شرجیل کے سونے کے بعد اس نے اپنے کام سمیٹنا شروع کئے۔

شام میں اسے جگا کر اس نے خود ہوم ورک کروایا، اور اس کے بعد اسے پارک میں کھیلنے کے لئے بھیج دیا۔

اسی وقت کا اسے انتظار ہوتا تھا کہ وہ کب پارک جائے گا، اس لئے وہ اپنا ہو م ورک جلدی یاد کرلیتا۔ کیونکہ اسے پتہ تھا کہ جب تک وہ ہوم ورک مکمل نہیں کرے گا پارک نہیں جا سکے گا۔ پارک میں کھیل کر جب وہ واپس آیا تو رات کو کھانا پھر تیار تھا، اوراس کی ماما شبنم میز پر کھانا ترتیب دے کر اب اس کا انتظار ہی کررہی تھی۔

وقت بیتنے کا ساتھ وہ بڑا ہوتا گیا، اس کی عادتیں، اس کی مصروفیات سب بدلیں بھی اور بڑھیں بھی، لیکن ایک اس کی ماں شبنم تھی جو بدلی نہیں تھی، اس کے کام اب بھی پہلے جتنے ہی تھے۔ وہ اب بھی وقت پر اس کے لئے کھانا بناتی، اس کے جاگنے سے پہلے اس کے کپڑے استری کر کے رکھ دیتی، وہ ایک ہفتہ پہلے کسی چیز کا مطالبہ کر کے بھول بھی چکا ہوتا، لیکن ماما نہیں بھولتی، اس نے کئی دن پہلے کہا تھا کہ چاکلیٹ کریمی کیک کھانے کا موڈ ہورہا ہے، شبنم اس وقت خاموش ہوگئی، اس دن اسے آفس سے جلدی چھٹی ہوئی تو وہ فورا رحمت بیکری پہنچی اور چاکلیٹ کیک لے آئی۔

میرے ایک دوست نے صدر سے کوٹ خریدا ہے، یقین مانئیے ماما، اس پر اتنا اچھا لگتا ہے بالکل آفیسر لگتا ہے اس میں، ، اس نے اپنے دوست کے کوٹ کے بارے میں بتایا تو اگلے اتوار وہ صدر سے جاکر اس کے لئے ویسا ہی کوٹ لے آئی۔

آج ناشتے میں کیا ہے ؟؟ وہ تولیے سے منہ خشک کرتا ہوا آیا اورمیز پر رکھا ہاٹ پاٹ اس نے کھولا۔

اوہ میرا آج موڈ تھاکہ آلو والے پراٹھے کھاؤں، خیر کوئی بات نہیں، میں جاوید کو فون کرتا ہوں ہم دونوں جاکر فوڈ اسٹریٹ سے کھا آتے ہیں۔ اس نے ایک دم جیب سے موبائل نکالا اور جاوید کا نمبر ڈھونڈنے لگا۔

ارے رکو۔ ۔ شبنم ایک جھٹکے سے اٹھی، میں تمہیں ابھی بنا دیتی ہوں، خالی پیٹ گھر سے نہ نکلو۔

اس نے اس کے ہاتھ سے موبائل لے لیا۔

اگلے پانچ منٹ میں اس کے سامنے گرم آلو کے پراٹھے، چٹنی کے ساتھ رکھے تھے، ایسا کرو جاوید کو بھی گھر پر ہی بلا لو۔ شبنم نے کہا تو اس نے اسے بھی بلا لیا۔ کچھ دیر میں دستر خوان پر صرف پراٹھے اور چٹنی ہی نہیں، بلکہ لسی، چائے، دہی، سلاد سب کچھ ہی سجا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   یا خدا! مجھے ٹی وی بنا دے - بشیر عبد الغفار

یار تمہاری ماما آفس بھی جاتی ہیں اور پھر بھی اتنا کچھ کر لیتی ہیں، جاوید نے کہا تو وہ مسکرا دیا۔

کیسے کر لیتی ہیں آنٹی اتنا سب کچھ۔ ۔ گھربھی کتنا صاف ستھرا سا ہے، ۔ ۔ ۔ جاوید نے ایک نظر گھماکر اطراف کا جایزہ لیا، ہر چیز قرینے اور ترتیب سے تھی۔

تھینک یو ماما۔ ۔ ۔ جاوید آپ کی بہت تعریف کر رہا تھا، حیران ہو رہا تھا کہ کیسے آپ اتنا کر لیتی ہیں۔ ۔

اس نے شبنم سے کہا تو وہ تھکی تھکی سی مسکرائی، کتنا سمجھ دار ہے جاوید، ایک بار میں ہی سمجھ گیا تھا، اور ایک شرجیل تھا جو کبھی محسوس ہی نہیں کرتا تھا، اسے کبھی خیال ہی نہیں آتا تھا کہ اس کی ماں جب اس کے لئے کھانا لگا رہی ہوتی ہے، لقمے اس کے منہ میں ڈال رہی ہوتی تھی تو خود کب کھاتی تھی ؟؟

وہ سوتا تو ماں اس کے کام کر رہی ہوتی، اور وہ اٹھتا تو اس کے کپڑے دھلے ہوتے، ، پھر ماں سوتی کب تھی ؟ اس کی ماں انسان ہی تھی یا کوئی روبوٹ مشین؟


شرجیل اپنی ماں شبنم کے سائے میں پل کر اب کڑیل جوان ہو چکا تھا، اس کا اٹھتا قد، کھلتی رنگت، بشاش چہرہ اور صحت مند جسم اس بات کا غماز تھاکہ وہ بہت آسائش میں پلا بڑھا تھا، بس فرق یہ ہوا تھا کہ شبنم کی جوانی ڈھل گئی تھی، وہ طاقتور عزائم والی تو اب بھی تھی، لیکن اس کے چہرے پر چھائی جھریاں اور اندر کو دھنستی ہوئی آنکھیں گواہی دیتی تھیں کہ وہ بہت مشکل سفر گزار کر آئی ہے۔

بیٹا شرجیل۔ ۔ ۔ واپسی میں میڈیکل سے وہ دوا لیتے آنا۔ اس نے صبح ناشتے کی میز پر اپنے بیٹے سے کہا۔

ارے ہاں امی۔ ۔ ۔ لے آؤں گا۔ اس نے جلدی میں کہا اور اپنا کوٹ اٹھا کر باہر نکل گیا۔ ۔

آفس پہنچ کر اسے یاد آیا کہ دوا کی پرچی تو وہ گھر ہی بھول آیا ہے، ، اوہ !!! چلو خیر ہے اب کیا کرسکتا ہوں۔

اس نے سوچا۔

ماما میں پرچی گھر بھول گیا تھا، اب کل لے آؤں گا۔ ۔ واپس آتے ہی جب شبنم نے اس سے پوچھا تو وہ اپنی صفائی میں کہہ گیا، شبنم جواباََ خاموش رہی،

تین دن گزر گئے تھے، اور وہ دوا نہیں لا سکاتھا، کبھی پرچی بھول جاتا، تو کبھی لانا بھول جاتا۔

بیٹا حد ہوتی ہے سستی اور کاہلی کی، تمہیں میری تکلیف کا خیال ہی نہیں آتا۔ ۔ ۔ شبنم نے ناراضگی کا اظہار کیا۔

عجیب بات کرتی ہیں آپ ماما۔ ۔ آپ کو معلوم ہے کہ میرے کتنے کام ہوتے ہیں آفس میں۔ ۔ ۔ اس نے تیز لہجے میں کہا۔

اپنے لخت جگرکے اس جواب پروہ گم صم اسے دیکھتی ہی رہ گئی ایک بہت بڑا فرق اس کی سمجھ میں آگیا تھا، پہلے وہ فتر جایا کرتی تھی اور اب اس کا بیٹا دفتر جاتا تھا، ، ، ہاں بس ایک یہی فرق تھا، وہ نم آنکھوں سے کرسی پر ڈھیر ہوگئی۔

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!