پاناما لیکس سے ڈان لیکس تک - ناصر اقبال خان

مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی ماضی میں ایک دوسرے کے بدترین دشمن تھے یا آج بہترین دوست ہیں؟ اس بات کا فیصلہ میں پاکستانیوں پر چھوڑتا ہوں۔ پاکستان میں ''منافقت'' کو '' قومی مفاہمت'' کا نام دیاجاتا ہے۔ ہمارے ملک میں اقتدار کے لیے اتحاد بنے یا پھر احتساب کے ڈر سے سیاستدانوں نے ایک دوسرے کو سہارا دیا۔ سیاستدان اپنے بچاؤ کے لیے ڈیل کرتے ہوئے ایک دوسرے کو ڈھیل دیتے ہیں، اور اس ڈھیل کے نتیجہ میں بے لگام ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کریں یا دشمنی مگر پاکستان کے دشمن ان کے دوست کیوں ہیں؟

نریندر مودی کو جس اندازمیں جاتی امراء مدعو کرکے وہاں ان کا استقبال کیاگیا، وہ ناقابل برداشت اورناقابل فراموش ہے۔ جس ملک میں ارباب اقتدارکی لگام ایک موثر اور متحرک اپوزیشن کے ہاتھوں میں ہوتی ہے وہاں میٹرو بس اوراورنج لائن سے متنازع اورمہنگے منصوبوں پرقومی وسائل کاضیاع نہیں ہوتا بلکہ عوام کاپیسہ ان کی صحت اور تعلیم پر صرف کیا جاتا ہے۔ سرمایہ دارسیاست میں آئے تو سیاست اورتجارت کافرق مٹ گیا، آج بھی ایوانوں میں ضمیر نیلام ہوتے ہیں۔ جس نے سیاست کوعبادت کی بجائے تجارت سمجھا اس نے خوب پیسہ بنایا اور عہدحاضر میں دولت سے بڑی کوئی طاقت نہیں، جہاں افراد طاقتور ہوں وہاں ادارے کمزور پڑجاتے ہیں اور کوئی کمزورادارہ کسی طاقتور فرد کا احتساب نہیں کرسکتا۔

پاناما لیکس پر عدالت میں سماعت تو محض تلاشی تھی، احتساب ہونا ابھی باقی ہے۔ اگرپاکستان میں احتساب کا رواج ڈالنا اور عوام کو سیاسی اشرافیہ کے ہاتھوں استحصال سے بچانا ہے تو پھر نیب اور پولیس کو پاک فوج کے ماتحت کرنا ہوگا ورنہ سیاستدان ان دونوں اداروں کو قیامت تک سر اٹھانے نہیں دیں گے۔ کچھ سیاستدانوں نے دوستی و دشمنی کی طرح سیاست اورتجارت کے بنیادی اصول بھی فراموش کردیے ہیں۔ پاکستان کی دو حکمران پارٹیوں نے نوے کی دہائی میں ایک دوسرے کو کیا کچھ نہیں کہا۔ ان پارٹیوں کے سربراہان ایک دوسرے کی نگاہوں میں غدار اور سکیورٹی رسک ہوا کرتے تھے۔ ماضی کے اخبارات ان کے الزامات سے بھرے پڑے ہیں۔ شیر اور تیر نے اے آر ڈی کے پیالے میں بھی ایک ساتھ پانی پیا، کئی اور برس تک شیر و شکر رہے، ان کی طرف سے کبھی عوام کومتحد کرنے کی سعی نہیں کی گئی لیکن انہوں نے خود اقتدار کے لیے اتحاد کرلیا تھا۔اب بھی یہ محض عمران خان کو روکنے کے لیے متفق اور متحد ہیں کیونکہ اگر عمران خان اقتدارمیں آگیا تو پھر موروثی سیاست کا انجام اورسیاست میں سرگرم سرمایہ دار اشرافیہ کا بے رحم احتساب اٹل ہے۔

جس وقت پرویز مشرف صدرمملکت تھے ان دنوں دونوں پارٹیاں وفاقی کابینہ میں تھیں۔ پرویز مشرف ایوان صدر سے گئے توآصف زرداری وہاں آگئے مگرایوان صدرمیں آئینی تبدیلی کے باوجود عوام کی تقدیر نہیں بدلی۔ آج چیئرمین سینیٹ رضاربانی جمہوریت کا دم بھرتے ہیں اورانہیں جمہوریت کاعلمبردارسمجھاجاتا ہے، انہیں فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دینے کاپچھتاوا ہے شاید انہوں نے آنسوبھی بہائے مگر انہیں پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹرعاصم کی ضمانت پر رہائی کا کوئی افسوس نہیں۔ انہوں نے اپنے ساتھی شرجیل میمن کی وطن واپسی پر تاج پوشی کو برا نہیں سمجھا۔ انہیں ''را'' کے رابطہ کار اور سہولت کار عزیز بلوچ کے ہوشربا انکشافات کے باوجود آصف علی زرداری کی قیادت پر اظہار اعتماد کرتے ہوئے پیپلزپارٹی میں ہونے پر کوئی ندامت نہیں۔ رضاربانی جس طرح وزراء کی سرزنش کرتے ہیں اس طرح عزیر بلوچ کے انکشافات کی روشنی میں آصف زرداری کی بازپرس بھی کریں یا پھر شعبدہ بازی چھوڑدیں۔ رضاربانی پارلیمنٹ کی بالادستی کے خواہاں ہیں لیکن عوام کی پستی سے انہیں کوئی سروکار نہیں، ان کے اس ڈھونگ سے سیاست کے ''رانگ نمبر ''تومتاثرہوسکتے ہیں لیکن عام آدمی انہیں اپنا ہیرو ہرگز نہیں سمجھتا۔ رضا ربانی کویہ بات کون سمجھائے کہ پارلیمنٹ اپنے آپ نہیں بن جاتی بلکہ عوام کے ووٹوں سے پارلیمنٹ کاوجودبنتا ہے لہٰذا ء اس ملک میں پارلیمنٹ سے زیادہ عوام کواہمیت دی جائے۔ عوام کو پست کرکے پارلیمنٹ بالادست نہیں ہوسکتی۔ شعبدہ بازی سے ریاست کاکوئی شعبہ اپ گریڈ نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   ن لیگ کی اصل مشکل - محمد عامر خاکوانی

بھارت اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائے جانے پربدحواسی میں پاکستان کودھمکا رہا ہے مگر ہمارے حکمران اورسیاستدان باہم دست وگریبان ہیں۔ اِن دنوں پنجاب اورسندھ کی حکمران پارٹیوں میں سی پیک کو لے کر لفظی جنگ چھڑی ہوئی ہے، دونوں کا دعویٰ ہے سی پیک ہم نے شروع کیا اور اس کا کریڈٹ ہمیں دیاجائے جبکہ حقیقت میں سی پیک کا کریڈٹ پاک فوج کوجاتا ہے۔ جس پاک فوج کے سرفروش جوان سی پیک کی تعمیرسے تکمیل تک دشمن کے مدمقابل سینہ تان کر جام شہادت نوش جبکہ دشمنوں کاناپاک وجودبارود سے چھلنی کر رہے ہیں کریڈٹ بھی اس قابل رشک قومی ادارے کوجائے گا۔ جس طرح پاک فوج کے سابق سپہ سالار جنرل (ر)راحیل شریف کی سی پیک کے ساتھ کمٹمنٹ ایک مثال تھی ٹھیک اس طرح دبنگ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی انتہائی جانفشانی سے سی پیک کو درپیش خطرات اورچیلنجز کو مانیٹر اوران کامقابلہ کررہے ہیں۔ پاک فوج سی پیک کاپایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔

درحقیقت، پڑوسی ملک چین نے پاکستان کی ناکام اور بدنام سیاسی قیادت نہیں بلکہ ان تھک دفاعی قیادت پر اعتماد اورانحصار کرتے ہوئے سی پیک بنانے کا اصولی فیصلہ کیا۔ سی پیک چین کی معاشی شہ رگ ہے جس طرح کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ پاک فوج سی پیک کی ضامن اور سٹیک ہولڈرہے اس لیے سی پیک ضرور بنے گا۔ ایٹمی ومعاشی طاقت چین اپنی شہ رگ کی حفاظت کس طرح کرے گا یہ اسے بتانے، سمجھانے یا سکھانے کی ضرورت نہیں۔ چین کے لیے بھارت کے بازو آزمائے ہوئے ہیں، امریکہ اپنے اتحادی بھارت کی خاطر چین کے مدمقابل نہیں آئے گا۔ اگر بھارت کو زمینی حقائق کا ادراک ہوتا تو وہ سی پیک کوہرگز اپنے سر پر سوار نہ کرتا۔

جہاں انسان اپنے اپنے اندازسے چال چلتے ہیں وہاں قدرت بھی چال چلتی ہے۔ ہندوستان کے وجود سے اسلامی ریاست پاکستان کا قیام اتفاقیہ نہیں بلکہ پاکستان کا خالق جو حقیقی قادر اور کارساز ہے وہ پاکستان کے قیام کا راز اور اس کا مقام جانتا ہے۔ گوادر نے پاکستان کی کایا پلٹ دی ہے، ماضی میں ہندوستان کوسونے کی چڑیا کہا جاتا تھا لیکن عنقریب پاکستان کو سونے کی چڑیا کہا جائے گا۔ چین اپنے دیرینہ دوست پاکستان کے ساتھ محبت کی خاطر نہیں بلکہ اپنی ناگزیر ضرورت کے تحت سی پیک کو آغاز سے انجام تک بنائے گا اوراپنی معاشی بقاء کے لیے سی پیک کو دشمن'' شیطانی تکون'' سے بچائے گا۔ بھارت کی بدقسمتی کا دور اس دن شروع ہوگیا تھا جس روز نریندر مودی وزیراعظم منتخب ہوا تھا۔ یہ بات میں اس وقت بھی اپنے کالم میں لکھی تھی مگر اسے منطق کو مذاق سمجھا گیا مگر اب کوئی اِس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا۔مودی کی طرح اس کاروحانی بھائی ڈونلڈ ٹرمپ کادورصدارت بھی امریکہ کی بدقسمتی سے عبارت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کل ملا کر بات یہ ہے - خرم اقبال اعوان

وطن عزیز میں پاناما لیکس کامعاملہ ابھی تک ایک معمہ بنا ہوا ہے، طویل اورمسلسل سماعت کے باوجود پاکستان کے عوام فیصلے کے منتظر ہیں جبکہ فیصلہ'' محفوظ'' ہے۔ اب تک ''محفوظ'' فیصلے کو بنیاد بنا کر کئی اشعار اور لطیفے سوشل میڈیا پرگردش کررہے ہیں۔ اگرفیصلے درست اوربروقت نہ ہوں تو اداروں اورعوام کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔ پاناما لیکس کا فیصلہ کب اورکس کے حق میں آئے گا؟ کیاوزیراعظم کونااہل قراردے دیاجائے گا؟ یہ وہ سوال ہے جو خاص وعام ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں مگر جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں اب پاناما لیگ کافیصلہ سنادیاجائے ورنہ عوام کا انتظار اضطراب میں تبدیل ہوجانے کا ڈر ہے۔ بے یقینی سے معاشروں میں بے چینی پیداہوتی ہے، ہمارامعاشرہ بے یقینی اور بے چینی کامتحمل نہیں ہوسکتا۔ حکمران جماعت کاکہنا ہے، ہم'' بیگناہ ''ہیں اور ہمیں کلین چٹ مل جائے گی جبکہ پی ٹی آئی کے قائدین اور کارکنان ''انصاف''کی کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔

پارٹیوں کی شکست نہیں انصاف کی جیت اہم ہے کیونکہ انصاف کی شکست سے ملک شکست وریخت سے دوچارہوجاتے ہیں۔ اب تو پاناما لیکس کو لے کر ہر کوئی تجزیہ کار اور مبصر بنا ہوا ہے۔ جواری بھی اس بات پر جوا کھیلنے میں محو ہیں۔ پاناما لیکس کے فیصلہ کی بابت مختلف افواہیں زیرگردش ہیں، سیاسی پنڈت بھی ایک دوسرے سے استفسار کررہے ہیں۔ شنید ہے اپریل کے اندر اندرفیصلہ آجائے گا، فیصلے کے بعد شاید حکمران جماعت کو نیا وزیراعظم منتخب کرناپڑے۔

پاناما لیکس نے میاں نواز شریف جبکہ ڈان لیکس نے مریم صفدر کی سیاست کو گرہن لگادیا ہے۔ چودھری نثارعلی خان نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں ''ڈان لیکس'' رپورٹ پر اتفاق ہونے اورآئندہ چند روز تک اس کے منظرعام پرآنے کاعندیہ دیا ہے۔ ڈان لیکس رپورٹ جس دن منظر عام پر آئے گی اس روزکئی سیاسی'' ڈان'' منظرعام سے اوجھل ہوجائیں گے۔ ڈان لیکس میں جو '' ڈان'' ملوث ہے اس ڈان کے کان کھینچ کر اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے، تاہم ''ڈان''کے سہولت کار بھی قابل گرفت اورسخت سزا کے مستحق ہیں۔

پاناما اورڈان لیکس شروع دن سے پاکستان کے اہل سیاست اوراہل صحافت کے لیے 'ہاٹ ایشو' بنے ہوئے ہیں، ان دونوں موضوعات پربہت کچھ لکھا اور کہا گیا اور ابھی مزید کافی کچھ لکھااورکہاجائے گا۔مختلف طبقات کے لوگ اس پراپنے اپنے اندازسے تبصرے کررہے ہیں، پاناما لیک بارے سماعت توختم ہوگئی مگر حکمران جماعت کے لیے کوفت اورخفت کاسلسلہ ابھی تک تھما نہیں ہے۔ پنجابی کاایک محاورہ عرض ہے، ''جنہاں کھادیاں گاجراں ٹیڈ اوہناں دے پیڑ ''۔