محبت، تم سے نفرت ہے - افشاں نوید

یہ جیو ٹی وی چینل کی نئی ڈرامہ سیریل کا نام ہے۔ سیریل کی تشہیر کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اس عنوان سے آج تک کوئی ڈرامہ نہیں بنا۔ نام ہے چونکا دینے والا۔ انسان کی نفسیات یہ ہے کہ ایک جھوٹ بھی بار بار بولا جائے تو اسے سچ لگنے لگتا ہے۔ اسی لیے شریعت میں بچوں کے اچھے اچھے نام رکھنے کی تلقین کی گئی ہے کہ بچہ اپنا اچھا نام بار بار سنے گا تو اس کی شخصیت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ بار بار سنی ہوئی چیز ذہن کی بازگشت بن جاتی ہے۔ اگر بچپن میں کسی سے نفرت کی گئی ہو تو بڑھاپے تک اس کے لاشعور میں وہ ’’ایکو Eco‘‘ محفوظ رہتی ہے۔

اب ایک سماج کے نوجوانوں کی آپ برین واشنگ کر رہے ہیں کہ محبت ہے ہی قابلِ نفرت چیز۔ محبت کو زندگی سے کھرچ پھینکیں تو امن ہی امن ہے۔ ایک نوجوان ٹھہر کر سوچتا ہے کہ واقعی یہ بری بلا ہے، اسی لیے پڑھائی میں اچھے نمبر نہیں آتے۔ دوسرا نوجوان سوچتا ہے نہ کیرئیر ہی بن پایا نہ وہ ہی ہاتھ آئی، چھپ چھپا کے شادی تو کر لی مگر تعلیم ادھوری رہ گئی، اب بےچارے کو رکشہ چلانا پڑتا ہے، ٹیکسی چلانا پڑتی ہے چاہے ’’کریم‘‘ کی ہو یا ’’اوبر‘‘ کی۔ بہرحال ڈرائیونگ کیرئیر تو نہیں ہے مگر انجینئرنگ کے دوسرے سال میں ہی عشق ہوگیا نہ اس بےچاری کی تعلیم مکمل ہوئی نہ خود کی۔

ایک دو تھوڑی سی سینکڑوں بلکہ ہزاروں مثالیں آپ کو مل جائیں گی کہ محبت نے کیسے کیسے رسوا کیا۔ یہ جو نوجوان پوری پوری رات فیس بک پر لگے ہوئے ہیں، سیلفیاں جنون بن کر حواس پر سوار ہوگئی ہیں، حسین نظر آنے کی خواہش میں گھر کے آئینوں کو عاجز کر دیا ہے، فیشن انڈسٹری کامیابیوں کی نئی منزلیں طے کر رہی ہے، نئی بوتیکس، نئی برانڈ، نئے بیوٹی پارلرز، مہنگی ترین کاسمیٹکس، بڑھتا ہوا پلاسٹک سرجری کا رجحان۔ پس پشت تو جو بھی کہیے، ہے یہ موئی محبت جن نے کہیں نہ چھوڑا۔

مزے کی بات میری بیٹی کا بیگ صبح سویرے جب وہ یونیورسٹی جانے کے لیے کھڑی تھی روڈ سے چھین لیا گیا۔ وہ پریشان ہوگئی، اس کا نیا سیل فون، ٹیبلٹ جانے کیا کیا بیگ میں تھا۔ وہ جتنی بار فون کرتی تھی اپنے نمبر پر، جواب میں ایک لڑکی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ میرے بیٹے نے اس لڑکی کو دھمکی دی کہ سچ سچ بتاؤ، یہ موبائل تمھیں کس نے دیا ہے؟ اس لڑکی کے پاس جواب ندارد! دھمکی کچھ کارگر ہوگئی، لڑکی کی بدقسمتی کہ فون اس کو گفٹ کرنے سے پہلے دینے والے کو سم نکالنا یاد نہ رہی۔ نہ جانے لڑکی نے سہم کر کیا کہا کہ اس نوجوان کا فون آیا کہ میرے خلاف کوئی کاروائی نہ کرائیے گا۔ وہ میری کلاس فیلو ضرور ہے مگر میں اس کو بہن جیسا سمجھتا ہوں۔ اور اس کے بعد کبھی اس سم پر دوبارہ بات نہ ہوسکی۔ بیٹی نے بھی سم بند کرانے میں عافیت سمجھی۔ یہ ایک جھلک ہے اس بھٹکی سی محبت کی۔ جس سے واقعی نفرت کی جانی چاہیے جو اچھے بھلے بندے کو اس طرح اندھا کر دے کہ وہ اسٹریٹ کرائم پر مجبور ہوجائے!

یہ بھی پڑھیں:   آئیں نفرتیں بانٹیں کہ - رانا اورنگزیب رنگا

مگر ہم نے تو شعور پاتے ہی جانا تھا کہ ’’جو بھی کچھ ہے محبت کا پھیلاؤ ہے۔‘‘اس لیے کہ زندگی کو قائم ہی محبت نے رکھا ہوا ہے۔ ہمارا رب جو ماؤں سے ستر گنا زیادہ پیار کرتا ہے، جو لاکھ نافرمانیوں پر نہ پہاڑوں کو حکم دیتا ہے کہ ریزہ ریزہ ہوجاؤ اور زمین دھلک جائے اور اس پر موجود سب کچھ فنا ہوجائے۔ نہ ہماری سیاہ کاریوں پر سورج کو حکم کرتا ہے کہ ایسی آگ برساؤ کہ ان کو بھسم کردو۔ نہ سمندروں سے کہتا ہے کہ بپھر جائو اور نیست و نابود کر دو آبادیوں کو، نہ آسمان سے خون کی بارش برساتا ہے، نہ مینڈکوں کی بارش، نہ سڑسڑیاں پھیلاتا ہے، نہ ہمیں بندر بناتا ہے، حالانکہ بدعملی کی کسی بھی جہت میں ہم سابقہ امتوں سے کم نہیں ہیں۔ نہ وہ آکسیجن روکتا ہے، نہ پانی کو کھاری کرتا ہے۔ یہ اس کی محبت کی انتہا ہے کہ ساری کائنات سجا سنوار کر ہمارے حوالے کر دی۔ ہم ناحق خون ریزیاں کر رہے ہیں۔ سپر پاور اپنی فتح کے نشے میں مست ہے۔ معصوم جانیں کلورین گیس کے سبب ہلاکت کی نذر ہوگئیں۔ انسانی زمین پر طاقت کے نشے میں مدہوش قوتیں عجب تماشے کر رہی ہیں مگر قدرت رسی دراز کیے جا رہی ہے۔ وہ انسانوں سے ان کی سطح پر آکر کبھی انتقام نہیں لیتی۔ اس کی دی ہوئی مہلت عمل کا ہم کتنا جائز استعمال کرتے ہیں کتنا ناجائز۔ مگر ہر رات کے پچھلے پہر وہ ہستی پھر ہم نچلے آسمان پر آ کر ہم سے مخاطب ہوتی ہے کہ ’’ہے کوئی مانگنے والا کہ اس کا دامن بھردوں!‘‘، ’’ہے کوئی پلٹنے والا کہ اپنے دامنِ رحمت میں ڈھانپ لوں‘‘۔ سچ تو یہ ہے کہ اللہ ہے بس پیار ہی پیار۔ جو چیز لازم و ملزوم ہو، اس سے نفرت کیسے کی جاسکتی ہے۔ زندگی تو بجائے خود محبت ہے۔ اگر محبت کا جذبہ نہ ہو تو کیسے ایک گوشت پوست کا لوتھڑا وجود ایک کامیاب انسان کی شکل میں ڈھل جائے۔ والدین اپنی جوانی محبت سے نچھاور کرتے ہیں تو اگلی نسل پروان چڑھتی ہے۔ ایک عورت کے لیے کتنی ٹھنڈی چھایا ہوتا ہے اس کے والدین کا وجود، بہن بھائیوں کی محبتیں، پھر شوہر اور اولاد کی محبتیں۔ آج کائنات میں ایک ہی قوت ہے جس نے متمدن معاشروں کو وجود بخشا ہے اور وہ محبت ہے۔ اگر صرف ایک جذبے محبت کو نکال دیں تو جنگل کی زندگی اور انسانوں کی بستیوں میں کوئی فرق نہ رہے گا۔ اور جہاں یہ محبت نہیں ہے وہاں انسان درندوں سے بدتر ہیں۔ جانوروں نے دوسرے جانوروں کا حق مارنے کے لیے نہ ٹینک اور توپ شکن ایجاد کیے نہ ہی کلورین گیس۔ یہ حضرت انسان ہیں کہ انسانیت سے محبت کا جذبہ جب کھرچ پھینکتے ہیں تو انسانوں کی کھوپڑیوں سے مینار تعمیر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   یا خدا! مجھے ٹی وی بنا دے - بشیر عبد الغفار

سوچنے کی بات ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا دہشت گردوں کی زد میں ہے، ہم دہشت گردی کے خلاف برابر برسرپیکار ہیں، ہمارا ذہن، اعصاب اور مزاج بہت تیزی سے مشینوں کی عملداری کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ مستقل غیر یقینی کا شکار نظر آتا ہے۔ تہذیبی جنگ میں ہمارا سرمایہ ہی محبت ہے۔ اپنے دین سے، اپنی اقدار سے، اپنے خاندانوں سے، اپنی آئندہ نسلوں سے، نفرتوں کی بھڑکائی ہوئی جنگ کو صرف محبت کے شعلے ہی سرد کر سکتے ہیں۔ انسان کا انسان سے اور اس کائنات سے رشتہ ہی محبت کا ہے۔ بجائے اس کے کہ ہم ان سازشوں کو سمجھتے کہ محبت کو غلط راستوں پر کس نے ڈالا، اس عظیم انسانی جذبے کا غلط استعمال کس قدر خطرناک ہے۔ ہمیں اس جذبے کو صحیح رخ عطا کرنا ہے۔ زمین کو خوشیوں کا گہوارہ بنانا ہے، اپنی دنیا کو اپنی آئندہ نسلوں کے لیے پرسکون اور امن وآشتی کا مسکن بنا کر چھوڑنا ہے۔ ان اعصاب شکن حالات میں جبکہ ہم نفسیاتی جنگ لڑتے لڑتے بھی تھک چکے ہیں ایک دم یہ اعلان کردینا کہ محبت، تم سے نفرت ہے. کیا یہ اس سماج کے ساتھ بھلائی ہے، خیر خواہی ہے۔

محبت سے نفرت نہیں کی جاسکتی۔ اس صدی میں بیانیے کی بہت اہمیت ہے۔ ہم دنیا کو یہ نہیں بتا سکتے کہ ہم وہ لوگ ہیں جو محبت سے نفرت کرتے ہیں۔ محبت سے نفرت کرنے کے بعد ہمارے پاس بچتا ہی کیا ہے؟ یہ کیسی شرانگیزی ہے؟ یہ کیسی برین واشنگ ہے جو ہمارے نوجوانوں کی کی جارہی ہے۔ ضرورت ہے کہ تماش بین نہ بنیں، سوچیں، سمجھیں، یہ دجالی فتنوں کے دور ہیں۔ محبتوں کو کفن پہنا کر کہیں نفرتوں کی پنیریاں تو نہیں لگائی جارہی ہیں! لہٰذا لازم ہے ہم پر کہ محبت سے نفرت کو پوری قوت سے مسترد کر دیں.

Comments

افشاں نوید

افشاں نوید

روزنامہ جسارت میں کالم لکھتی ہیں۔ نوید فکر کے نام سے کالموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، اسی عنوان سے 5 ماہناموں میں تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں