ہر لڑکی کسی آشنا کے ساتھ نہیں بھاگتی - محسن حدید

میرے سوال پر ایک بار اس کا سارا جسم ہل گیا، یوں جیسے اسے شدید جھٹکا لگا ہو، اس نے آنکھیں اٹھائیں، اب گھبرانے کی باری میری تھی، اتنی وحشت اور ویرانی۔ میں نے بےاختیار نگاہیں پھیر لیں، ان آنکھوں میں دیکھنا مشکل تھا. مجھے یاد آیا کہ بچپن میں ایک بار چڑیا گھر گئے تھے تو جنگلے کے باہر سے ایک بیمار شیرنی کو دیکھتے ہوئے مجھ پر ایسی ہی کیفیت طاری ہوئی تھی، وہ شیرنی جس کے حصے کی خوراک چڑیا گھر والے بیچ دیتے تھے اور آخر ایک دن وہ بھوک سے مرگئی. خاموشی کا وقفہ طویل ہوا تو میں نے سوال دہرایا، اس بار وہ اپنی کیفیت پر قابو پاچکی تھی، مگر نارمل نہیں تھی، میز کی دوسری سائیڈ پر سامنے رکھے صوفے پر بیٹھی ہوئی لڑکی کی آواز یوں محسوس ہو رہی تھی جیسے کسی گہرے کنویں سے آ رہی ہو، یوں جیسے پرانے کنویں میں گرنے والے کسی انسان کا زہریلی گیسوں سے دم گھٹ رہا ہو اور وہ کسی کو مدد کے لیے پکار رہا ہو. میں پہچان نہیں سکا، درد تھا، نفرت تھی یا لاچاری، مجھے تسلیم کرنا پڑا کہ آوازوں کو پہچاننے کا ہنر ابھی مجھے نہیں معلوم۔

ہم سات بہنیں تھیں. میں سب سے بڑی تھی. بابا کی زمین دو ایکڑ تھی اور یہی ہماری گزر بسر کا واحد ذریعہ بھی تھا. جب اس نے لفظ بابا بولا تو ایک بار جیسے آواز ٹوٹ سی گئی. گہری سانس لیتے ہوئے اس نے بمشکل حوصلہ مجتمع کیا اور اپنا جملہ مکمل کیا. بابا جانی سارا دن محنت کرتے اور اتنا ہی حاصل ہوتا کہ ہماری روٹی چلتی رہتی. ماں بھی ساتھ جاتی تھی لیکن بیٹے کی تمنا میں سات لڑکیاں جننے والی عورت کے پلے ہی کیا ہوتا ہے۔ ماں لاغر تھی، اکثر تو بیمار ہی رہتی، شہر لے کر ہم جا نہیں سکتے تھے، سوگاؤں کے حکیم کی پھکیاں کھا کھا کر ماں دن بدن کمزور ہوتی جاتی تھی. تین چھوٹی بہنوں کی ذمہ داری بھی اب میرے سر تھی، میں پانچویں میں تھی جب سکول چھوڑنا پڑا، ویسے میں پڑھنا بھی چاہتی تو گاؤں میں پانچویں سے بڑی کلاس ہی نہیں بیٹھتی تھی، مجھے شہر جانا پڑتا اور یہ کبھی نہیں ہونا تھا. آخر ایک دن ماں مر گئی، رشتے دار اکٹھے ہوئے، پہلی بار میری پھوپھی نے میرے باپ کو بتایا کہ تیری لڑکی تو جوان ہوگئی ہے، اس کی شادی کر دے. باپ نے بھی شاید پہلی دفعہ ہی غور کیا ہوگا کہ میں اب جوان ہوں، انہوں نے پھوپھو سے کہا کہ کوئی رشتہ ڈھونڈو، شادی کی بات کون نہیں سننا چاہتا لیکن تب ہم ابھی رسم قل سے فارغ ہی ہوئے تھے، وہ رسم قل جو ساون کے مہینے میں ہوتی ہے جب کپاس کی فصل پر خرچہ کرکے کسان مقروض ہوا ہوتا ہے اور ختم درود کے لیے بھی اسے ادھار مانگنا پڑتا ہے۔ میں نے غور کیا ماں کے مرنے پر اسے اتنا دکھ نہیں لگتا تھا یا شاید اب محسوس نہیں ہورہا تھا.

اپنے چہرے پر میری نظروں کی چبھن محسوس کرکے وہ کچھ گڑبڑا سی گئی اور پانی مانگا. میں نے پانی کا گلاس اس کے سامنے رکھ دیا اور اپنی کرسی پر آبیٹھا. پانی پیتے ہوئے اس نے جیسے حواس پر قابو پایا تو گویا ہوئی:
کچھ دنوں بعد رشتہ آگیا، وہ تین خواتین تھیں، انہوں نے میرا جائزہ لیا اور مجھ سے زیادہ جائزہ گھر کا لیا، دو کمروں پر مشتمل کچی دیواروں والا گھر جس کے ایک کونے میں چھوٹا سا چھپر تھا، وہی ہمارا کچن بھی تھا۔ ماں کی پرانی ڈولی میں ہمارے گھر کے سارے برتن آجاتے تھے، کچھ قیمتی پیتل کے برتن رہائشی کمروں کی پرانی دوچھتی پر رکھے ہوئے تھے، لکڑی کے بوسیدہ دروازے والا ٹوائلٹ جو ہم نے منتوں سے بنوایا تھا. پاپا تو کہتے تھے کہ کھیتوں میں چلی جایا کرو، پر مجھے الجھن ہوتی تھی سو بمشکل بنوایا گیا ٹوائلٹ مجھے بہت بڑی نعمت لگتا تھا. گفتگو کرتے ہوئے پہلی دفعہ اس کے چہرے پر اداس سی مسکراہٹ ابھری. گاؤں کی دکان سے ادھار اٹھائے گئے بسکٹ، نمکو اور کوکا کولا کی بوتل سے ہم نے ان کی تواضع کی. ساتھ میں ابا گاؤں کے چوپال سے کٹے کا گوشت لے آیا جو بھون کر ہم نے ان کے آگے رکھا، خواتین کھاتی رہیں اور پھوپھو کے ساتھ باتیں کرتی رہیں، ابا چپ بیٹھے سنتے رہے، چھوٹی بہنیں ایک دوبار کمرے میں گئیں تو پھپھو نے ڈانٹ کر باہر نکال دیا، مجھے ہی کھانا بنانا تھا۔ حبس کے دن تھے بھوک والے، گھروں میں تبت کریم سے تو چہروں پر رونق نہیں آتی صاحب۔
یہ جملہ کہتے ہوئے عجیب خود ترحمی اس کے لہجے میں در آئی، میں نے پہلی بار غور کیا، کبھی وہ صاف رنگت والی رہی ہوگی پر اب وہاں ویرانی تھی، چھائیاں تھیں اور اندر کو پچکے ہوئے گال تھے. اس نے بھی محسوس کیا کہ میں کیوں اسے دیکھ رہا ہوں. بولی، صاحب جی! میں تب ایسی بھی بری نہیں تھی، بہت معقول تھی، اب وہ جیسے صفائی دے رہی تھی. میں کچھ بول نہیں سکا، صرف سر ہلا کر رہ گیا.
اس کی بات جاری تھی. میں انہیں پسند نہیں آئی مگر یہ بات انہوں نے ہمیں جاتے ہوئے بتائی. کاش! وہ آتے ہی بتا دیتیں تو میں انہیں بھگا دیتی، میری چھوٹی بہنیں اتنے شاندار کھانے کا مزا اٹھا لیتیں. صاحب! میں کھانا بہت مزے کا بناتی تھی، ماں سے سیکھا تھا.
مجھے لگا جیسے وہ اپنے گھر کے کچے صحن میں پہنچ گئی ہو، دوپٹے کے پلو سے آنسو پونچھتے ہوئے اس کی آواز رندھ گئی. میں چپ رہا. کمرے کا ماحول جیسے ایک دم سیلن زدہ سا ہوگیا تھا، میں نے ائیر فریشر چھڑکایا، لیکن احساس کے سیلن کی بو بھلا کیسے دور ہوسکتی تھی. وہ اب رو رہی تھی. میں نے لیپ ٹاپ پر انگلیاں مارنا شروع کر دیں، اس کے آنسوؤں کی تقدیس جو عزیز تھی.

یہ بھی پڑھیں:   اللہ کا فضل ہے - صادق رضا مصباحی

ماحول میں کچھ بہتری آئی تو سلسلہ تکلم جوڑتے ہوئے وہ پھر گویا ہوئی: صاحب! یہ پہلا رشتہ نہیں تھا، اگلے دو مہینوں میں کئی رشتے آئے اور ہمیں رد کر کے چلے گئے. مجھ تک تو وہ جیسے پہنچتے ہی نہیں تھے، لوگ مجھ سے پہلے گھر کے درودیوار کو ہی جیسے رد کر دیتے تھے۔ کسی نے کبھی پوچھا ہی نہیں کہ لڑکی کے ہاتھ میں کیا ہنر ہے؟ لڑکی کیسی ہے؟ کھانا کیسا بناتی ہے؟ کپڑے کیسے سیتی ہے؟ صاحب! میں کپڑے بہت کمال سیتی تھی لیکن آنے والے تو جیسے میرے بہنوں کو گننے آتے تھے. ہمارے گھر کی ٹوٹی ہوئی دیواروں کی اینٹوں کا حساب رکھنے آتے تھے. ایک خاتون تو جاتے ہوئے بابا کو بتا کر گئیں کہ جمال دین یہ ساون تو گزر گیا لیکن اگلے ساون سے پہلے اس چھت کے بالے ضرور بدل لینا ورنہ کسی دن چھت تم پر آگرے گی. بابا سر جھکا کر سنتا رہا. پتا نہیں اس دن اپنے ہاتھوں میں کیا تلاش کر رہا تھا. صاحب! مجھے لگا کہ آگے بڑھ کر اس عورت کی چوٹی پکڑوں اور اسے بتاؤں کہ تم جیسے کتنے طوفان ہم پر روز نازل ہوتے ہیں لیکن میں بول نہیں سکی. پھوپھو بھی اب روز روز ہمارے گھر آ کر تنگ آچکی تھی. اب اس نے مجھے منحوس کہنا شروع کر دیا تھا. پھوپھی کہتی تھی جمالے یہ لڑکی منحوس ہے ورنہ اب تک رشتہ ہوجاتا. جمالے سوچ 7 بیٹیاں کیسے بیاہے گا. جمالا بے بسی سے بہن کو دیکھ کر کہتا کہ اب میں کیا کر سکتا ہوں. پہلی بار اس نے اپنے باپ کا نام لیا لیکن باپ کے نام کے ساتھ ہی اس کے لہجے میں حلاوت سی در آئی تھی.

میرے محلے کی ایک فیملی لاہور چلی گئی تھی. ایک بار وہ گاؤں واپس آئے تو خالہ ہمارا حال پوچھنے آئیں. ان کی زبانی پتہ چلا کہ وہ لاہور میں ایک فیکٹری میں جاتی ہیں. ان کی بیٹی جو کبھی میری کلاس فیلو تھی، وہ بھی فیکٹری جاتی ہے، اگر بابا اجازت دیں تو وہ میری نوکری کی بھی بات کر سکتی ہیں. وہ مشورہ دے کر چلی گئیں، میں نے بابا سے بات کی. بابا تو بھڑک اٹھا. اب تو میری ناک کٹوائےگی، وہ تو میراثی ہیں، ہم اونچی ذات والے اپنی بیٹی کو فیکٹری میں کیوں بھیجیں؟ بابا لیکن وہاں سے کچھ پیسے آجائیں گے اور ہمارے حالات بدل جائیں گے. میں اور راشدہ دونوں اکٹھی جائیں گی. گاؤں کے سٹاپ پر ان کی بس آتی ہے، روز شام کو ہم گھر آجائیں گی. بابا کو بات کچھ کچھ سمجھ آنے لگی. راشدہ بھی اب بابے کے سامنے آکر بیٹھ گئی تھی. چھوٹی بہنیں سکول گئی تھیں. ہم دونوں بابے کو منانے لگیں کہ کیسے ہمارے حالات بدل جائیں گے. بابا مان گیا. کچھ دنوں بعد ہم دونوں بہنیں فیکٹری جانے لگیں. ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ میرا تایا اور محلے کا رہائشی ایک بزرگ جو ابا کا چاچا تھا، ہمارے گھر آپہنچے اور بابے سے کہا، جمالے! تو اب ہمیں ذلیل کروائے گا، اب تیری بیٹیاں کمیوں کی اولادوں کی طرح فیکٹریوں میں جائیں گی، یہ ہمارے وارے میں نہیں، ہم عزت دار لوگ ہیں. بابا ان دونوں کا بہت احترام کرتا تھا سو سنتا رہا، مجھ سے برداشت نہیں ہوا، میں کمرے سے باہر نکل آئی اور کہا کہ تایا کھیتوں میں بھی تو ہم کام کرتی ہیں، اگر فیکٹری میں کر لیں گی تو ہمارے حالات کچھ بدل جائیں گے. تایا تو جیسے میری بات سن کر ہتھے سے اکھڑ گیا. اب تو مجھے سمجھائے گی؟ اپنے تائے کو سمجھائے گی؟ ساتھ ہی بابے کو برا بھلا کہنے لگا، جمالے یہ دن بھی آنے تھے کہ تیری چھوکری مجھے مشورے دیتی ہے، اور تو چپ کرکے سنتا ہے. بابا مری سی آواز میں بولا تو اندر جا لیکن میں نہیں گئی، میرے اندر جیسے نفرت کا ایک لاوا تھا جو پھٹ گیا. یہی تایا تھا جس نے کبھی ہمیں پوچھا نہیں تھا، ہم مریں جییں، اسے ہماری فکر نہیں تھی، اب وہ ہمیں اپنی عزت بتارہا تھا. تائے کو میری بحث پسند نہیں آئی، وہ ہذیان بکتے ہوئے مجھ پر جھپٹا اور دو تھپڑ جڑ دیے. بابا بے بسی سے بیٹھا تھا، بزرگ نے تائے کو پکڑا اور اسے لے کر ہمارے گھر سے نکل گیا. دونوں جاتے جاتے بابے کو اتنا بتا گئے کہ میرا فیکٹری جانا انہیں منظور نہیں، اور شریکے کی خاطر یہ فیصلہ بابے کو ماننا ہی تھا.

یہ بھی پڑھیں:   اللہ کا فضل ہے - صادق رضا مصباحی

اس رات بابا بہت رویا. میں اس کی ٹانگیں دباتی رہی. بابا سسکتا رہا. ہم میں سے کوئی نہیں سو سکا. بابا ایک ہی بات کہے جاتا تھا جمیلاں مجھے کس مصیبت میں ڈال گئی ہے. جب سے ماں مری تھی، بابے نے کبھی ماں کا نام نہیں لیا تھا. صاحب بیٹی اپنے باپ کو روتے کیسے دیکھ سکتی ہے؟ ہم بہنیں روتی رہیں. مجھے یاد ہے کہ اتنا تو ہم ماں کے مرنے پر نہیں روئی تھیں. صاحب! رات مجھے نہیں بھولتی، وہ جیسے رونے لگ گئی. اب وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی. میں کچھ نہیں بولا میں کچھ بول ہی نہیں سکتا تھا.

تھوڑے سے وقفے کے بعد اس نے خود کو سنبھالا اور گویا ہوئی، صاحب! رات ختم ہی نہیں ہو رہی تھی. صبح بابا بغیر کچھ کھائے فجر سے بھی پہلے کھیتوں کو نکل گیا. میری ایک سہیلی تھی، ان کے گھر وی سی آر تھا، ساتھ کپاس چنتے وہ مجھے بہت سی فلموں کی کہانیاں سناتی تھی. ایسی ہی ایک کہانی مجھے یاد آگئی جس میں ایک لڑکی اپنے گھر کا سہارا بن گئی تھی.
صاحب! میں نے خطرناک فیصلہ کیا اور گھر چھوڑ دیا، میں فیکٹری جانے کے بجائے شہر کے ہجوم میں گم ہوگئی. میں نے سوچا تھا کہ چپ چاپ اپنے باپ کو پیسے بھیجتی رہوں گی پر صاحب جب قسمت خراب ہو تو ہر قدم غلط ہی اٹھتا ہے. میں اندازہ ہی نہ کر سکی کہ میں کیا کر بیٹھی ہوں، ایک ہفتے میں ہی جذبات ٹھنڈے پڑ چکے تھے. مجھے یاد آیا کہ میری 7 سال کی بہن کو میں خود سلاتی تھی، اسے ماں بہت یاد آتی تھی. مجھے یاد آیا کہ ان کے کپڑے میں سیتی تھی، اب فصل اٹھانے کے بعد بابا شہر سے کپڑوں کے دوتین تھان لے آتا، اور میں انہیں سی دیتی، لیکن مجھے پہلی دفعہ یاد آیا کہ میں گھر نہیں جاسکتی تھی. مجھے یاد آیا کہ جس شریکے میں میرے فیکٹری جانے سے لوگوں کی ناک کٹتی تھی، میرے گھر سے غائب ہوجانے پر کیا قیامت بپا ہوگی.
صاحب! مجھے اپنے باپ کے آنسو یاد آگئے. مجھے زخمی ہاتھوں والے باپ کا سر پر رکھا ہوا پیاربھرا ہاتھ یاد آگیا. یہ رات قیامت کی رات تھی، ہیجان کم ہونے پر مجھے اپنی حماقت کا احساس ہوا تھا. گرلز ہاسٹل کے کمرے میں وہ رات میں نے روتے ہوئے گزاری تھی.
صاحب! قیامت تو ایک دفعہ آتی ہے نا لیکن مجھ پر ایک ہفتے میں دو دفعہ آچکی ہے. جب میں کمرے میں رو رہی تھی، میری روم میٹ کی آنکھ کھل گئی اور اس نے مجھے جھڑک دیا کہ کیوں میری نیند برباد کر رہی ہو. تب مجھے اپنی بہن راشدہ یاد آئی، ایک بار مجھے بخار تھا تو ساری رات میری پٹیاں کرتی رہی تھی. میں نے بہت کہا راشی اب سوجا لیکن وہ نہیں سوئی، میرا سر دباتی رہی.
صاحب! میں کیا کروں؟ کہاں جاؤں؟ اللہ کسی کو سات بہنیں اور ایک لاچار باپ نہ دے. اگلے دن میں کمرے میں بند رہی، رو رو کر آنسو سوکھ چکے تھے، میں گھر جانا چاہتی تھی لیکن مجھے اب احساس ہو اتھا کہ بیٹی ایک بار گھر کی دہلیز باپ کی مرضی کے بغیر پار کر لے تو کبھی واپس نہیں جاسکتی. میں بھوکی تھی لیکن کچھ کھانا نہیں چاہتی تھی، مجھے چکر آ رہے تھے. میری روم میٹ کی واپسی کا بھی ٹائم تھا. میں اس کے سامنے اب رونا نہیں چاہتی تھی. مجھے پتا تھا کہ کمرے میں چوہے مار گولیاں پڑی ہیں، میں نے وہ نگل لیں صاحب. میں نے ساری گولیاں ایک ہی بار نگل لیں.

اس کے بعد کی کہانی میں جانتا تھا کہ کیسے اسے ہاسپٹل منقل کیا گیا جہاں وہ مرنے سے بچ گئی. ہسپتال سے اسے دارالایمان منقل کردیا گیا تھا جہاں میں اس کا انٹرویو لینے پہنچا تھا. میں اپنا لیپ ٹاپ شٹ ڈاؤن کر رہا تھا. ایک زبردست سٹوری مجھے مل چکی تھی. میں جانتا تھا کہ یہ بہت ریٹنگ لے گی لیکن اس کے ایک جملے نے جیسے مجھے کسی پاتال میں پھینک دیا. وہ کہہ رہی تھی،
صاحب! دنیا کو بتاؤ گے نا؟ گھر سے غائب ہونے والی ہر لڑکی کسی آشنا کے ساتھ نہیں بھاگتی.