تیری زلف میں آئی تو حسن کہلائی - ایس احمد پیرزادہ

9 اپریل کو وسط کشمیر کی پارلیمانی نشست کے ضمنی انتخابات کے بعد پھر سے واضح ہوگیا کہ جمہوریت کا جو مکھوٹا دنیا کی سب سے بڑے ’’جمہوری ملک‘‘ نے پہن رکھا ہے وہ اندر سے نہ صرف کھوکھلا ہے بلکہ نام نہاد جمہوریت کا یہ نیا اور نرالا ایڈیشن جھوٹ، فریب اور پروپیگنڈے پر ہی مبنی ہے۔ 2016ء میں وادی کے شہر و دیہات میں چنگیزیت اوربربریت کا کھلا مظاہرہ کرکے جس قوم کے ایک سو سے زائد نوجوانوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سلا دیاگیا ہے، جہاں پندرہ ہزار کے قریب لوگوں کو گولیوں اور پیلٹ کے چھروں سے چھلنی کردیا گیا ہے، جس خطے میں 16 ہزار کے قریب نوجوانوں، بررگوں اور بچوں کو جیلوں کے اندر ٹھونس دیا گیا ہے اُس قوم سے اور وہاں کے لوگوں سے یہ کیسے اُمید کی جاسکتی ہے کہ وہ نام نہاد جمہوری عمل کا حصہ بن جائیں گے، وہ اپنے قاتلوں کو ووٹ دے کر اُنہیں اپنا ہی گلہ کاٹ دینے کا اختیار عطا کریں گے، وہ اپنی تمام تر قربانیوں کو رائیگاں کریں گے، یہ جانتے ہوئے بھی وقت کے پجاریوں نے الیکشن کا اعلان کرکے گویا کشمیری قوم کے زخموں کو کریدکر اُن پر نمک پاشی کرنے کی دانستہ کوشش کی۔

بھارتی ہوم منسٹری، الیکشن کمیشن اور ریاستی حکومت گزشتہ برس کے عوامی احتجاج کے ردعمل میں ضمنی انتخابات منعقد کرواکے پلٹ وار کرنا چاہتے تھے تاکہ لوگوں کو بہلا پھسلاکر تحریک حق خودارادیت کو نہ صرف بدنام کیا جائے بلکہ اس کے لیے قربانیاں دینے والی قوم کا مورال بھی کم کیا جاسکے۔ لیکن اِنہیں معلوم نہیں تھا، یہ 2008ء اور 2014ء کا زمانہ نہیں ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے جہلم میں پانی کے ساتھ ساتھ بہت سارا خون بھی بہا ہے۔ حالات نے کشمیری عوام کی ذہنوں میں یکسوئی اور دور اندیشی پیدا کی ہے۔ سرکاری ایجنسیوں کے تمام تر اندازے اور تخمینے ہوا میں تحلیل ہوئے جب الیکشن کے دوران سرینگر سے گاندربل او ربڈگام تک لوگوں نے زبردست انداز میں اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ پولنگ بوتھوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے۔ ایک ہی دن میں حواس باختہ وردی پوشوں نے بوکھلاہٹ میں اپنی بندوقوں کے دھانے کھول کر 8 ؍معصوم نوجوانوں کو جاں بحق کردیا جبکہ 200 کو زخمی کردیا گیا۔ 24 نوجوانوں کی پیلٹ کے چھروں سے بینائی ہی متاثر ہوئی ہے۔ چند دنوں کے بعد دلہن بننے والی گاندربل کی ایک لڑکی کو اُس کے گھر میں گھس کر وردی پوشوں نے گولی مار کرشدید زخمی کردیااور اُن کے والدین کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔

ظلم و جبر اور زیادتیوں کے باوجود ووٹوں کی شرح چھ فیصد سے زیادہ نہیں بڑھ سکی۔ اپنی خفت مٹانے کے لیے وقت کے حکمرانوں نے جنوبی کشمیر کے انتخابات ملتوی کردئے جبکہ بڈگام کے 38 پولنگ مراکز پر 13 اپریل کو از سر نو انتخابات کرائے گئے۔ دوبارہ کیے جانے والی پولنگ میں شرح دو فیصد رہی ہے۔ کشمیر میں ہونے والے انتخابات کی تاریخ میں یہ سب سے کم شرح ہے۔ ضمنی انتخابات میں گراونڈ زیروپر کیا کچھ ہورہا ہے اس بات سے دنیا کو بے خبر رکھنے کے لیے انٹرنیٹ کو بند کردیا گیا۔ لیکن کشمیر کی نسل نو سائنس اور ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاکر پل پل کی صورتحال کو اپنے موبائل کیمروں میں قید کرتی رہی اور جوں ہی انٹرنیٹ پر سے پابندی ہٹائی گئی الیکشن والے علاقوں میں نوجوانوں نے 9 ؍اپریل کی صورتحال پر مبنی فوٹوز اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کردیے۔ ان ویڈوزکے ذریعہ جہاں الیکشن کے خلاف عوامی غم غصہ دنیا پر ظاہر ہوا وہیں مختلف علاقوں میں فورسز کی ظلم و زیادتیوں سے بھی عالم انسانیت کو آشنائی ہوئی۔

سوشل میڈیا کی زینت بننے والے درجنوں وڈیوز میں سے بھارتی میڈیا نے ایک ویڈو کا انتخاب کرکے اُس میں اپنے حساب سے ایڈیٹنگ کرکے جس زہر اور نفرت کو پھیلانے کی دانستہ کوشش کی اُسے دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ آج کے دور میں فرقہ پرستی، نفرت، عناد اور بغض و حسد کی ذہنیت سے لیس افراد کے ہاتھوں میں ہی بھارت کی باگ ڈور آچکی ہے اور یہ ملک شدت پسندی کے تمام تر ریکارڈ ٹوڑنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نعیم صدیقی کشمیری، ایک گمنام شخص و شاعر - بانی عمر

جس ویڈیو کے ذریعے بھارتی میڈیااور حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ چند کرکٹ کھلاڑیوں اور فلمی مسخروں نے واویلا کر کے کشمیریوں کا قتل عام کرنے کی باتیں کی ہیں اُس ویڈیو کو اگر یہ لوگ نفرت کی عینک اُتار کر دیکھ لیتے تو اُس میں بھی نفرت سے زیادہ کشمیریوں کی انسان دوستی ہی جھلکتی نظر آتی ہے۔ چند ایک نوجوانوں کو چھوڑ کر اکثر نوجوان سی آر پی ایف کے اُن اہلکاروں کو بڑے ہی مہذب طریقے سے راستہ دکھا رہے تھے۔ ذمہ دار نوجوان جوشیلانوجوانوں کو ٹوکتے ہوئے دیکھائی دے رہے تھے۔ اس کے برعکس بھارتی میڈیا کو وہ بہت سارے ویڈیوز نظر کیوں نہیں آئے ہیں جن میں ’’مہان دیش‘‘ کی ’’مہذب‘‘ فوج ایک راہ گیر نوجوان کو گاڑی کے ساتھ باندھ کر اُسے انسانی ڈھال بناتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ میڈیا اور بھارتی تجزیہ نگاروں اور ٹوٹیر نوٹنکیوں کو وہ ویڈیو کیوں دکھائی نہیں دیا جس میں ایک سی آر پی ایف اہلکار محض پانچ یا چھ گز کی دوری سے ایک کمسن نوجوان کو راست سر پر گولی مار کر جان بحق کردیتا ہے۔ بھارتی پروپیگنڈا مشینری کے کل پرزوں اور اُن کے مقامی چمچوں کی آنکھوں کو وہ ویڈیوز نظروں سے کیوں نہیں گزرے جن میں ایک آٹھویں جماعت کے طالب علم کو دس پندرہ فورسز اہلکار پکڑ کر ڈنڈوں او ربندوق بٹھوں سے زد کوب کررہے تھے۔ کسی کو پرامن احتجاجی طلبہ پر راست فائرنگ نظر نہیں آرہی ہے جو بھارتی فوجیوں نے 17 اگست کو پوری وادی میں کالج اور یونیورسٹی طلبہ کے جلوسوں پر کی ہے۔ ان مظاہروں کے دوران فائرنگ کے واقعات میں ایک سو کے قریب طلبہ و طالبات زخمی ہوئے ہیں۔

المیہ یہ ہے وزیر اعلیٰ سے لے کر پولیس کے اعلیٰ افسران تک فورسز اہلکاروں کی حقوق بشری کی شرمناک خلاف ورزیوں پر اُنہیں اپنے بیانات سے شاباشی دیتے ہیں۔ دلی کے ایک اخبار نے محبوبہ مفتی کا یہ بیان اپنی ایک رپورٹ میں شائع کردیا ہے کہ’’ فوجیوں کا نوجوان کو گاڑی سے باندھ کر ہیومن شیلڈ بنانا صحیح عمل تھا۔ ‘‘اس ویڈیو پر عمر عبداللہ کے ٹویٹ پر دہشت گرد انہ ذہنیت رکھنے والے ہندوستان کے بڑے میڈیا ہاوسز سے وابستہ نامی گرامی صحافیوں نے کہا کہ کشمیریوں کو ہیوم شیلڈ بنانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ حالانکہ مہذب دنیا کے قوانین میں انسان کو ڈھال بنانا جنگی جرائم میں شامل ہے او ریہ جرم یہاں وردی پوشوں کا نوے کی دہائی سے ہی معمول رہا ہے۔ محبوبہ مفتی کی جانب سے انسانیت، بھائی چارہ اور کشمیریت کی باتیں رٹنے سے انسانیت اور بھائی چارہ کی مثالیں قائم نہیں ہوتی ہیں۔ اس طرح کے دوغلا پن سے ان کی اصلیت ہر آنے والے دن کے ساتھ پوری دنیا کے سامنے عیاں ہوجاتی ہے۔ بہروپیا پن ظاہر ہوجاتا ہے، مگر مچھ کے آنسوں بہانے اور ڈرامہ بازیاں کرنے سے زیادہ دیر تک قوموں کو فریب نہیں دیا جاسکتا ہے۔

زمینی حالات سے سبق سیکھ لینے کے بجائے بھارتی حکمرانوں کا گھمنڈ اور طاقت کا نشہ اُنہیں حقیقت حال کا ادراک ہونے نہیں دیتا ہے۔ بھارتی ہوم منسٹر راجناتھ سنگھ سینہ ٹھونک کرکہتے ہیں کہ وہ ایک سال کے اندر کشمیر کے حالات کو معمول پر لائیں گے۔ کس طرح لائیں گے اس کا اندازہ اسی بیان کے اگلے حصے سے بخوبی ہوجاتا ہے جس میں وہ فوجی سربراہ بپن راوت کے بیان کی تائیدکرتے ہیں کہ سنگ بازی اور نعرہ بازی کرنے اور سبزہلالی پرچم لہرانے والوں کو جنگجو تصور کیا جائے گا۔ یعنی اُن کا مقابلہ بالکل اُسی طرح کیا جائے گا جس طرح ہتھیاروں سے لیس عسکریت پسندوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ بپن راوت کے بیان کے بعد سے تاحال دو درجن کے قریب عام اور نہتے نوجوانوں کو گولی مار کر ابدی نیند سلا دیا گیا ہے۔ یہی وہ فارمولہ ہے جس کے ذریعے سے ایک سال کے اندر کشمیرمیں قبرستان کی سی خاموشی قائم کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   مبارک ہو کشمیر مسئلہ حل ہونے کو ہے - ابراہیم جمال بٹ

اب تو گوتم گھمبیر جیسے کند ذہن کرکٹ کھلاڑی بھی اپنی حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ کشمیر میں آزادی مانگنے والوں کا قتل عام کیا جائے۔ بھارتی میڈیا اس کے لیے ماحول سازگار بنارہی ہے۔ شاید کشمیریوں کو طاقت کے ذریعے سے دبانے والے لوگوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ کشمیری قوم کا تعلق کس ملت سے ہے، اُن کا عقیدہ کیا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت سے تعلق رکھنے والی اس قوم کا ریکارڈ دنیا کی تاریخی کتابوں میں موجود ہے کہ یہ ہر زمانے میں گر کر سنبھلنے والی قوم ہے، یہ راکھ میں سے چنگاری بن کر کھڑا ہونے والے لوگ ہیں، یہ قربانیوں سے اپنے وطن کی سرزمینوں کو اس انداز سے سیراب کرتے ہیں کہ اُن سے جنم لینے والی نسلوں میں پھر طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے لوگ پیدا ہوجاتے ہیں۔ مسلم ملت کو مٹانے کا خواب دیکھنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ملت مٹنے کے لیے نہیں بلکہ دنیا میں اپنی بقاء کی جنگ جیتنے کے لیے وجود میں آئی ہے۔ گوتم گھمبیر اور انوپم کھیر جیسی پست سوچ رکھنے والے فرقہ پرست لوگوں کوسستی شہرت پانے کے لیے اُنہیں کسی مظلوم قوم کی توہین کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہمیں ہمارے وطن سے چلے جانے کا مشورہ دینے والے ان عقل کے اندھوں کو آج تک کسی نے تاریخ کا صحیح سبق شاید پڑھایاہی نہیں ہے۔ اُنہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ کشمیر پر ہندوستان نے اپنا تسلط قائم کیا ہوا ہے۔ یہ متنازعہ خطہ ہے اور اس پر یہاں کے باشندوں کا حق ہے۔ یہ جو یہاں آپ کے ملک کی دس لاکھ فوج ہے اور اس پر مستزاد لاکھوں غیرریاستی مزدور اور بھکاریوں کے علاوہ ہر سال آنے والے لاکھوں یاتری ہمارے حقوق کو سلب کررہے ہیں۔ اُنہیں یہاں سے جانا چاہیے نہ کہ یہاں کے مقامی باشندوں کو کوئی جانے کے لیے کہے۔

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ عوام کے ساتھ برسر جنگ افواج نے کبھی فتح نہیں پائی ہے۔ وقتی طور عوام کو دبایا جاسکتا ہے، اُنہیں ہراساں کیا جاسکتا ہے، اُن کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جاسکتا ہے، حقائق سے متعلق دنیا کو گمراہ بھی کیا جاسکتا ہے مگر بالآخر عوام او ررائے عامہ کی ہی فتح ہوجاتی ہے۔ دلی میں مودی سرکار، راجناتھ سنگھ جیسے اُن کے وزیر، جھوٹ پر مبنی ہندوستانی میڈیا کشمیریوں کو بدنام کرنے کے لاکھ جتن کریں، گوتم گھمبیر اور اُن کے جیسے سستی شہرت پانے کے لیے اُتاولے لوگ حق خود ارادیت کی مانگ کرنے والوں کے خلاف کتنے ہی اشتعال انگیز بیان کیوں نہ دیں، صداقت یہی ہے کہ کشمیر میں وردی پوش فورسز اہلکار جنگی جرائم میں ملوث ہیں۔ بے پناہ اختیارات کے حامل فوجی یہاں لوگوں کو مارنا اپنا حق سمجھتے ہیں، یہاں کے حکمرانوں اور دلی میں بیٹھے اُن کے ماسٹرز کشمیری عوام کو بھیڑ بکریوں سے زیادہ وقعت نہیں دے رہے ہیں۔ لیکن اس سب کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو کچھ ہندوستان کی سرکاریں سوچیں، اُن کی فوج اور میڈیا سوچے، یہاں کام کرنے والے اُن کے کٹھ پتلی سوچیں او رکہیں وہی سچ ہوگا بلکہ سچائی کشمیری قوم کے مجموعی رجحان سے جھلکتی ہے۔ حقیقت الیکشن میں کشمیریوں کے فقید المثال بائیکاٹ سے سامنے آجاتی ہے، سچائی سینوں پر گولیاں کھانے والے جوانوں کی قربانیوں سے واضح ہوجاتی ہے۔ دیر سویر طاقت کے نشہ میں بدمست لوگوں کو بھی اور عالم انسانیت کو بھی حقائق کا ادراک کرنا پڑے گا اور اُنہیں کشمیری عوام کو اپنے بنیادی حقوق دینے پڑیں گے۔ میڈیا پر پروپیگنڈا اور واویلا کرنے والے اس خیال خام اور زعم میں مبتلا نہ رہیں کہ اُن کے چیخنے چلانے سے برسر جدوجہد قوم خوف زدہ ہوجائے گی اور وہ دب جائیں گے، ہم تو یہ کہتے ہیں کہ تمہاری یہی بوکھلاہٹ ہماری آواز دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کا سبب بن جاتی ہے، تمہاری شدت پسندی اور تمہارا یہی پروپیگنڈا ہماری بات اُن کانوں تک پہنچاتی ہے جن تک ہمارا رسائی نہیں ہے۔