جُتی قصوری - سائرہ ممتاز

زبیدہ خاتون اکیلی دکیلی چار کمروں کے گھر میں رہتی تھی، جس کا صحن سات آٹھ مرلے جتنا تو رہا ہوگا. بال سفید ہوئے بھی زمانے بیت چکے تھے، مگر مائی ہڈ کاٹھ کی تگڑی تھی. یہ سرو جتنا لمبا قد اور پھرتیلا جسم، مائی کہیں سے بھی سن رسیدہ نہیں لگتی تھی، لیکن اسے دیکھتے ہوئے زہرا جیسی تین نسلیں جوان ہو چکی تھیں. زہرا چوہدری کفایت اللہ کی بیٹی.. چنبے کی کلی اور پیپل کا پتہ. مائی بیدو کے پڑوس میں چوہدری کفایت کا گھر تھا جس کی بیوی ہر وقت چوہدراہٹ کے چکر میں پڑی رہتی تھی. نخوت کے مارے اس کی چتون چڑھی رہتی اور کوکے والا نتھنا پھڑکتا رہتا. مائی، زہرا کو کہتی، دھیے تیری ماں اک دن چوہدری کو بالکل اکیلا کر دے گی. اسے کسی جوگا نہیں رہنے دے گی، اور زہرا مائی کی اس بات پر ہنس پڑتی. جب وہ ہنستی تو موتیے جیسے دانت دیکھ کر مائی کے دل میں گدگدی ہونے لگتی اور مائی بیدو بے اختیار ہو کر کہہ جاتی، ”زہرا جے میرا کوئی پتر ہوندا تے میں چوہدرائن کی گُت اس کی گردن میں ڈال کر تجھے اس کےگھر سے بیاہ لاتی، پھر چاہے چوہدرائن میرا جنازہ اٹھوا دیتی.“

مائی کا گاؤں ادھر سیالکوٹ کے نواح میں انڈیا کے بارڈر کے بالکل پاس ہی تھا، زبیدہ خاتون سارے گاؤں میں مائی بیدو کے نام سے مشہور تھی. مائی کے بارے میں گاؤں کے کسی بھی فرد کو وثوق سے کچھ معلوم نہ تھا سوائے اس کے کہ مائی پاکستان بنتے ہی اس گاؤں میں آ مقیم ہوئی. اس کے شوہر کو کلیم میں یہ گھر مل گیا تھا لیکن بعد میں مائی کا شوہر ایک حادثے میں مر گیا تھا. مائی کا ذریعہ آمدن نامعلوم سا تھا. روٹی پانی اسے ادھر ادھر سے لوگ دے دیتے تھے اور کپڑوں کے اللہ جانے اس کے پاس کتنے جوڑے ہوں گے، یہ تو زہرا جو مائی کو اپنی سہیلی کہتی تھی، اسے بھی نہیں معلوم ہو پایا کہ جب بھی کسی نے دیکھا سفید کپڑوں اور سفید ہی دوپٹے میں ملبوس دیکھا. مائی کے ذریعہ آمدن پر اکثر گاؤں کی چوپال، رحمت نائی کی دکان، فیکے کمہار کی بھٹی اور ملک اللہ دتہ کی بیٹھک میں بحثیں ہوا کرتی تھیں. رحمت نائی کہتا کہ اسے حسین بخش مراثی کی بیوی سے معلوم ہوا ہے کہ مائی کے پاس ایک لکڑی کا صندوق ہے جس پر لوہے کا تالا لگا ہوا ہے. اور حسین بخش کی بیوی قسم اٹھا کر کہتی ہے کہ مائی کے پاس بہت سا سونا اور پیسا ہے لیکن مائی پھر بھی مانگ تانگ کر گزارا کرتی ہے. فیکے کمہار کا خیال تھا کہ مائی خود کوئی بہت بڑی زمیندارنی ہے، اس کے پاس پشتینی مال و دولت بھی ہے جو وہ اپنے ساتھ ہندوستان سے لائی ہے، اور اس نے چور اچکوں کے خوف سے یہ بات چھپا رکھی ہے، یا پھر اس ڈر سے کہ کہیں اکیلی سمجھ کر کوئی اسے قتل کر کے اس کے سامان پر قابض نہ ہو جائے. مائی بیدو کے بارے طرح طرح کی خیال آرائیاں کی جاتیں لیکن مائی نے کبھی کسی کو ان باتوں کا جواب نہیں دیا. مائی تہجد ویلے اٹھتی اور مصلی بچھا کر بیٹھ جاتی اور پھر اس وقت مصلے سے اٹھتی جب گاؤں کی اکلوتی مسجد کا مؤذن قاری محمد علی اس کے لیے ناشتہ لے کر آتا، ناشتے کی پوری ذمہ داری اس کی نیک بخت بیوی نے اپنے سر لے رکھی تھی. مائی سارا دن ننگے پیر پھرتی تھی. جس کی وجہ سے اس کے پاؤں اکثر زخمی رہتے اور ایڑیاں پھٹ جاتیں. زہرا اکثر مائی کے سر میں کنگھی کرتے کرتے اس کے پیر دھلانے بیٹھ جاتی اور پھر خوب سارا سرسوں کا تیل مل دیتی. وہ کہتی تھی مائی تیرے پیر تو چٹے سفید ہیں جیسے کبوتر کے پر ہوتے ہیں. مائی جوانی میں تو لوگ تیرے چہرے سے زیادہ تیرے پاؤں دیکھتے رہتے ہوں گے. اور مائی ہنس کر ٹال جاتی. شرما کر کہتی، دھیے کیوں میرا چٹا جھاٹا گندا کرتی ہے.

بیساکھ گزر چکا اور کنک کی کٹائی سے خالی کھیتوں میں اگلی فصل بونے کی تیاری ہونے لگی تھی. گلیاں سنسان رہتیں یا آوارہ کتے جس گلی میں کسی چھجے یا دیوار کا سایہ پاتے وہیں پاؤں پسارے رہتے تھے. یوں بھی شکر دوپہروں میں دیوے بالنے والی پاگل مائی بیدو ہی تھی جو کبھی کسی کواڑ اور کبھی کسی دہلیز کو الانگتی پھرتی. کبھی کسی کا سودا سلف لا دیا یا کسی نے کہا کہ مائی ہمارے ڈیرے پر جا کر کمیوں سے دوانے اور خربوزے لے لو، ابھی تک گھر نہیں منگوائے ہم نے، ایسے ہی لوگوں کے چھوٹے موٹے کاموں کے بدلے جھوٹی سچی نیت کا رزق مائی کو ملتا رہتا. ایک دن زہرا مائی کے لیے بینگن کا بھرتا، لسی کا گلاس اور سوہانجنے کا اچار دو روٹیوں پر رکھ لائی. مائی اس وقت پرانے کپڑوں کی کترنوں سے بیٹھی گڑیاں گڈے بنا رہی تھی. زہرا نے مائی کے سامنے سے ایک گڑیا اٹھائی جس کے بال کالے دھاگے سے بنائے تھے اور اس کے گھٹنوں تک پڑتے تھے. وہ خوب بنی سنوری مٹیار جیسی دکھتی تھی. زہرا کو محبت پاش نظروں سے دیکھ کر بولی، ”دھیے یہ مکلاوے کی دلہن ہے، خاص تیرے لیے بنائی ہے، جب تو اپنے سوہرے پنڈ جانے لگے گی، اس دن تجھے دونگی یہ“ اور زہرا جھینپ سی جاتی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   فیاضیاں (6) - فیاض راجہ

پھر زہرا نے مائی سے کہا، مائی تو اتنے بڑے گھر میں اکیلی رہتی ہے، اور لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں تو اتنے بڑے مکان کا آخر کرے گی کیا؟ مائی کا چہرہ یک دم سفید ہو جاتا ہے جیسے اسے زہرہ کی طرف سے ایسی بات کی توقع نہ ہو. اور زہرہ مائی کے چہرے سے اس کی تکلیف کا اندازہ لگا لیتی ہے اور جھٹ سے مائی کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہتی ہے، مائی میں تیری گُوڑی سہیلی ہوں نا؟ میرا یہ مطلب نہیں تھا، میں نے تو یونہی پوچھ لیا، حسین بخش مراثی کی بیوی طرح طرح کی جگتیں لگاتی ہے تجھ پر، اور مجھے اچھا نہیں لگتا. مائی سوئی دھاگا لپیٹ کر ایک اسٹیل کے گول ڈھکن والے ڈبے میں رکھتی ہے اور کہتی ہے کہ دیکھ دھیے! کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو نہ کہی جائیں تو اگر بتی کی طرح سلگ سلگ کر خوشبو دیتی رہتی ہیں اور کہہ دو تو سینٹ کی خوشبو کی طرح کچھ ہی پل میں اڑ جاتی ہیں. یہ مکان میرے جنتی شوہر کی نشانی ہے. ہمارا گورداس پور میں اس سے بھی بڑا مکان تھا. بہت زمینیں تھیں. سارا خاندان بٹوارے میں مارا گیا. مجھے پتا ہے کہ کل میں مر گئی تو یہ مکان بھی لاوارث ہی رہ جائے گا. مائی بیدو سامنے بیٹھی زہرا کو دیکھتے دیکھتے چپ سی ہو جاتی ہے جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو لیکن کسی ان دیکھے وقت کا حوصلہ آڑے آ کر کہتا ہو، ابھی صبر کر مائی، زبان کو بھی اپنے صندوق جیسا تالا لگا کر رکھ! زہرہ کھانے کے برتن سمیٹتے ہوئے مائی کو بتاتی ہے کہ اس کے بیاہ کی تاریخ طے کر دی گئی ہے. مائی! بھلا بوجھ کونسی تاریخ ہوگی؟ تو مائی بڑی اداسی سے کہتی ہے، اے زہرہ تاریخ جو بھی ہوگی تجھے مجھ سے دور کر دے گی. اور پھر زہرہ اٹھلا کر مائی کو بتاتی ہے کہ چودہ اگست والے دن اس کا بیاہ رکھا گیا ہے. مائی اس دن شب رات بھی ہوگی، پٹاخوں والی رات! اور پھر وہ چلی جاتی ہے.

یوں ہی دن رات گزر رہے تھے. مائی زہرا کی شادی سے ہونے والے زیاں کا حساب لگاتی رہی اور زہرا زبیدہ خاتون کے ہونے والے نقصان کا ازالہ سود سمیت کرنے کی یوں کوشش کرتی رہی کہ اب وہ پہلے سے بھی زیادہ مائی کا خیال رکھتی. ایک دن جب مائی ظہر کی نماز سے پہلے کنیزاں ماچھن سے تندور کی روٹی لے کر واپس گھر آتی ہے تو زہرا کو اپنا منتظر پاتی ہے. زہرا اس دن مائی کو پہلے سے بھی نکھری نکھری لگتی ہے، بنفشی رنگ کے سوٹ میں لوسن پر لگے نیلے بنفشی پھولوں جیسی! زہرا اسے خوشی خوشی وہ رنگ کا جوڑا دکھاتی ہے جو اس نے اپنے ہاتھ سے مائی کے لیے سیا تھا! مائی لاکھ سر پیٹتی کہ اس عمر میں وہ زہرا کی شادی پر سوہا جوڑا پہنے اچھی نہیں لگے گی لیکن زہرا مائی سے منوا کر رہتی ہے. ابھی وہ اپنے گھر جانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ ساون کی پہلی پھوار برسنا شروع ہو گئی. ساون کی پہلی بارش کا بھی عجیب مزہ ہے، بالی عمر والوں کے دلوں میں چھپی ہوئی خواہشات انگڑائیاں لے کر بیدار ہونے لگتی ہیں اور سترے بترے لوگوں کے اندر رکے آنسو باہر بہنے لگتے ہیں. زمینداروں کو سیلابی پانیوں کا خدشہ ستاتا ہے اور کمہاروں کو اپنی محنت سے بنائے شاہکاروں کے خراب ہونے کا ڈر رہتا ہے. ساون بھی تو عمر کے ہر دور میں الگ الگ چھب دکھاتا ہے.

پہلی جھڑی کے بعد تو اس ساون نے رکنے کا نام ہی نہ لیا. یہاں تک کہ ایک دن زہرہ نے مائی کو آ کر بتایا، مائی ٹی وی پر خبریں آ رہی ہیں، انڈیا نے بھی دریا کا پانی چھوڑ دیا ہے اور بارشوں کی وجہ سے بھی اس بار بڑے سیلاب کا خطرہ ہے. مائی دعا کر میری شادی میں کوئی اڑچن نہ آئے، صرف پندرہ دن ہی تو رہتے ہیں. مائی اپنے دل کی کیفیت چھپا کر زہرہ کی اداسی دور کرنے کو مسکرا کر کہتی ہے، ”جھلی دھی رانی! تیری شادی پر تو میں آپ گیت گاؤں گی، دیکھ لینا.“ ایک دو دن بعد جب سیلاب کا خدشہ سو فیصد بتایا جانے لگتا ہے تو چوہدری کفایت اللہ زہرہ کے جہیز کا سامان احتیاطاً دو ہفتے قبل ہی نارووال زہرہ کے میکے بھجوا دیتا ہے اور مائی اپنے گھر کی چھت سے زہرہ کا سامان جاتا دیکھتی رہتی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   محنت اور محبت ضائع نہیں ہوتی - فیاض راجہ

اگلی صبح سوئے ہوئے مردوں کو بھی بھاری پڑ جاتی ہے کہ سیلاب کا پانی سب سے پہلے اسی گاؤں میں آتا تھا اور کسی کو اتنا وقت بھی نہیں ملتا کہ سو جوڑے کپڑے ہی سمیٹ کر کسی محفوظ جگہ پہنچ سکتا. سب بمشکل جان بچا کر سرکاری اسکول کی عمارت میں پناہ لیتے ہیں اور جن کے عزیز رشتے دار قریبی گاؤں دیہاتوں میں رہتے تھے، وہ ادھر نکل جاتے ہیں. چوہدرائن صغراں کو مائی بیدو کے ساتھ تین دن اسکول کی عمارت میں گزارنے پڑے. یوں کہ اس کی ناک کا کوکا بالکل ساکت ہو گیا تھا اور ماتھے کی سلوٹوں میں نخرے کی جگہ پریشانی آ گئی تھی. چوہدرائن کے پاس بس وہی زیور بچا تھا جو خود اس نے پہن رکھا تھا یا وہ بالیاں جو زہرہ کے کانوں میں گول گول گھومتی رہتی تھیں. باقی سب کچھ تو سیلاب بہا کر لے گیا. زہرا کے جہیز کے لیے رکھا زیور بھی بہہ گیا. چوہدری کفایت اللہ مائی کے کہے مطابق اس وقت اتنا اکیلا تھا کہ وہ کسی سے کچھ مانگنے کے قابل بھی نا رہا تھا. بیوی کی تنک مزاجی اور بد دماغی نے رشتے داروں اور دوستوں تک کو چوہدری سے دور کر دیا تھا. چوہدراہٹ کا نشہ یوں بھی برا ہوتا ہے، بندہ اپنی ناک سے آگے کچھ دیکھ نہیں پاتا اور اپنی پگڑی گرنے کے ڈر سے کہیں جھک بھی نہیں سکتا.

ڈیڑھ ہفتے بعد جب پانی کی سطح کم ہوتے ہوتے ٹخنوں تک رہ گئی تو سبھی اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہونا شروع ہوگئے. مائی بیدو بھی اپنے گھر کے بوسیدہ کواڑ جو کہ پانی کے زور سے اکھڑ چکے تھے، پھلانگ کر اندر داخل ہوئی تو اس کا اکلوتا لکڑی کا بکسا جامن اور کیکر کے درختوں کے بیچ پھنسا ہوا نظر آیا. مائی بیدو تو مانو کہ جوان ہوگئی اور اگر صحن کیچڑ سے بھرا نہ ہوتا تو شاید مائی خوشی کے مارے صحن میں ہی ناچنے لگتی. اس دن تیرہ اگست کی رات تھی جب مائی نے حسین بخش مراثی، چوہدری کفایت، چوہدرائن، اپنی زہرہ، فیکے کمہار، رحمت نائی اور آدھے گاؤں کے سامنے اپنے صحن میں کھڑے ہو کر لکڑی کے صندوق کا تالا توڑا جس میں پلاسٹک کے بڑے سے تھیلے کے اندر سے ایک گوٹا لگا سرخ دوپٹا اور گلابی دوپٹا اور گلابی رنگ کا ریشمی سوٹ جس پر نفیس کڑھائی کی ہوئی تھی، نکالا، ایک نو لکھا طلائی ہار، ایک گلوبند، چھ طلائی چوڑیاں اور ایک قصوری کھسہ، پھر تو یوں سمجھو حسین بخش مراثی کی آنکھیں آنسوؤں کے بوجھ سے بند ہوجاتی تھیں، رحمت نائی اپنے صافے کو منہ پر لپیٹے وہاں سے الٹے پاؤں بھاگ گیا تھا اور چوہدرائن کی جھکی گردن پھر کبھی مائی بیدو کے آگے نہ آٹھ سکی.

اگلی صبح بارات آنے سے پہلے جو کہ آنی ہی تھی اور وہاں سے بھی ایسی ہی بارات آنی تھی جیسے لٹے ہوئے گھروں سے آیا کرتی ہے. زہرا مائی بیدو کے سہاگ کا جوڑا پہنے دلہن بنی یوں لگتی تھی جیسے کسی نے کیچڑ سے بھری کیاری میں گلاب کا پھول توڑ کر رکھ دیا ہو. مائی بیدو زہرہ کے پاس بیٹھی تھی اور زہرہ کے ہر ان کہے سوال کا جواب دینے لگی. دھی رانی! یہ چیزیں میں نے اپنے شوہر کی نشانی سمجھ کر رکھی تھیں، جب سوہنے رب نے اولاد نہ دی تو سوچا کہ مرنے سے پہلے کسی یتیم کی بچی کو دے جاؤں گی، مگر جس دن سے تو پیدا ہوئی، میں نے یہ تیرے نام لگا دیے تھے، اگر تیری شادی دھوم دھام سے ہو رہی ہوتی تو میں یہ تجھے چپکے سے پکڑا جاتی، پر دھیے! ان کپڑوں کے نصیب کہ یہ تیرے جیسی بیٹی کے بدن پر سجے، اور یہ جوتی میرے باپ نے قصور شہر سے بنوا کر دی تھی. اس زمانے میں دیکھ، ابھی تک اس کا تِلا خراب نہیں ہوا نا. یہ مجھے پوری نہیں آتی تھی تو پھر اللہ جانے میں نے کبھی پیروں میں کوئی اور جوتی کیوں نہیں پہنی. اس دن زہرہ کی رخصتی پر اسے نارووال پہنچنے تک اپنے پیچھے پیچھے اکلوتی گانے والی سہیلی کی آواز سنائی دیتی رہی.
جْتی قصوری پیریں نا پوری
ہائے ربا وے سانوں ٹرنا پیا
ہائے ربا وے سانوں ٹرنا پیا

Comments

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز کو تاریخ، ادب، ثقافت، زبان، تصوف، معاشرے، اور بدلتی ہوئی اقدار جیسے موضوعات میں دلچسپی ہے۔ صحافت اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ نسل نو کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنا ان کا شوق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں