استعمار اور استشراق کی فرنچائزیں - جنید اعوان

مینجمنٹ کے گرو بتاتے ہیں کہہ ہرکام خود کرنے کے بجائے افراد کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق ذمہ داریاں تفویض کی جائیں تو ٹیم ورک کے نتیجے میں بہترین نتائج حاصل ہوتے ہیں۔کامیابی کے کوچ سکھاتے ہیں کہ کامیابی کے سفر کو تنہا طے کرنے کے بجائے دیگر لوگوں کو بھی ہمراہ لیا جائے تو کامیابی یقینی ہوتی ہے۔بزنس اور مینجمنٹ کے ان اصولوں کے اطلاق کی جدید شکل "فرنچائز سسٹم " ہے۔بڑے ادارے اور کمپنیاں مقامی افراد کو اپنا نام استعمال کرنے ،اپنی ساکھ سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے کران کے ذریعے سےاپنی مصنوعات فروخت کرواتے ہیں اور ایسا کرنے والوں کو اپنی محنت اور سرمایہ کاری پر نفع حاصل ہوجاتا ہے۔

فرنچائز کا یہ نظام مصنوعات کی فروخت اور کاروبار کی توسیع تک ہی محدود رہتا تواس میں کوئی مضائقہ نہیں تھا لیکن استعمار اور استشراق نے اس اصول کو جب اپنے مقاصد کی ترویج اور عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا شروع کیا ہے تو تشویش ہونے لگی ہے۔ استعماری طاقتیں جو پہلے خود مسلم دنیا میں لوٹ مار کرتی تھیں اور مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتی تھیں ۔ پاکستان میں اب اس کی فرنچائز انہوں نے تحریک طالبا ن کو دے دی ہے تا کہ دور پار سے یہاں آنے کی تکلیف اور تکلف بھی نہ کرنا پڑے اور مسلمانوں کے سینے پر اسلام کے نام سے مسلسل گولی بھی چلتی رہے۔

استشراق کا ادارہ جو اپنے ذہین دماغوں کواسلامی تعلیمات پر کیچڑ اچھالنے اورعالم اسلام کے فکری تاروپود بکھیرنے کے لیے وقف کیے رکھتا تھا،اب اسے اشراق جیسے رسالےاور المورد جیسے ادارے بطور مقامی سہولت کار میسر آگئے ہیں۔استعمار اور استشراق کا گٹھ جوڑ علمی و عملی سطح پر المورد اور تحریک طالبان پاکستان کی صورت میں منظم ہو چکا ہے۔ ہدف دونوں کا اسلام اور مسلمان ہیں البتہ طریق کار یا صحیح تر معنوں میں طریق واردات مختلف ہے۔

ایک گروہ تشکیک کے بیج سے اذہان کو منتشر کر رہا ہے اوردوسرا گروہ تشدد کے ذریعے سے اجتماعیت کو تارتار کر رہا ہے۔ایک ٹولے کا نشانہ اسلام کے متفقہ اصول ہیں اوردوسرے کی زد میں مسلمانوں کااجتماعی وجود ہے۔ایک فریق زبان و دہن کے ذریعے سے اسلا م پر برس رہا ہےاور دوسرا آتش و آہن لے کر مسلمانوں پر چڑھ دوڑا ہے۔

ایک اسلام کی 14سو سالہ ماضی کی علمی روایت پر لکیر پھیر رہا ہے اور دوسرا اسلامی پیش قدمی کے مستقبل کے امکانات کو معدوم کر رہا ہے۔ظاہری طور پر ان دونوں کے "بیانیے " میں کتنا ہی بعد المشرقین ہو ، جوہری طور پر ان دونوں کا منطقی نتیجہ ایک ہے۔

علمائے اہل سنت کو چاج شیٹ کرنے والے ان دونوں گروہوں کے وابستگان اور متعلقین کو جان لینا چاہیے کہ استعمار اور استشراق کے ڈوبتے ہوئے کاروبار کی فرنچائز حاصل کر کے انہوں نے سراسر خسارے کا سودا کیا ہے۔