پہلا قدم کون اٹھائے؟ - امتیاز احمد

مشعال ماں کے پیٹ سے ملحد نہیں پیدا ہوا تھا۔ اس کے پیدا ہونے پر شکرانے کے نوافل پڑھے گئے ہوں گے۔ پیدائش کے بعد کان میں اذان و اقامت دی گئی ہوگی۔ اسے باپ نے مسجد کا راستہ دکھایا ہوگا۔ کبھی تو اس نے بھی سر پر ٹوپی پہنی ہوگی۔ کبھی تو نماز کے لئے اس نے بھی پائنچے اوپر کئے ہوں گے۔ کبھی تو اس نے بھی کسی ملحد کے سامنے اسلام کے دفاع کی ایک موہوم سی کوشش کی ہوگی لیکن اپنی کم علمی اورمحدود علم کی بناء وہاں پر سر جھکا دیا ہوگا۔

شاید یہی وہ موقع ہوگا جب روس کے ملحدوں نے اس کے ایمان پر نقب لگائی ہوگی انہیں خام مال میسر آگیا ہوگا جیسے کسی لوہار کے ہاتھ میں گرم لوہا آجائے اور اسے جو چاہے شکل دے دے اور پہ درپے درپے وار کرکے رہے سہے ایمان سے بھی محروم کردیا۔ ایسے میں پھر شک کی گنجائش کا آنا تو فطری بات ہے۔ پھر ایک امید لے کر کسی مولوی سے اس نے وہ سوال پوچھے ہوں گے جو اس کے ایمان پر مسلسل شک کی دستک دے رہے تھے لیکن ٹھیک جوابات نہ ملنے پر اور مولوی کی طرف سے سوالات شیطانی وسوسہ قرار دینے پر اس کا دل مزید تاریکیوں میں ڈوب گیا ہوگا۔

(یاد رکھیں اسلام کے متعلق تشکیک پیدا کرنے والے سوالات کسی مستند اور ماہر عالم دین سے ہی پوچھنے چاہئیں۔ تسلی تشفی بخش جوابات نا ملنے پر سائل کے مزید گمراہ ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے)

بس یہیں سے اسے کارل مارکس، ڈارون اور رچرڈ ڈاؤکنس میں پکے مومن کی جھلک نظر آئی ہوگی اور پھر مذہب کو ڈھونگ قرار دیکر انسانیت کو سب سے بڑا مذہب تسلیم کرلیا ہوگا اور پھر وہ اس ان دیکھی تاریک راہوں کا مسافر بنا جسے وہ اپنے تئیں روشنی سمجھتا رہا اور اسی تاریک راہوں میں اپنے ہی یار سنگتیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔

یہ صرف ایک مشعال کی داستان ہے۔ ہمارے ارد گرد ایسے ہزاروں مشعال موجود ہیں جن کے کمزور ایمان کا فائدہ اٹھا کر انہیں بھی تاریکیوں میں دھکیل دیا گیا۔ وہ اپنے دل میں اٹھنے والے سوالوں کا تشفی جواب چاہتے وہ کسی مسیحا کے انتظار میں ہیں جو ان کے دل کے انتشار کو اطمینان میں تبدیل کرسکے وہ کسی سے کھل کر ان سوالوں کا ذکر بھی نہیں کرسکتے، مبادا کوئی انہیں کافر کہ کر مار ہی نا دیں۔ یہ ہمارے ہی بچے ہمارے ہی بھائی ہیں ان کی مثال سمندر میں گھرے اس شخص کی سی ہے جو ڈوبتے بھی نہیں اور کنارے تک پہنچ بھی نہیں پاتے۔

انہیں ساحل کی طرف لانا ہمارا ہی کام ہے کسی ڈوبتے کو بچانا ہمارا ہی کام ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے سیمینار اور ورکشاپ قائم کئے جائیں اور انہیں بلا جھجک سوال کرنے کا موقع فراہم کیا جائے تا کہ اپنے سوالوں کا تشفی بخش جواب پاکر دین فطرت پر لوٹ آئیں۔

میری تمام مسالک کے علماء سے یہی گزارش ہے "رد الحاد" کے فورم پر آئیں، ایک مضبوط پینل تشکیل دیں اور ایک ایسی کتاب تحریر کریں جس میں اسلام پر کئے گئے ایسے رکیک حملوں اور سوالوں کے مدلل مفصل جامع اور تشفی بخش جوابات موجود ہوں۔ ایسے تشکیک پیدا کرنے والے سوالوں کا جواب اور رد بہت ناگزیر ہے جس کو ڈھال بنا کر ملحدین کی جانب سے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کیا جارہا ہو۔

اگر آپ دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث سے نہیں نکلیں گے تو کوئی مشعال آپ کے گھر بھی پیدا ہوسکتا ہے۔