جارج اورویل کا ناول 1984 پڑھنے کے لیے دنیا کیوں بیتاب ہے؟ تزئین حسن

جارج اورویل کا قلمی نام اختیار کرنے والا ایرک آرتھر بلئیر 1903ء میں بہار، انڈیا میں پیدا ہوا۔ اس کے خاندان کا تعلق برطانوی اشرافیہ سے تھا جو اس کی پیدائش سے پہلے خوش حالی کھو چکا تھا۔ باپ انڈین سول سروس میں ملازم اور ماں فرنچ باپ کی بیٹی تھی جو برما میں پلی بڑھی۔ غیر معمولی ذہانت کے حامل جارج اورویل نے 46 سال کی عمر پائی لیکن اس مختصر سی عمر میں اس نے ہندوستان اور برما میں برطانوی نو آبادیاتی نظام کے آخری ادوار کو دم توڑتے بھی دیکھا، دنیا میں کمیونزم کو پنپتے ہوئے بھی اور یورپ بلکہ پوری دنیا میں پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریاں بھی دیکھیں۔ تاہم اس کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی آنکھیں ظاہری حقیقتوں سے بلند ہو کر دنیا کے مستقبل کو دیکھنے کی بصیرت رکھتی تھیں۔ وہ ایک صحافی، ناول نگار، نان فکشن رائٹر کی حیثیت سے تمام عمر سماجی ناانصافی، مطلق العنانیت کے خلاف لکھتا رہا، اور اپنے پیچھے کثیر ادبی لٹریچر چھوڑ کر اپنے آپ کو انگریزی زبان کے مقبول ترین ادیب کے طور پر منوا گیا۔ اس کے مرنے سے ایک سال قبل شائع ہونے والا اس کا ایک ناول’ 1984‘ ہے جس نے اکیسویں صدی میں جارج اورویل کو ایک نئی زندگی دی.

جی ہاں! 1984 نامی اس ناول میں جو فکشن کی صنف ڈسٹوپیا ( Dystopia ) سے تعلق رکھتا ہے، مستقبل کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے، آج کی دنیا اور خصوصاً امریکی حکومت، بلکہ ایک گلوبل حکومت پر ہو بہو نہیں تو بہت حد تک پورا اترتا نظر آ رہا ہے۔ قارئین کی آسانی کے لیے یہ بتا دیں کہ ڈسٹوپیا مستقبل کے ناپسندیدہ معاشروں کے بارے میں لکھے ہوئے فکشن کی صنف کو کہا جاتا ہے۔ ’ہنگر گیمز‘ نامی ناول جس نے حال ہی میں مقبولیت کی بلندیوں کو چھوا، ڈسٹوپیا ہی کی صنف سے ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق اس ناول’1984‘ کی فروخت 2013ء میں امریکہ میں نیشنل سیکورٹی ایجنسی (NSA) کے امریکی عوام کی جاسوسی یا survellience کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد دس ہزار فیصد بڑھ گئی تھی، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے ایک فرد کے Alternative Facts نامی ایک اصطلاح کے استمعال کے بعد پینگوئن پبلشر کو ایک ہفتے میں ناول کی 75000 جلدوں کا آرڈر دینا پڑا۔ ایک اندازے کے مطابق یہ اس وقت بھی یہ ’ایمازون‘ (آن لائن فروخت کا ادارہ) پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والا ناول ہے۔

ٹرمپ حکومت کے بعض اقدامات کے خلاف 1980ء میں اس ناول پر بنائی گئی فلم حال ہی میں 190 تھیٹرز میں ایک ساتھ نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ناول میں مستقبل کی ایسی کیا تصویر کشی کی گئی ہے جو آج لوگوں کو پوری ہوتی نظر آ رہی ہے اور لوگ اسے پڑھنے کے لیے بے تاب ہیں؟

ناول کا پلاٹ 1984ء کے لندن کے پس منظر میں ہے جو ایک حکومت اوشیانہ کا ایک صوبہ ہے اور ایک عام آدمی ونسٹن اسمتھ کے گرد گھومتا ہے، وہ ایک مطلق العنان حکومت کے عوام کی نمائندگی کر رہا ہے۔ ناول میں یہ ایک پارٹی کی حکومت اپنے عوام کی ہر چیز حتیٰ کہ دل اور دماغ تک کو کنٹرول کرتی ہے اور اس کے لیے وہ جو ہتھیار یا آلات استعمال کرتی ہے، وہ جارج اورویل کے زمانے میں تو موجود نہ تھے تاہم آج کی ٹیکنالوجی نے انہیں ممکن بنا دیا ہے۔ یاد رہے کہ اس ناول کی اشاعت کے وقت ٹیلی ویژن آیا ہی تھا، انٹرنیٹ تو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا مگر اس ناول کی حکومت جسے Big Brother کا علامتی نام دیا گیا، لوگوں کی گھروں تک میں ہونے والی چھوٹی سے چھوٹی حرکت اور فعل کی بھی ہر وقت نگرانی کرتی تھی۔ اس کی Thought Police پارٹی کے خلاف سوچنے والے تک کو Thought Crimes کے تحت گرفتار کر سکتی ہے۔

آئیے! ناول کے اس پہلو کا آج کی زندگی سے موازنہ کریں۔ آج ہم موبائل اور سوشل میڈیا کی سائٹس کے ذریعہ مسلسل نگرانی میں ہیں۔ فیس بک اور سوشل میڈیا کی سہولتیں بظاہر مفت ہیں مگر یہ ہمارا ڈیٹا کمرشل کموڈیٹی کے طور پر بیچنے کے علاوہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بھی بیچتی ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس نگرانی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم کہاں جاتے ہیں، کس سے بات کرتے ہیں، کیا کھاتے ہیں، کیا شوق رکھتے ہیں، کیا سیاسی و فکری نظریات رکھتے ہیں، کن مزاحمتی تحریکوں کے حق میں ہیں، کس مطلق العنان حکومت کے خلاف ہیں، یہ سب ہمارے موبائل ڈیٹا اور مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ای میلز سے بآسانی معلوم کیا جا سکتا ہے۔ ایک صحافی کن موضوعات یا سٹوریز پر کام کر رہا ہے، کس کے خلاف لکھ رہا ہے، یہ معلوم کرنا حکومت یا کسی بھی ایجنسی کے لیے مشکل نہیں رہا۔ ناول کی یہ پیشن گوئی حرف بحرف صحیح ثابت ہو رہی ہے۔ ناول میں نگرانی، خفیہ مائیکروفون اور کیمروں کے ذریعہ ہو رہی ہے، جو لوگوں کے ٹی وی سیٹس میں نصب ہیں جنھیں بند کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جبکہ آج ہمیں نفسانی خواہشات کے ذریعہ نشے کی طرح موبائل اور انٹرنیٹ کا غلام بنا دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   چٹھی پر وزیراعظم، چٹھی پر کابینہ - جہانزیب راضی

اب آئیں اس ایک پارٹی کے ایجنڈا کی طرف جو تین نعروں کے گرد گھومتا ہے۔ جی ہاں یہ تین نکاتی ایجنڈا یہ ہے کہ
War is Peace, Freedom is Slavery and Ignorance is Strength
یعنی جہالت ایک طاقت ہے، آزادی اصل میں غلامی ہے اور جنگ درحقیقت امن ہے۔ اس حکومت کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ مسلسل جنگ کی حالت میں رہتی ہے اور ہر جنگ کسی نئی جنگ کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ کی 400 سالہ تاریخ میں صرف چار سال ایسے گزرے ہیں جب یہ جنگ کی حالت میں نہیں رہا، اور ان میں سے شاید ہی کوئی جنگ ہو جو اصل میں مدافعتی ہو اور اپنے برابر کے دشمن سے لڑی گئی ہو۔

ناول میں بیان کردہ حکومت بعض اوقات اپنے عوام میں دہشت پھیلانے کے لیے خود اپنے آپ پر بموں کے حملے کراتی ہے۔ جی ہاں! False Flag Attacks تاکہ اپنے عوام کو دہشت زدہ کر کے ان کے ٹیکسوں سے مزید جنگوں کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ جو بات سمجھ نہیں آتی، وہ یہ کہ جارج اورویل نے آج سے ستر سال پہلے یہ کیسے بھانپ لیا کہ کوئی حکومت اپنے عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے خود اپنے آپ پر بھی حملے کرا سکتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ یورپ کی بیشتر حکومتوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد Gladio Operation نامی Flag False حملوں میں ملوث ہونے کا سرکاری طور پر اعتراف کر لیا ہے جن کے مطابق کمیونزم کے خطرے سے بچنے کے لیے اور عوام کو اس سے دور رکھنے کے لیے یورپی حکومتوں کے تعاون سے CIA نے یورپی شہروں میں جعلی دہشت گرد حملے کرائے اور اس کا الزام کمیونسٹوں پر ڈال دیا گیا۔ یاد رہے کہ یورپ میں یہ حملے بھی جارج اورویل کی موت کے کافی عرصہ بعد شروع ہوئے۔

ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ بگ برادرز کی حکومت عوام کو سوچنے کی صلاحیت سے محروم کرنے کے لیے ایسی تفریحات فراہم کرتی ہے جس سے ان کی ذہنی صلاحیتیں سلب ہوجائیں۔ ناول میں Ministry of Truth نامی محکمہ کی ملازمہ جولیا مسلسل پورن لٹریچر پر مبنی کتابیں چھاپتی رہتی ہے۔ آج کے دور میں کسی محکمے کو یہ ناول چھاپنے کی ضرورت نہیں، صرف انٹرنیٹ پر سنسر ختم کرنے کی ضرورت ہے، لوگ خود پورن سائٹس پر ایسی تفریحات کا انتخاب کریں گے۔ اس کے بعد، ان کے ارد گرد، ان کی ناک کے نیچے حکومت کیا کر رہی ہے، یہ جاننے سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں رہتی اور حکومت اپنا کام سہولت سے کرتی رہتی ہے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور ٹی وی کے علاوہ رگبی اور کرکٹ کے کھیل بھی عوام کو ایسی ہی تفریحات فراہم کرتے ہیں جن میں مشغولیت انہیں ان کے حقیقی مسائل پر سوچنے سے باز رکھتی ہے، اور وہ حکومت اور میڈیا کے بیان پر بغیر سوچے سمجھے یقین کرتے ہیں۔ حالیہ امریکی الیکشن میں امریکی عوام کی اکثریت نے جس طرح ٹرمپ کے بولے ہوئے کھلے جھوٹوں پر یقین کیا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایک عام امریکی حقائق سے کتنا بے خبر ہے۔ باقی دنیا کے عوام کا حل بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   شِعارِ حکمرانی - مفتی منیب الرحمن

ناول میں ایک ایسی حکومت کی تصویر کشی کی گئی ہے، جو اپنے حقائق خود گھڑتی ہے، اپنے عوام سے غیر مشروط اطاعت کا مطالبہ کرتی ہے اور اپنے دشمنوں کو ولن بنا کر پیش کرتی ہے۔ دیکھ لیجیے! پچھلے 100 سال میں ہالی وڈ جرمن، روسی، افغانی، عراقیوں سمیت کتنے ہی ولن تخلیق کر چکا ہے۔ یہ حکومت مسلسل اپنے عوام کے ذہنوں پر ہتھوڑوں کی طرح سیاسی پروپیگنڈے کی ضربیں بھی لگاتی رہتی ہے کہ وہ کسی دوسرے بیانہ پر یقین نہ کریں۔ آج CNN اور FOX نیوز جیسے ٹی وی چینلز یہ کام بہت اچھی طرح کر رہے ہیں۔ باقی دنیا کے چینل بھی عام طور سے انٹرنیشنل میڈیا کو دہرانے کا ہی کام کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ حکومت ایسی تمام کتابیں تلف کر دیتی ہے جو پارٹی کے یا اس کے نظریات کے خلاف ہوں۔ یہاں تک کہ تاریخ کو بھی اپنے نظریات کے مطابق مسخ کرنے اور ڈھالنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ عوام کو پارٹی کا وفادار بنایا جا سکے۔ اگرچہ امریکہ میں بظاہر کسی کتاب کو جلایا جاتا ہے نہ ہی کسی صحافی کو گرفتار کیا جاتا ہے مگر معروف سکالر اور Orientalism نامی شہرہ آفاق کتاب کے مصنف ایڈورڈ سعید کا کہنا ہے کہ امریکی سنسر یہ ہے، کاؤنٹر نیریٹو کو مین سٹریم میڈیا میں پہنچنے سے روک دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً 99 فیصد عوام تک یہ نہیں پہنچ پاتا۔ رہی سہی کسر سوشل میڈیا خصوصاً فیس بک پر موجود سنسر نے پوری کر دی۔ کسی کو اس تجزیہ پر اعتراض ہو تو ذرا یاد کر لیں، پچھلے سال کشمیری نوجوان برہان وانی کی شہادت پر دنیا بھر میں فیس بک پر احتجاج کرنے والوں کے فیس بک اکاؤنٹس کے ساتھ کیا کچھ ہوا تھا،. فلسطینی صحافیوں کے تین تین لاکھ فالورز رکھنے والے اکاؤنٹس کو بھی تقریباً اسی دور میں بند کیا گیا۔ یاد رہے کہ آج کا دور کتابوں سے زیادہ سوشل میڈیا کا ہے اور سوشل میڈیا کا سنسر کتابوں اور اخبارات کے سنسر سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔

ناول میں حکومت تاریخ کی تمام پرانی کتابوں کو تلف کر کے نئے سرے سے تاریخ لکھواتی ہے۔ جی ہاں! آج ہالی وڈ اور پاپولر میڈیا یہ کام بہترین طریقے سے انجام دے رہا ہے۔ اب اس ہنر کو ’ہسٹوریکل فکشن‘ کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ تاریخ کو اپنی مرضی کا رنگ دے کر دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس ناول نے انگریزی زبان کو متعدد نئی اصطلاحات عطا کیں جن کا مطلب سمجھنے کے لیے ناول کا پس منظر سمجھنا بہت ضروری ہے۔ مثلاً Big Brother ایک سب کچھ جانے والی مطلق العنان طاقتور اتھارٹی، DoubleThink یعنی لفظوں کا الٹ پھیر مثلاً جنگ کے لیے امن کا لفظ اختیار کر کے اپنے عوام کو اصل حقیقت سے اندھیرے میں رکھنا، Newspeak یعنی سیاسی زبان کو سادہ کر کے محدود کر دیا جائے تاکہ پروپیگنڈا آسان ہو جائے۔ دہشت گردی اور Alternative Facts کی اصطلاحات ناول میں بیان کردہ Newspeak ہی کی شکلیں ہیں؟

آخر میں یہ بات بھی یاد دلا دوں کہ پلاٹ میں بہت سی ایسی باتیں بھی شامل ہیں جن کا موجودہ دور سے کوئی تعلق نہیں مگر ’1984‘ موجودہ دور کی کافی حد تک نمائندگی کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی پیش گوئی 1984 کے بجائے اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں پوری ہو رہی ہے، اور اس کا دائرہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔ تاہم اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا اس وقت ایک ان دیکھی گلوبل پاور کے قبضے میں جا رہی ہے جو تقریباً وہی ہتھیار استعمال کر رہی ہے جس کا ذکر جارج اورویل نے ناول میں کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پیش گوئیوں پر مبنی یہ ناول، جس نے مقبولیت کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے، مغربی ذہن میں کیا تبدیلیاں لے کر آتا ہے.

Comments

تزئین حسن

تزئین حسن

تزئین حسن ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ میں صحافت کی طالبہ ہیں، نارتھ امریکہ اور پاکستان کے علاوہ مشرق وسطی کے اخبارات و جزائد کےلیے لکھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.