پہلو خان کی موت اور سپریم کورٹ- محمداکرم ظفیر ، مشرقی چمپارن

یوپی کادادری 2015میں اس وقت سرخیوں میں آیاتھاجب مذہبی جنونیوں نے انسانیت کاننگاناچ ناچ تے ہوئے بیف کاگوشت رکھنے کے شبہ میں اخلاق کوپیٹ پیٹ کرموت کے گھاٹ اتاردیاتھا.اس کے بعدریاستی سرکارکی عدم توجہی اورمرکزی حکومت کی خاموش مہربانی نے شرپسندعناصرکے حوصلے اس قدربلندکردیے کے چلتے پھرتے منہاج انصاری کودرخت پہ لٹکاکرمارکرانسانیت کوشرمسارکردیا.ٹرینوں میں مسلمانوں کوحراساں کیاگیا.ہرروز،ہفتہ یہ خبرآتی ہے کہ ملک کی کسی جگہ پہ گؤ رکشکوں نے گائے کوبازارلے جارہے ٹرک کوآگ کے حوالے کردیااورمزدوروں کوماراپیٹاگیا.گجرات میں کھال چھیلنے پہ دلتوں کوجس طرح ماراگیا اس ویڈیونے ھندوستان کاسردنیا کے سامنے خم کرنے پہ مجبورکردیا.اب جب کہ ملک کی سب سے بڑی ریاست میں تاریخی جیت درج کے بعدملک بھرکے گؤ رکشک تنظیموں نے کمرکس لی ہے.

راجستھان کے ضلع الور کے بہروڑعلاقے سے جوتصویرسامنے آئی ہے اس نے دادری و گجرات میں دلتوں کی پٹائی کی یاد تازہ کردی ہے .پہلوخان نامی شخص کواس قدرپیٹاگیاکہ موت ہوگئی.میڈیا کی مانیں تو پہلوخان اپنے ساتھی کیساتھ کاغذی طورپہ جئے پورسے گائے کو ہریانہ لے جارہے تھے کہ 16لوگوں پہ مشتمل گؤرکشکوں نے پہلوخان کوبْری طریقے سے مارا. ویڈیو فوٹیج میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ کس طرح انسان کی شکل میں بھیڑیے کالبادہ اوڑھ کرگؤ پریمی پہلوخان کوگھسیٹ رہا ہے. تین چار اگراد مل کر مار رہے ہیں.زمین پہ باربار دباکر مارا گیا اور بالآ خر اسپتال میں روتے بلکتے بچوں کوالوداع کہہ دیا. حملے میں بال بال بچے عظمت نے جو رودادسنائی ہے وہ ھندوستان کے ماتھے پہ دھبہ ہے.اس انسانیت سوز کے بعد لوک سبھا و راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے اس جانب سرکارکی توجہ مبذول کرانیکی کوشش کی. غورطلب بات یہ ہے کہ بی جے پی پارلیمانی امور کے وزیر مختارعباس نقوی نے میڈیا کی خبروں کو جھٹلاتے ہوئے جو باتیں کہی ہیں ان کی زبان سے اچھا نہیں لگتاکہ راجیہ سبھا میں انہوں نے ایسے کسی واقعے کے ہونے سے انکارکردیااوراخبارات کی رپورٹ کوغلط قراردیا.
سپریم کورٹ نے اس معاملے میںِ تحسین پوناوالااوردیگرلوگوں کی درخواست پہ سماعت کے دوران اچھی پہل کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے علاوہ راجستھان،گجرات،مہاراشٹراوراترپردیش سمیت 06ریاستوں کونوٹس جاری کرتے ہوئے تین ہفتے کے اندرپوچھا کہ کیوں نہ گائے کے نام پہ تشددکرنے،لوگوں کی جان لینے،قانون کوبالائے طاق رکھنیوالے ان گؤ رکشکوں اوران سے منسلک جماعتوں پہ پابندی لگادی جائے.سپریم کورٹ کایہ تیور قابل تعریف قدم ہے. لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیاکورٹ اپنے اس فیصلے پہ قائم رہتے ہیں یاپھرسیاست کی نذرچڑھ جاتاہے ہیں جیسا کہ اکثر معاملے میں ہوتا رہاہے.
اگرہم یوں کہیں توغلط نہیں ہوگاکہ جولوگ گائے سے محبت کادعوی پیش کررہے ہیں، گؤ رکشک تنظیم چلاتاہیوہ دوسری طرف غیرقانونی کاموں میں ملوث ہوتے ہیں.گائے کی سواری کرتے ہوئے اپنی سیاست چمکاتے ہیں.زیادہ ترگؤ رکشک مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہیں.ایساخودوزیراعظم نے ہی کہاتھا.
بہرحال گجرات،اترپردیش اور بہاران دنوں گؤ رکشکوں وفرقہ پرستوں کی بارودپہ ہے.نہ جانے کب کس جگہ کیا ہوجائے.سپریم کورٹ نے پہلوخان کی موت پر ایکشن لیتے ہوئے اچھا قدم اٹھایا ہے.اب دیکھنا ھیکہ کیاسپریم کورٹ گؤ رکشکوں پہ پابندی لگاکرتاریخ رقم کرتی ہے یا پھر کچھ اور!!

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam