لافرق - حماد احمد

علم و تحقیق کی دنیا میں سب سے مظلوم شے منطق ہے۔ یہ ہمیشہ بھاگی بھاگی ہر اس فرد کے قلم و زبان پر دستک دیتی ہے جو تھوڑا سا بھی اس بات کا اظہار کرتا ہو کہ وہ منطق پسند ہے۔ اچھے زمانوں میں منطق کی قسمت اچھی تھی اہل دانش کے ہاں پائی جاتی تھی آج کل اس کا وارث ایک ایسا طبقہ جس سے منطق دور دور ہی رہنے میں عافیت سمجھتی ہے۔ آخری اطلاعات تک منطق "تکبیر مسلسل" کے پاس تشریف لے گئی لیکن ماتم کرتے واپس آئی۔

بہرحال تفصیلات میں جانے سے پہلے لفظ "جاہلیت" کی تشریح کرلیتے ہیں تاکہ کوئی کسی ایسے تخریب مسلسل کا شکار نہ ہوجائے جو آج کل تکبیر کا نعرہ اوڑھے ہوئی ہے۔ کوئی سمجھنا چاہے تو اس میں اتنی مشکل بات نہیں کہ اپنے خالق حقیقی کے اس دیے ہوئے سسٹم سے انکار کو جاہلیت کہتے ہیں جو انسانوں میں سب سے بہترین، اعلی، منصف اور عظیم ترین اخلاق کے پیکر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے پوری انسانیت کو انسانوں کی بھلائی اور معاشرے میں ہر قسم کی ترقی کی ضمانت کے لیے دیا گیا ہے۔

اس سسٹم سے لاتعلق رہنے، اس کے مقابل کھڑے ہونے، اس کا ساتھ نہ دینے اور اس کے نفاذ میں دلچسپی تک نہ لینے کو جاہلیت کہتے ہیں۔

سید قطب اپنی کتاب 'معالم فی الطریق' میں جدید دور کے جاہلیت پر فرماتے ہیں کہ :

موجودہ انسانی زندگی کی بنیادیں اور ضابطے جس اصل اور منبع سے ماخوذ ہیں اس کی رو سے اگر دیکھا جائے تو آج ساری دنیا جاہلیت میں ڈوبی ہوئی ہے اور جاہلیت بھی اس رنگ ڈھنگ کی ہے کہ یہ حیرت انگیز مادی سہولتیں اور آسائشیں اور بلند پایہ ایجادات بھی اس کی قباحتوں کو کم یا ہلکا نہیں کر سکتیں۔

عقل والوں کے لیے "مادی سہولتیں، آسائشیں اور بلند پایہ ایجادات" کے الفاظ میں نشانیاں ہیں بس ذرا غور ہو۔

امام سید قطب جدید جاہلیت کی تشریح میں مزید بیان فرماتے ہیں کہ :

اس جاہلیت کا قصر جس بنیاد پر قائم ہے وہ ہے زمین پر خدا کے اقتدار اعلیٰ پر دست درازی اور حاکمیت جو الوہیت کی مخصوص صفت ہے اس سے بغاوت۔

چنانچہ اس جدید جاہلیت نے حاکمیت کی باگ ڈور انسان کے ہاتھ میں دے رکھی ہے اور بعض انسانوں کو بعض دوسرے انسانوں کے لیے "ارباب من دون اللہ" کا مقام دے رکھا ہے۔ اور اس جاہلانہ اور بے لگام تصور حاکمیت ہی کی وجہ سے انسانیت ظلم و جارحیت کی چکی میں پس رہی ہے۔ چنانچہ اشتراکی نظاموں کے زیر سایہ انسانیت کی جو تذلیل ہو رہی ہے اور سرمایہ دارانہ نظاموں نے افراد و اقوام پر ظلم کے جو پہاڑ توڑ ڈالے ہیں وہ دراصل اسی بغاوت کا شاخسانہ ہے جو زمین پر خدا کے اقتدار کے مقابلے میں دکھائی جا رہی ہے۔

اب کوئی اہل عقل ہی بتائے کہ جاہلیت کی اس تشریح میں تکفیر کہاں ہے یا پھر اس پرامن سیاسی تصور اور اتنے خوبصورت تصور اختلاف میں دہشتگردی یا انتہاپسندی کہاں ہے ؟

جن کا عقل سے کوئی تعلق نہ ہو محض الزامات پرست ہوں وہ جواب سے مستثنیٰ ہیں۔ بات یوں ہے کہ دین کے سیاسی تصور کو انتہاپسندی سے جوڑنے والے طبقے نے دراصل اسلام کے مقدس ترین تصور یعنی تصور جہاد جو خدا کے احکامات میں شامل ہے کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ جہاد جو کہ مظلوم انسانیت کے لیے ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح ہے ظلم کے آگے، اس کو دہشتگرد تنظیموں سے جوڑا گیا۔ حالانکہ اگر دہشتگردی کا حقیقی تشریح میں جائزہ لیا جائے تو مغربی اقوام اور جدید جاہلی نظام سے بدترین معاشی، سیاسی، عسکری اور تعلیمی دہشتگردی اس وقت دنیا میں کوئی نہیں کر رہا لیکن جاہلی نظام کی دہشتگردانہ اقدامات کو دہشتگردی نہیں کہا جاتا محض اس لئے کہ اس لفظ کے ذریعے قرآنی تصور جہاد کو بدنام کرنا ہے۔

لہٰذا یہی طبقہ اب اسلام کے پرامن سیاسی تصور کو عسکریت پسندی سے جوڑ کر اس کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن بہرحال ان کو یہاں شکست اس لئے آسانی سے دی جا سکتی ہے کیونکہ اس راستے سے ہٹ کر انتہاپسندی کی طرف چلے جانے والے سیاسی اسلامی حلقوں میں عسکریت پسند ہی کہلائے جاتے ہیں۔

"تکبیر مسلسل" میں فرمایا گیا کہ فلاں ابن فلاں عسکری کمانڈر نے فرمایا کہ سید قطب نے فلاں مقام پر فلاں بات کہی لہذا ہم قطبی ہیں قطب ہمارا ہے۔ سید قطب کا نظریہ ایک چاند کی مانند ہے چند غیر منطقی جملوں سے ان کے پاکیزہ نظریے کو کوئی خطرہ ہو یہ ممکن ہی نہیں لیکن پھر بھی فرض کیجیے کہ انتہاپسندی کی وجہ سید قطب کا نظریہ ہے کیونکہ انہوں نے پرامن اسلامی سیاسی جدوجہد کا راستہ اپنایا تو اس نظریے سے ہٹ کر آپ اللہ تعالی کے احکامات کا جائزہ لیجئے آپ بارہا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی غزوات میں شرکت کو دیکھ لیجئے، کفر و باطل سے دفاع کے قرآنی احکامات پر غور کیجئے آپ ظلم کے خلاف مظلوم کی آواز بننے کے قرآنی تصور کا جائزہ لیجئے تو کیا آپ کل کو کسی متبادل قرآن کا نعوذ باللہ مطالبہ کریں گے ؟آپ مدینہ کی پہلی ریاست کو تاریخ سے نکال پھینک دیں گے؟ آپ صحابہ کرام کی پہلی جمعیت جو جاہلیت قدیم کے مقابلے میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ رہی اس کو اسلام سے الگ کر لیں گے ؟یقینا آپ کے لیے ایسا ناممکن ہوگا اور خدانخواستہ ایسی حرکت ہوئی بھی تو کیا نتائج برآمد ہوسکتے ہیں؟

فرض کیجیے داعش یا کسی بھی انتہاپسند تنظیم کو مذہبی حلقوں سے افرادی قوت کی فراہمی کی وجہ سید قطب یا سید مودودی کے تصور حاکمیت کے نظریات ہیں تو کیا کراچی میں ڈرل مشین سے بھتہ نہ دینے کے جرم میں انسانی جسموں میں ہوئے سوراخوں کی وجہ لبرل ازم یا پروگریسیوزم ہے؟

کیا اپنے سیکولر نظریات کی جماعت کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے فیکٹریوں میں زندہ انسانوں کو جلانے کو ہم سیکولرازم کی سوچ سمجھ لیں؟کیا سیکولر قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی حفاظت کے لیے خون کی ندیاں بہانے کی وجہ سیکولرازم ہے؟

یقینا آپ کہیں گے کہ ان لوگوں کا لبرل ازم اور سیکولرازم سے کوئی تعلق نہیں لبرل از یا سیکولرازم کو سمجھنا ہے تو ہم سے سمجھ لو کیونکہ ہم ہی اصل لبرل ہیں اور ہم ہی اس کی اچھی تشریح کرسکتے ہیں

تو آپ ہماری باری میں کیوں اتنے تنگ نظر ہیں کہ حاکمیت کا حق کس کا ہے یہ آپ کسی پہاڑ میں بیٹھے کمانڈر کی بجائے ان سے سمجھ لیں جو اس کو بہترین ترین انداز میں پیش کرسکتا ہے۔ بہرحال دنیا مطمئن رہے سید قطب پھانسی چڑھتے ہوئے جو بات کہہ چکے ہم آخری سانس تک وہی کہیں گے "لافرق"۔۔۔۔۔۔۔