سانحہ مردان، توہین رسالت کے قانون پر من و عن عمل کی ضرورت – شہاب رشید

مارنے والوں کے بارے میں کیا بات کرنی کہ ان کی زہنی پستی اور تعلیمی قابلیت ہی ایسی تھی افسوس تو تماشہ دیکھنے والوں پہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی آگے بڑھ کر اس ظلم و بربریت کو روک نہ سکا اگر ہمارے پڑھے لکھے نوجوانوں کا یہ حال ہے جو کہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں تو ہمیں مدرسوں میں زیر تعلیم طالب علموں پر تنقید چھوڑ دینی چاہے ۔ ایسی تعلیم سے بہتر تھا کہ وہ جاہل ہی رہتے۔نہ جانے کتنے ہی طالب علم اپنے اپنے موبائیل سے وڈیوز بنانے میں مصروف تھے شائید اس امید پر کہ الیکٹرونک میڈیا کے ہاتھوں مہنگے داموں فروخت کر سکیں مگر کسی کو پولیس بلانے کی زحمت نہ ہوئی، اس وقت استاد کہاں تھے ان کا کردار کیا ہونا چاہے تھا اور کیا رہا، استاد تو رہبرو رہنما ہوتا ہے پھر یہ کیسی رہنمائی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ اور سیکیورٹی کہاں تھی جو اتنے بڑے سانحہ کو نہ روک سکی۔

میرے نبی ﷺ نے تو ایسا درس نہ دیا تھا میرے نبی تو رحمت والے ، جنکی رحمت تما م جہانوں پہ چھائی ہوئی ہے ۔انسانیت سے پیار ، ترس، ہمدردی ، غمگساری، محبت اور خیر خواہی میرے نبی ﷺ کا امتیاز ،وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے۔ خالص انفرادی اور ذاتی معاملات میں بھی آپ ﷺ کی یہ خصوصیات نمایاں رہیں انسانیت سے ہمدردی اور دکھی اور مظلوم لوگوں کا درد آپ ﷺ کی نبوت سے پہلے اور بعد میں بھی محبوب مشغلہ رہا اور مکہ کی وہ انجمن جس کا مقصد مظلوموں کی حمایت تھا آپ ﷺ کی کوششوں سے اور زیادہ مضبوط ہوئی۔ میرے نبی تو معاف کرنے والے تھے تمام عمر معافی کا درس دیتے رہے اور میری امت میری امت کرتے اس دنیا سے پردہ فرما گئے۔ یہ سب کس نبی ﷺ کے ماننے والے تھے؟ جس طرح مشال کو قتل کیا گیا ،کیا حضور ﷺ کی امت کا اپنے امتی بھا ئی کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہے تھا؟کیا مارنے والوں اور تماشہ دیکھنے والوں کی زندگیا ں عین دین کے مطابق گزر رہی تھی؟ کیا یہ سب نبی پاک ﷺ کی بتائی ہوئی تعلیمات کا چلتا پھرتا نمونہ تھے،؟کیا یہ سب سنت رسول کے پیرو تھے؟ کیا ان سے کوئی گناہ سرزد نہ ہوا تھا ؟کیا سب کے سب پاکباز تھے؟ اگر نہیں تو ان کو یہ حق کس نے دیا تھا کہ بغیر تصدیق کے مشال پہ ٹوٹ پڑتے اور اس طرح سے اس کو قتل کرتے کہ انسانیت بھی شرما جائے۔

ہمارا پیارا دین تو پھیلا ہی حسن سلوک اور بلند اخلاق کی وجہ سے اور یہی اعلی اخلاق تھے کہ دنیا کے کونے کونے سے اذان کی صدائیں بلند ہوئیں۔ جو بوڑھی عورت آپ ﷺ کے اوپر کوڑا پھینکا کرتی تھی کیا اس سے بڑی توہین رسالت ہو سکتی تھی کہ آپ ﷺ کے اوپرغلاظت پھینکی جائے تو ایسے میں جید صحابہ کرام نے مل کر اس کی جان کیوں نہ لی کیونکہ یہ ہمارے نبی ﷺ کی تعلیم نہ تھی آپ نے اعلی اخلاق اور حسن سلوک سے اس جیسی کافرہ کو بھی مسلمان کر لیا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ جس طرح توہین عدالت میں جج کو اختیار ہے معاف کرنے کا اسی طرح توہین رسالت کے مرتکب شخص کو معاف کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہم رسول اللہ کو دے دیں ۔یا پھر ایسے معاملات اللہ کے حوالے کر دیے جائیں جنہوں نے خود اپنے محبوب کا ذکر بلند کیا اور جس کا ذکر خود اللہ بلند کرے اس کو کسی قسم کی توہین کا خطرہ نہیں ۔

کیا دنیا نے درندگی اور سفاکی کی یہ وڈیو نہ دیکھی ہو گی ؟ان کے ذہنوں میں اسلام کے بارے میں کیسے کیسے سوالات نہ اٹھے ہوں گے ؟ جن کے جوابات ایک عالم کے لئے دینا بھی مشکل ہوں۔ہم بے شک دنیا کو چیخ چیخ کر یقین دلائیں کہ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے ، اسلام کا مطلب ہی سلامتی میں داخل ہونا ہے مگر ایسے واقعات کے بعد اسلام کو دہشت گردی کے لیبل سے آزاد کرانا بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔ کیا ہمارے ملک میں توہین رسالت کا قانون موجود نہیں ہے؟ کیا پولیس و عدالتیں موجود نہیں؟ کیا ادارے موجود نہیں ؟ پھر اس قدر سفاکی کی کیا ضرورت تھی کہ مشال کو اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع بھی نہ دیا گیا ۔ آج کے سوشل میڈیا کے دور میں کسی کو بھی راستے سے ہٹانا کتنا آسان ہو گیا ہے بس جس بندے سے آپکی مخالفت ہے سوشل میڈیا میں اس کے نام کے جعلی اکاؤنٹ کھولیں چند تصاویر لگائیں اور کچھ بھی توہین رسالت کا مواد ڈال دیں باقی وحشی و جنگلی عوام پہ چھوڑ دیں۔ توہین رسالت کے قانون کی افادیت ایسے میں اور بھی بڑھ گئی ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر من و عن عمل ہو سکے۔

ابتدائی پولیس رپورٹ کے مطابق مشال کے اوپر لگائے گئے الزام کی تصدیق نہ ہوسکی اگر وہ بے گناہ ٹھہرا تو اسکی موت کا ذمہ دار کون ہو گا ہمارا تعلیمی نظام ، دینی علما، ہمارا آج کا استاد ، ہما را پولیس اور انصاف کا نظام کہ جس پر سے لوگوں کا اعتما د اٹھ چکا ہے؟ یا پھر یہ ریاست جس کو کتنی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا تھا کیا یہی وہ اسلامی جمہوری ریاست ہے جسکا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جسکی تعبیر قائد نے دی۔ ہم نے کفار سے آزادی حاصل کی تھی کیوں کہ ہمیں اپنی جان ومال عزت و آبرو کا خطرہ تھا مگر کیا کیا جائے کہ آزادی کے اتنے برس گزرنے کے بعد بھی ایک مسلمان کی اپنی جان مال عزت و آبرو دوسرے مسلمان کے ہاتھوں محفوظ نہیں،ہماری منزل کیا تھی اور ہم کہاں کھڑے ہیں؟

Comments

FB Login Required

شہاب رشید

شہاب رشید ہے وکالت کے شعبہ سے منسلک ہیں، اور سول کے ساتھ کارپوریٹ اور ٹیکس لاء میں پریکٹس کرتے ہیں۔ اردو ادب سے گہری وابستگی ہے۔ حالات حاضرہ، اردو افسانہ و ڈرامہ پسندیدہ موضوعات ہیں

Protected by WP Anti Spam