مسئلہ توہین مذہب کا - ارسلان شکیل

برما، شام، عراق اور افغانستان کو چھوڑیں. یہاں پاکستان میں ہی ہر روز سینکڑوں بندے مر جاتے ہیں، شہ رگ کشمیر میں مقتل سجا ہے اور صبح شام معصوم کلیوں جیسے بچے ہندو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھتے ہیں، مگر ان خبروں کو سائیڈ پر لگانے والے آج بیچارے بہت ہی اوورلی سینسٹیو ہونے کا ڈرامہ کر رہے ہیں کہ کے پی کے میں کہیں بلوے نے ایک بندہ مار دیا ہے. مولویوں کو سوجھ گیا ہے کہ اب بلوے کے قانون اپنے ہاتھ میں لینے کے خلاف لکھیں، باقی ماندہ مولوی بلوے کے بندے مارنے پر غیر اسلامی فتوے ایشو کرنے بیٹھ گئے ہیں کہ کہیں امریکی حمایت یافتہ لبرل طبقہ کے انگلی اٹھانے سے پہلے ہی ہاتھ جوڑ کر تیار ہو جائیں کہ سر غلطی ہو گئی۔ کچھ بے چارے اس کی گستاخانہ پوسٹوں پر ثبوت اکٹھے کر رہے ہیں کہ ثابت کر دیں کہ صحیح مرا یا غلط بندہ تھا، گستاخ تھا، اور لبرل ہمیشہ کی طرح اپنی مظلومیت کا رونا رونے بیٹھ گئے ہیں کہ دیکھو دیکھو ہمیں اسلام اور شعائر اسلام کا مذاق اڑانے کی آزادی نہیں ہے پاکستان میں، اور ذرا ذرا سی بات پر لوگ قتل کر دیتے ہیں۔

میں ان ساروں کو اکٹھا کر کے ان کی اجتماعی چھترول کا انتظام کروانا چاہتا ہوں، اگر اپنی اپنی سائیڈ پر بیرئیر لگوانے سے فرصت مل گئی ہو تو کچھ اس بات پر بھی غور کر لو کہ جب سے پاکستان بنا ہے، تب سے کسی گستاخ کو سزا نہیں ہوئی، ممتاز قادری جیسے بہت پھانسی چڑھے ہیں، آپ نے اپنے معاشرے میں انصاف قائم نہ کر کے عوام کے دماغوں میں یہ بات پختہ کر دی ہے کہ انصاف یہاں امیر کو ہی ملتا ہے۔ آپ نے گندے غلیظ اور کرپٹ سیاست دانوں کو عدالتوں سے باہر وکٹری کا نشان بنوا کر بھیجا ہے۔ آپ کے ملک میں ایانوں کے پیچھے ایماندار افسران قتل کروائے جاتے ہیں، اور بھینسے اور موچی ملک سے بھگوائے جاتے ہیں۔

اگر آپ نے انصاف کی روش اپنائی ہوتی، عوام کے دماغوں میں یہ بات پختہ ہوتی کہ یہ بندہ جرمنی آسٹریلیا میں بیٹھ کر عیاشی کرنے کے بجائے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوگا، یہ انگلینڈ کے شاپنگ مالوں میں شاپنگ کرنے یا تھائی لینڈ کی بیچوں پر ننگا لیٹنے اور مساج کروانے کے بجائے جیل کی گندی چٹائی پر سوئے گا، تو آپ کی عوام میں سے کوئی خود جج، وکیل، جلاد نہ بنتا۔

ایسے میں کوئی یہ بحث کرتا ہے کہ بلوہ کرنا صحیح تھا یا غلط، بندہ گستاخ تھا یا نہیں، تحقیق ہوئی تھی یا نہیں، کیس پولیس کو بھیجنا تھا یا نہیں، تو بھائی جان آپ لوگوں کے لیے عرض ہے کہ سٹار پلس کے ڈرامے دیکھو، پوگو دیکھو، اینمے دیکھو، اور جناب مولوی صاحب! آپ لبرلز کے آگے اپنے احساس کمتری کا نوحہ رو لو، لیکن اس جیسے مسائل پر فیس بک کی وال پر مزید کنفیوژن پھیلانے سے پرہیز ہی کرو تو بہتر ہے۔