اٹھاؤ اپنے قانونی اصولوں کا ٹوکرا - ابن حجر

کھربوں روپے لوٹ کر کروڑوں لوگوں کو پسماندگی کی دلدل میں دھکیل دینے والے حکمرانوں کے آزاد پھرنے اور میرے اور آپ کا خون نچوڑ کر پروٹوکول میں پھرنے والے درندوں کے خلاف کوئی نفرت کا اظہار؟ ہرگز نہیں.
شاہزیب خان کے اپنی بہن کی عصمت بچانے کی پاداش میں قتل ہو جانے پر افسوس ؟ ہرگز نہیں.
جس وڈیرے کے بیٹے شاہ رخ نے اس کو قتل کر دیا اور پھر وکٹری کے نشان بنا کر انصاف کے منہ پر طمانچے مارتا ہوا آزاد ہوگیا ، اس پر افسوس یا احتجاج ؟ ہرگز نہیں
یا پھر ایسا ہے کہ درجنوں لوگوں کے سامنے زین رؤف کو دن دہاڑے قتل کرنے والوں کو آزادی سے دندنانے پر عدالتی نظام پر افسوس ؟ ہرگز نہیں
یا پھر زین رؤف کی ماں کی طرف سے پاکستانی انصاف کے نظام پر لعنت بھیج کر کیس واپس لینے پر انصاف کے نظام اور قانون پر کوئی نوحہ ؟ ہرگز نہیں
الطاف کی بھتہ مافیا کی طرف سے کراچی میں دہشت گردی کی کاروائی میں تین سو سے زیادہ افراد کو زندہ جلا دینے کے بعد انصاف کے صفر نظام پر کوئی آہ و بکاہ ؟ ہرگز نہیں
الطاف مافیا کو تحفظ دینے اور پاکستان کو غلام بنا کر رکھ دینے والے مشرف کو ہمارے خرچے پر وی وی آئی پی پروٹوکول اور پھر باعزت بیرون ملک روانگی پر کوئی تکلیف ؟ ہرگز نہیں
شام میں بشار، ایران اور روس کی سفاکی و درندگی پر کوئی دو حرف ؟ کوئی تنقید ؟ ہرگز نہیں
افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا بم پھینک کر ایک میل چوڑا دھماکہ کر کے سینکڑوں افراد کو زندہ جلا دینے پر کوئی شورو غوغا؟ کوئی اصولوں اور قانون کی پاسداری کے مطالبات؟ کوئی ظلم کی مذمّت؟ ہرگز نہیں
ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے والے فہیم کی بیوہ کی طرف سے انصاف کے نظام سے مایوس ہو کر خود کشی پر کوئی چیخ و پکار ؟ ہرگز نہیں

یہ بھی پڑھیں:   جمہوریت، انتخابات اور موازنہ – بلال شوکت آزاد

کبھی آپ نے سوچا کہ اوپر بیان کیے گئے سنگین مسائل اور اس طرح کے ہزاروں دیگر واقعات پر کوئی بھی داد رسی نہیں ہوتی، لیکن توہین رسالت کے مجرموں کے حق میں قانون اور انصاف کی وہ وہ راگنیاں الآپی جاتی ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی، کیوں؟
کیا انسانی حقوق، قانون کے سارے تقاضے اور انصاف کا سارا نظام اسلام کے دشمنوں اور توہین رسالت کرنے والوں کے لیے رہ گیا ہے؟
کیا قانون اور اصولوں کی کتابیں اس لیے لکھی جاتی ہیں کہ ضرورت پڑنے پر مسلمانوں کے منہ پر ماری جا سکیں؟

کیا پاکستان کا سب سے بڑا مسلۂ ہر چند ماہ بعد ایک آدھ بندے کا توہین رسالت کے الزام میں گرفتار یا قتل ہو جانا ہے؟ جان تو سب کی قیمتی ہوتی ہے، یا پھر ایسا ہے کہ صرف اسی کی جان قیمتی ہوتی ہے جس پر توہین رسالت کا الزام ہو؟ یا پھر ہر روز قتل کر ڈالنے یا پھر عصمت دروی کروانے یا پھر جسم فروشی کروا کر ساری زندگی کے لیے زندہ لاش بنا دینے والے انصاف کے نظام پر بھی کوئی بات کرے گا؟
پاکستان کی تاریخ میں کوئی ایک فیصلہ، صرف ایک فیصلہ بتا دیں جس میں کسی غریب مدعی کی درخواست پر کسی طاقتور کو عبرت ناک سزا ملی ہو! کوئی ایک مثال؟ کسی ایک بھی توہین رسالت کے مجرم کو جرم ثابت ہونے کے بعد سزا ملی ہو؟ کوئی ایک؟
دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے وزیراعظم چرچل نے کہا تھا کہ ہم کیسے جنگ ہار سکتے ہیں، کیا ہماری عدالتوں نے انصاف دینا بند کر دیا ہے؟
جب ہمارا قانونی و عدالتی نظام ہی طاقتور کو تحفظ دینے اور کمزور کو پیسنے کے لیے ہے تو پھر آپ مجھے قانون اپنے ہاتھ میں نہ لینے اور انصاف کے دروازے کھٹکھٹانے کے وعظ نہ سنائیں، اٹھائیں اپنا اصولوں کا ٹوکرا اور چلتے بنیں.

یہ بھی پڑھیں:   انصاف نہ مل سکا جسے انصاف کی عدالت سے - محمد ریاض علیمی

پس تحریر:
کچھ بھولے دوست بھی لوگوں کی طرف سے انصاف کی راگنیاں سن کر متاثر ہو جاتے ہیں. ایک محترم نے لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وقت قرآن موجود تھا اور قتل، چوری اور زنا کی سزائیں قرآن میں بالکل واضح طور مذکور ہیں. پھر لوگ اپنے مقدمات کیوں نبی کریم کے پاس لاتے تھے ؟"
میرا جوابی سوال یہی ہوگا کہ : آپ کو نہیں پتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگ مقدمات کیوں لاتے تھے؟ کیوں کہ ان کو یقین تھا کہ اگر رسول اللہ انصاف نہیں دیں گے تو پھر کون انصاف دے گا؟
کیا یہ منطق ایسے نظام کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے جس کی اوپر پیش کی گئی مثالیں انصاف کا منہ چڑا رہی ہیں.
لوگ اس نظام سے رجوع اس لیے نہیں کر رہے کہ وہ ان کو رسوا تو کر سکتا ہے، عزت نہیں دے سکتا، وہ نظام ان سے ان کا حق چھین تو سکتا ہے، ان کا حق ان کو دے نہیں سکتا!