سونو نگم کا ٹوئٹ: ایک نئی بحث کا آغاز - محمد انس فلاحی سنبھلی

سونو نگم کے ٹوئٹ "میں مسلمان نہیں ہوں پھر بھی مجھے اذان کی آواز کی وجہ سے صبح سویرے اٹھنا پڑتا ہے۔ یہ مذہبی غنڈہ گردی ہے" یہ تو معلوم نہیں ہے کہ ایئر کنڈیشن روم میں آواز کیسے پہنچ جاتی ہے ممکن ہے کہ وہ کھلی چھت پر سوتا ہو؟

اس ٹوئٹ نے ایک نئی بحث کا آغاز کردیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کو ایک نیا شوشہ اور ایک نیا مدعا مل گیا ہے۔ اب اس پر بحث ومباحثے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ابھی طلاق ثلاثہ کا مسئلہ حل نہیں ہوا تھا کہ یہ ایک نیا مسئلہ آن کھڑا ہوا ہے۔ سونو نگم کے اس ٹوئٹ سے جہاں مسلمانوں میں شدید غم و غصہ دیکھنے کو مل رہا وہیں اس کے حامی بھی اس کی تائید کرنے میں کسی طرح کی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔

یہ بات کہی جا رہی ہے کہ لاؤڈ اسپیکر سے دن میں پانچ مرتبہ اذان دینے سے 'ساؤنڈ پولیوشن' پھیلتا ہے۔ کیا لاؤڈ اسپیکر سے صرف اذان ہی ہوتی ہے؟ کیا لاؤڈاسپیکر کا استعمال صرف مسلمان ہی کرتے ہیں؟ کیا اس کا استعمال مندروں، گوردواروں، چرچوں، سیاسی جلسوں اور شادی وبیاہ کے موقع پر نہیں ہوتا ہے؟ کیا شادی وبیاہ کے موقع پر گھنٹوں گھنٹوں بجنے والے ڈی جے ساؤنڈ پولیوشن پیدا نہیں کرتے ہیں؟

اذان دن میں پانچ مرتبہ ضرور ہوتی ہے لیکن ایک مرتبہ اذان دینے میں بمشکل دو سے ڈھائی منٹ لگتے ہیں۔ اس حساب سے دن میں دس سے بارہ منٹ اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ہوتا ہے۔ اس سے کئی گنا زیادہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال سیاسی جلسوں، مندر کے بھجن، شادی وبیاہ اور دیگر فنکشنوں کے موقع پر ہوتا ہے۔

اگر کسی کو اذان کی آواز سے خلل محسوس ہوتا ہے تو کیا اس پر پابندی لگا دینی چاہیے؟ اگر ہاں ! تو پھر ہر ایک کو کسی نہ کسی چیز سے تکلیف محسوس ہوتی ہے کسی کو مندروں میں ہونے والے بھجن سے، کسی کو گوردواروں کے گروواہنی سے اور کوئی شادی کے موقع پر بجنے والے ڈی جے پر سوال کھڑے کرے گا۔

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ سب سے زیادہ ساؤنڈ پولیوشن فلم انڈسٹری سے پھیل رہا ہے ان کی فلمیں، ڈرامے، گانے اور شوز جو جگہ جگہ چلتے اور بجتے رہتے ہیں۔ کیا یہ ساؤنڈ پولیوشن نہیں پھیلا رہے ہیں؟ اگر ہاں ! تو سب سے پہلے ان پر لگام کسنی چاہیے۔

ہندوستان جمہوری ملک ہے یہاں آرٹیکل25,26,27 کے تحت ہر فرد کو اپنے مذہب اور ہر کمیونٹی کو اپنے مذہبی رسوم بجالانے کی پوری آزادی ہے۔ لیکن بی جے پی کے برسر اقتدار میں آنے کے بعد سے وقفے وقفے سے مذہبی آزادی پر حملے کیے جار ہے ہیں۔ کبھی طلاق ثلاثہ اور کبھی خواتین کے حقوق اور آزادی کے نام پر مسلم پرسنل لا میں مداخلت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے.آخر ہمارا میڈیا حقیقی مسائل سے کب روبرو ہوگا۔

کیا میڈیا ہزاروں خودکشی کرنے والے کسانوں، غربت و فاقہ کشی میں مبتلا لوگوں اور ہندو ہوا واہنی کے غنڈوں کے ذریعے مسلمانوں کو زد و کوب کرنے کے واقعات سے ہمیشہ کی طرح چشم پوشی کرتا رہے گا؟

یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ الیکٹرانک میڈیا میں ایک خاص ذہنیت کے لوگ شامل ہیں۔ جو خاص ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ جن کا مقصد صرف اور صرف سنسنی خیزی اور نفرت پھیلانا ہے۔ بعید نہیں کہ میڈیا کے یہ مباحثے ہندو ومسلم فساد کا پیش خیمہ ثابت ہوں۔ ملک کی سلامتی اور امن و امان کی فضا کی بحالی کے لیے میڈیا پر جلد از جلد لگام لگانے کی ضرورت ہے.