تمھیں ماننا پڑے گا – زبیر منصوری

تمھیں ماننا پڑے گا،
جلد یا بدیر، تم سب مانو گے،
اور اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہ ہوگا،
کہ وہ مرد آہن ہے،
مرد میدان ہے،
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دل تک اتر جانا، کہیں تیر بن کر اور کہیں محبت بن کر،
اسے یہ فن خوب آتا ہے.

وہ جب پیار بھری نظر سے لاکھوں کے مجمع کو دیکھتا ہے اور رابعہ کا نشان بناتا ہے تو امت کا ہر پیر و جوان اس کی محبت کے سحر میں گرفتار ہونے کو تیار ہو جاتا ہے اور اُدھر دوسری طرف جب وہ تیوری ڈال کر کرخت چہرے کے ساتھ مغرب کی طرف دیکھتا ہے تو پتہ پانی کر دیتا ہے.
دنیا مانے گی اور جلد مانے گی کہ اسے برسوں بعد کوئی بڑا آدمی نصیب ہوا ہے.

مجھے یقین ہے کہ استاد کی روح اس کامیابی سے خوش ہوئی ہوگی، اسے راحت ملی ہو گی کہ آج اس کے شاگرد نے کروڑوں دل فتح کر لیے ہیں.
استاد! میرا اور اردگان کا مشترکہ استاد!
استاد اربکان! وہ جو کیرئیر کے شاندار عروج پر بیرون ملک سے واپس لوٹ آیا تھا، اس وقت کہ جب دنیا اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اس کی نذر کی گئی تھی مگر وہ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا چاہنے والا اپنے وطن لوٹ آیا تھا، اسے آنے والے کل کے لیے اردگان اور عبداللہ گل جو تیار کرنے تھے، اور پھر استاد نے اپنا آج اپنی امت کے کل پر نچھاور کر دیا، اور آج اس کا اردگان جسے اس نے شہر کی سڑکوں پر ٹافیاں بیچتا اور فٹبال کھیلتا پایا تھا، آج اس کا وہی ننھا سا اردگان جیت کے جھنڈے گاڑ رہا ہے، اپنے ہی ریکارڈ توڑ رہا ہے.
تو مجھے استاد اربکان بے پناہ یاد آ رہا ہے۔

اے اللہ! کوئی استاد تو ہمارے حصے میں بھی؟؟
اے اللہ! کل میں وہاں پشاور میں بیسیوں اردگان دیکھ کر آیا ہوں، مٹی میں رلتے، معصوم، جذبوں اور صلاحیتوں سے لبریز!
ضرورت ہے تو بس اربکان کی جو گرم ہاتھوں کی تمازت سے انھیں کچھ سے کچھ بنا دے.

وہ سامنے اسلام آباد ائیرپورٹ کے شیشوں سے ابھی ایک سورج ابھرتا دیکھا ہے،
اے اللہ! اس سورج کو ہمارے لیے امید بنا دے،
ہماری نم آنکھوں کی لاج رکھ لے.
اے اللہ! ہم تاریک نصیبوں کوبھی کوئی ”استاد“ عنایت کر دے!
کوئی دور تک دیکھ کر دیر تک سوچ کر راستہ بتانے والا ”استاد“

Comments

FB Login Required

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

Protected by WP Anti Spam