اہانت اور گستاخی ایک حساس مسئلہ - ارشد زمان

آئیے ایک مسلمان کی حیثیت سے ایک مشترکہ نکتے پہ سوچتے ہیں۔
ایک لمحے کے لیے اس موضوع کوایک سائیڈ پہ رکھ لیتے ہیں کہ
مشال خان
مجرم تھا یا ملزم؟
گناہ گار تھا یا بےگناہ؟
اپنوں نے مارا یا غیروں نے؟
مذہب نے مارا یا سیاست نے؟
ریاست کو مارنا چاہیے تھا،
ہجوم نے کیوں عدالت لگائی؟
وہ ہلاک ہے یا شہید؟
وہ غضب کا مستحق ہے یا رحمت کا؟

بات کو آگے بڑھانے سے پہلے، اس ایک بات کو بھی کلیئر کر دیتے ہیں کہ ایک لمحے کے لیے یہ بھی مان لیتے ہیں کہ مشال نے نہ تو توہین رسالت کا ارتکاب کیا ہے اور نہ ہی مذہب سے بغاوت۔ مگر مکمل چھان بین اور تحقیق کے بعد ایک بات تو باکل واضح ہے کہ یہ نوجوان طالب علم مارکسزم اور کیمونزم سے متاثر اور مذہب کےحوالے سے کچھ زیادہ ہی بےباک، آزاد خیال اور غیرمحتاط ضرورتھا۔

جی ہاں! یہی وہ مشترکہ ایمانی نکتہ ہے جس کی جانب توجہ دلانا مقصود ہے۔ یہ بات تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اس ملک میں ایک تعداد مرتدین، ملحدین، منکرین حدیث اور لادین انتہاپسندوں کی ہے اور وہ باقاعدہ اپنے نظریات کا پرچار بھی کرتی رہتی ہے۔ مگر جو بات سب سے زیادہ تشویش ناک اور قابل غور ہے، وہ نوجوان نسل کا دانستہ یا غیر دانستہ ان بیہودہ نظریات و خیالات سے متاثر ہونا ہے۔ سوشل میڈیا اس معاملے کو بالکل واضح طور پر سامنے لایا ہے۔ میرے پانچ ہزار فرینڈز ہیں اور کچھ دو ہزار کے لگ بگ فالورز، اور جن گروپس اور فورمز میں ایڈ ہوں، ان سب کو کل ملا کے زیادہ سے زیادہ دس بارہ ہزار لوگوں سے ایک لحاظ سے براہ راست واسطہ ہے۔ مگر اس محدود دائرے کے اندر بھی درجن بھر ایسے حضرات ہیں جو تقریبا مکمل مذہب بیزار ہیں جبکہ بیسیوں ایسے احباب ہیں جو دین کے حوالے بہت ہی بےباک اور غیرمحتاط ہیں اور بعض اوقات تو گستاخی کی حد کو بھی پار کر جاتے ہیں۔
اللہ تعالی کی ذات اور صفات کے حوالے سے بحث کرتے نظر آتے ہیں۔
آخرت، محشر، حساب کتاب، سزا و جزا اور جنت و دوزخ پر بےباکانہ انداز میں سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
شعائر اسلام کا مذاق اڑانا شاید ایک فیشن سمجھتے ہیں۔
اسلامی اقدار، تہذیب، ثقافت، تاریخ اور ہیروز کو باقاعدہ طنز اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں جبکہ علمائے کرام کو تو کسی خاطر میں نہیں لاتے، ان پہ پھبتیاں کسنا، ان کا مذاق اڑانا اور اکثر اوقات گالیاں تک دینا، اس میں کوئی عار ہی محسوس نہیں کرتے۔

اس کا ایک بنیادی سبب ان نوخیز اور کچے اذہان کا ان پکے اور ڈھیٹ کیمونسٹوں، دہریوں، لادینیوں اور منکرین کا اثر لینا ہے، یا تو یہ بیچارے ان خبیثوں کی محافل میں شریک ہوتے ہیں یا سوشل میڈیا کے ذریعےان کی خرافات پڑھتے ہیں۔

ایک چیز اور جو میں نے محسوس کی ہے، یہ کہ یہ نوجوان پارٹی تعصب میں مخالف پارٹی کے وابستگان کو پچھاڑنے کے لیے اپنے بدبخت اور خبیث بڑوں اور ساتھیوں کے خیالات کا سہارا لیتے ہیں اور اس کا دفاع بھی کرتے ہیں۔ عمومی طور پہ یہ نوجوان عقیدے کے حوالے سے ٹھیک ہوتے ہیں جبکہ کئی ایک تو ٹھیک ٹھاک باعمل مسلمان بھی ہوتے ہیں، مگر اس طرح بےباکیاں کرنے پر دلیر ہوتے جا رہے ہیں اور رفتہ رفتہ بےحس بھی۔

دوسری بڑی وجہ ان طلبہ کا اس لٹریچر کو براہ راست پڑھنا ہے۔ چونکہ ان کا اسلامی مطالعہ ہوتا ہی نہیں اور دین کی بنیادی اساس سے بھی لاعلم ہوتے ہیں، اس لیے وہ اس لیٹریچر کا فوری اثر قبول کرتے ہیں اور اس کا اظہار بھی کرنے لگتے ہیں، جیسا کہ مشال کے حوالے سے نظر آ رہا ہے۔

گزارش یہ ہے کہ
والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پہ خصوصی توجہ دیں اور کم از کم اسلام کی بنیادی تعلیمات سے انھیں خصوصی طور پہ روشناس کرائیں۔ ایمانیات اور عقیدے کی پختگی ایسے حاصل نہیں ہوتی، ایسا کرنے کے لیے خصوصی اہتمام اور انتظام کرانا ہوگا۔ اسی طرح بچوں پہ نظر رکھیں کہ ان کا تعلق اور اٹھنا بیٹھنا کن لوگوں کے ساتھ ہے۔ بچوں کو حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ کر ان سے ایک اچھے مسلمان ہونے کی توقع رکھنا خام خیالی ہے۔

نوجوانوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں اور اسلام ہمارا دین، لہذا ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنے دین کو سیکھنا ہم پر فرض ہے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے ناگزیر۔ ایمانیات، عقائد، ارکان اسلام اور دیگر بنیادی تعلیمات کو ہر صورت سیکھنا لازمی ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطالعے اور اس سے مکمل آگاہی کے بغیر ہم دین کی روح کو سمجھ سکتے ہیں نہ اس پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں۔ لہذا لازمی ہے کہ قرآن مجید، احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیکھنے کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔ ایمان کی تازگی، سیرت کی پختگی، اذہان کی صفائی اور قلوب کے اطمینان کے لیے یہ بنیادی لوازم ہیں۔ اگر اسلام کے اس بنیادی علم کو حاصل کیے بغیر دوسرے نظریات پڑھیں گے تو خیالات پراگندہ ہوں گے، ایمان متزلزل ہوگا، افکار کمزور ٹھہریں گے، اذہان و قلوب وسوسوں سے بھر جائیں گے اور بنیادی عقائد تک کمزور اور متزلزل ہو جائیں گے۔ دینی معاملات، حساسیت، نزاکت، احتیاط، احترام اور عقیدت کے متقاضی ہیں لہذا دانستہ یا غیر دانستہ اس حوالے سے بے ادبی، بےباکی، اہانت اور گستاخی سے پرہیز اور احتراز لازمی ہے۔

ہم یہ کہنا بھی لازمی سمجھیں گے کہ اگر خدا نخواستہ کوئی بہت زیادہ اسلام کے حوالے سے عدم اطمینان کا شکار ہے اور اسلام کے مقابلے میں کسی دوسرے نظریے کو قبول کر چکا ہے تو یہ اس کی بدقسمتی ہے، مگر خیال رہے کہ اظہار آزادی رائے کے زعم میں اسلامی تعلیمات، اسلامی اقدار، اسلامی شعائر، اسلامی عقائد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور ذات کو بےجا موضوع گفتگو بنانا، لاحاصل سوالات کھڑے کرنا، بکواسیات و خرافات بکنا اور تضحیک، مذاق اور گستاخی کا ارتکاب کرنا بہت بڑا قدم اور عظیم جرم ہے۔ ایسے لوگوں کو مسلمان معاشرے کی اکثریت کے احساسات اور جذبات کا خیال اور احترام رکھنا لازم ہے۔ انھیں اچھی طرح معلوم ہوناچاہیے کہ دینی معاملات، شعائراسلام اور خاص کر حرمت رسالت کے حوالے سے مسلمان بہت ہی حساس ہے اور فی الواقع یہ بہت ہی نازک اور حساس معاملہ ہے۔

قانون کی پاسداری کی پٹیاں پڑھانا اپنی جگہ مگر اہانت اور گستاخیاں کرنا بہت بڑاجرم ہے اور عملی لحاظ سےکوئی کمزور مسلمان بھی اسے برداشت نہیں کر سکتا۔ دستیاب تاریخ یہی بتاتی ہے کہ مسلمانوں نے کسی بھی وقت اور کہیں بھی اس معاملے پر مفاہمت نہیں کی ہے اور جان کی پروا کیے بغیر اس کا جواب دیا ہے۔ مسلمان معاشرے ہی کیا، غیر کے معاشروں میں بھی حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر لوگوں نے اپنی جانیں نچھاور کی ہیں۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے اور اس کا ادراک کرنا بہت سے مسائل سے چھٹکارے کا سبب ہے۔

جو معاملہ اللہ کے حوالے سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے
ایمان کے حوالےسے
عقیدے کے حوالے سے
اور اسلامی شعائر کے حوالے سے ہو تو بہت احتیاط کرنا اور کچھ کہنے سے پہلے سوچنا ناگزیر ہے۔

Comments

ارشد زمان

ارشد زمان

ارشد زمان اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسلام اورمغربی تہذیب پسندیدہ موضوع ہے جبکہ سیاسی و سماجی موضوعات پر بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ تعلیم و تربیت سے وابستگی شوق ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */