یہ ہے کم ہمتی جو بےبسی معلوم ہوتی ہے ! - صائمہ تسمیر

اس کی زندگی ایک ڈگر پر سرپٹ دوڑے جارہی تھی۔ ریت کی مانند پھسل پھسل کر مہلتِ عمل کو اپنے ہاتھوں سے سرکتا ہوا محسوس کرنا اور اپنی بےبسی پر آنسو بہانا، اس کا معمول بن گیا تھا۔ مثلِ برف، ہر لمحہ پگھلتی، اپنی بےمصرف زندگی اسے بےچین کیے رکھتی۔ زندگی گویا "صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے زندگی یوں تمام ہوتی ہے " کا مصداق بن کر رہ گئی تھی۔ بہت کچھ کرنا چاہنے کے باوجود، کچھ نہ کرپانے کا کرب جان لیوا ہوتا ہے۔ ہر انسان اپنی زندگی میں اس مرحلے سے ضرور گزرتا ہے کہ جب کوئی راہ سجھائی نہیں دیتا، کوئی کنارہ نظر نہیں آتا۔ انسان خود ترسی کا شکار ہوکر بےبسی اور مایوسی کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی اس کے ساتھ ہورہا تھا۔

اس نے اپنا جائزہ لینا شروع کیا۔ خود اپنا محتسب بن کر اپنے آپ سے سوال و جواب کیے تو اسے احساس ہوا کہ وہ بےبس نہیں ہے۔ کارخانہ قدرت میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ اس کی زندگی بےکار نہیں ہے۔ بس ضرورت ہے اپنے اندر ہمت پیدا کرنے کی، اپنا رخ متعین کرنے کی، اپنی صلاحیت کے مطابق میدانِ عمل کا انتخاب کرنے کی، کچھ کر دکھانے کا جنون پیدا کرنے کی۔ جب یہ تمام عناصر یکجا ہوجائے تو ایک کامیاب اور بامقصد زندگی انسان کے قدم چومنے کو بےتاب ہوتی ہے۔ اس پر جب یہ حقیقت عیاں ہوئی، تو اس نے یہ جانا کہ

کرے ہمت تو، کیاکچھ نہیں انسان کے بس میں
یہ ہے کم ہمتی جو بے بسی معلوم ہوتی ہے !!

اس نے اپنے آپ کو ٹٹولنا شروع کیا تو اس پر انکشاف ہوا کہ قدرت نے اسے لکھنے کی صلاحیت سے نوازا ہے۔ وہ قلم کا درست استعمال سیکھ جائے، تو تحریری میدان میں اپنی صلاحیت منوانے کے مواقع موجود ہے۔ اس نے جب اپنے اردگرد نظر دوڑائی، کامیاب افراد کے احوال کا مطالعہ کیا تو یہ عقدہ کھلا کہ زندگی میں کامیاب ہونے اور کچھ کر دکھانے کے لیے امیر ہونا ضروری نہیں۔ ایسے لوگوں کی مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے، جو انتہائی معمولی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، مگر ناموافق حالات میں بھی محض اپنی محنت اور ہمت کے بل بوتے پر آج دنیا میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔ اس کی ایک دو نہیں ہر شعبے اور طبقے سے سیکڑوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ اگر سیاست کی دنیا کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے جنوبی افریقا کے پسماندہ گاؤں "قونو" کے ایک چرواہے کو آزادی کا ہیرو "نیلسن منڈیلا" بنادیا۔ ریڑھی پر پھل رکھ کر بیچنے والے سوکھے سڑے انسان کو ملائیشیا کا وزیراعظم "مہاتیر محمد" بنادیا۔ انڈیا کی "بھارتیہ جنتا پارٹی" سے تعلق رکھنے والے "نریندر مودی" کے والد "وادنگر" کے ریلوے اسٹیشن پر خوانچہ فروش تھے۔ غریب والدین کا غریب بیٹا اپنی محنت اور جدوجہد کے بل بوتے پر آج بھارت کا وزیراعظم ہے۔ اسی طرح اگر معیشت کی دنیا کی بات کی جائے تو بنگلہ دیش میں غریبوں کے لیے 30 ڈالر سے قائم ہونے والے ڈاکٹر یونس کے "گرامین بینک" نے دنیا کو نیا معاشی فارمولہ دیا ہے۔ اس کے بورڈ آف گورنرز میں آج بھی 13 میں سے 9 ممبران عام اَن پڑھ دیہاتی جفاکش مزدور ہیں۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والا "ولیم کولگیٹ" ایک کسان کا بیٹا تھا۔ اس نے 1806ءمیں اپنے ہی نام پر ایک کمپنی کی داغ بیل ڈالی۔ آج یہ کمپنی "کولگیٹ پام اولیو" کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کے بے شمار ذیلی ادارے 200 ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جاپان سے تعلق رکھنے والا "سوئچرو ہنڈا"ایک غریب لوہار کا بیٹا تھا۔ انتھک محنت کر کے انجینئر اور صنعت کار بنا۔ اس نے 1948ءمیں اپنے خاندان کے نام "ہنڈا" کمپنی کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک لکڑی کی مینو فیکچرنگ بائیسکل موٹرز سے بڑھتی، پھلتی پھولتی ایک کثیر القومی کمپنی آٹو موبائل اور موٹر سائیکل مینو فیکچرر بن گئی۔ تھوڑا سا دور چلے جائیں۔ "کرسٹوفر کولمبس" ایک جولاہے کا لڑکا تھا۔ ناصر الدین بادشاہ بچپن میں ٹوپیاں بیچا کرتے تھے۔ روس کا سابق ڈکٹیٹر اسٹالن ایک موچی کے گھر میں پیدا ہوا۔ فرانس کا مشہور حکمراں نپولین ابتدا میں ایک معمولی سپاہی تھا۔ مشہور سائنسدان "تھامس الوا ایڈیسن" ایک معمولی اخبار فروش تھا۔

ان حقائق کے مطالعہ نے اسے اور بےچین کردیا۔ اس کے ذہن میں ہروقت بس یہی دھن سوار رہتی کہ کچھ کرنا ہے۔ مگر کیسے کرنا ہے ؟ یہ ایک سوالیہ نشان تھا۔ اللہ پاک سچی طلب رکھنے اور کوشش کرنے والوں کی ضرورمدد کرتا ہے۔ اسی بے کلی میں شب و روز گزر رہے تھے کہ ایک دن فیس بک پر مٹرگشت کرتے ہوئے ایک تحریر پر نظر ٹہر گئی۔ ایسا لگا کہ شاید اس کی دلی مراد بر آئی ہے۔ اسے اپنا خواب پورا ہوتا ہوا نظر آرہا تھا۔ اس جادوئی تحریر کو بار بار پڑھا۔ جس میں ممتاز و معروف مصنف و کالم نگار جناب انور غازی صاحب کی طرف سے دعوتِ عام دی گئی تھی کہ اگر آپ لکھاری بننا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں گے۔ ہم بنائیں گے آپ کو میدانِ صحافت کا شہسوار ..!!

اندھاکیا نہ چاہے دو آنکھیں کے مصداق اسے فوراً سے پیشتر استاد محترم کی شاگردی اختیار کرنے کی فکر دامن گیر ہوئی۔ دل میں طرح طرح کے خدشات جنم لےرہے تھے۔ ذہن میں ہل چل مچانے والے تمام خیالات کو جھٹک کر رابطہ کرنے کی ٹھانی۔ اللہ اللہ کرکے یہ مرحلہ بھی سر ہوا۔ اس کی بےکیف زندگی میں گویا خوشگوار ہوا کا جھونکا آگیا تھا۔ سبک رفتاری سے سیکھنے کا مرحلہ آگے بڑھتا رہا۔ استادِ محترم کی ہر لمحہ رہنمائی اور حوصلہ افزائی نے سخت محنت پر آمادہ کیا۔ یوں ہرگزرتے دن کے ساتھ اس کے اعتماد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ وہ دن بھی جلد ہی آگیا کہ اس کی تحاریر اخبارات کی زینت بننے لگی۔ اس کا رواں رواں شکر کے جذبات سے لبریز تھا۔ اسے یہ بات اچھی طرح سمجھ آگئی کہ دنیا میں کوئی مقام حاصل کرنے کےلیے انتھک محنت اور ہمت لازمی ہے۔ بنا محنت کے کامیابی کے خواب دیکھنا نری حماقت ہے۔ اس اسباب کی دنیا میں جو جس رخ پرمستقل مزاجی کے ساتھ محنت کرے گا، وہ ایک دن ضرورکامران ہوگا۔

اپنی قسمت کو دوش دینا، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا، حالات اور زمانے کا شکوہ کرنا کاہل اور ناکام انسانوں کا شیوہ ہے۔ بوعلی سینا کا قول ہے کہ " ایک کاہل شخص خود کو بدقسمت کہہ کر دراصل اللہ پر الزام دھرتا ہے."

اپنی نااہلی، لاپرواہی اور غیر ذمہ داری پر پردہ ڈالنے کےلیے ہم بڑی آسانی سے تقدیر اور قسمت کو مورد الزام ٹہراتے ہیں۔ اس طرح ہم دراصل اپنے آپ کو طفل تسلیاں دیتے ہیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے :

خبرنہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبیکہ خود فریبی
عمل سے فارغ ہوامسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ !!

اے نوجوانو ! خود فریبی سے نکل کر میدانِ عمل میں کود پڑو۔ کامیابی آپ کی راہ تک رہی ہے۔ کامیابی پکار رہی ہے کہ، ہے کوئی باہمت انسان، جو تن آسانی کو خیرباد کہہ کر، محنت و مشقت کو زادِ راہ بناتے ہوئے مجھے حاصل کرلے ...؟؟

Comments

صائمہ تسمیر

صائمہ تسمیر

صائمہ تسمیر کا آبائی تعلق برما کے مسلم اکثریتی صوبے اراکان سے ہے۔ ان کے آبا و اجداد نے 70ء کی دہائی میں اراکان سے کراچی ہجرت کی، جہاں آپ پیدا ہوئیں اور تعلیم حاصل کی۔ آپ کا تعلق شعبہ تدریس و طب سے ہے۔ آجکل ملائیشیا میں مقیم ہیں۔ ایک کالم نگار اور معلمہ ہیں اور اراکان کے موجودہ حالات کو دنیا تک پہنچانے کے لیے پرنٹ اور سوشل میڈیا پر فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.