بندر کے ہاتھ میں ماچس - محمد ارشد خان

مردان یونیورسٹی کے المناک سانحے میں توہین مذہب و رسالت کے الزام میں طلبہ کے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ایک نوجوان کے بیہمانہ، غیر قانونی اور وحشیانہ قتل کی اپنے وال پر بجا طور پر ایک مذمتی پوسٹ اور عبرتناک سزا کے مطالبے کے جواب میں حسب توقع مجھے کئی پیغامات موصول ہوئے، جن میں مبینہ طور پرمظلوم مقتول کی جانب سے، کم علمی یا کم سنی کے تجسس اور نیم حکیمانہ قسم کے ترقی پسند نظریات کے زیراثر اسلام اور پیغمبر اسلام کے متعلق تضحیک آمیز جملوں پر مبنی پوسٹس کے کئی سکرین شارٹس کے ذریعے اس غیر انسانی عمل کی توجیہ یا دفاع پیش کیا گیا تھا جو جعلی بھی ہوسکتے ہیں، لیکن اس بات سے قطع نظر کہ الزامات صحیح ہوں یا غلط، ناموس مذہب کے ان خودساختہ فوجداروں کے اس جرم یا کھلی دہشتگردی کا کوئی قانونی، اخلاقی، انسانی اور حتیٰ کہ مذہبی جواز نہیں ہے.

دوسری طرف بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر حسب سابق مخصوص طبقوں کے دیسی افلاطونوں کو مشال خان کے المناک قتل میں اپنے پرانے راگ الاپنے کا اور موقع مل گیا اور جانے مانے نعروں سے ایک ایسا طوفان بدتمیزی برپا کر دیا گیا ہے جس میں مظلوم کو انصاف دلانے کی آوازیں دب کر رہ گئی ہیں. ایک طبقے کو ریاست کے کسی نامعلوم ”مذہبی بیانیے“ سے مسئلہ ہے جو ان کے خیال میں مظلوم کے قتل کا ذمہ دار ہے جبکہ دوسرا طبقہ حسب معمول پاکستانی ریاست کے وجود سے درد میں مبتلا ہے جو ان کے خیال میں اپنی ”پنجابی اسٹیبلشمنٹ“ کی بیان کردہ ”مذہبی بنیاد“ کی وجہ سے مشال کی قاتل ہے اور تیسرے طبقے کو تو مذہب بلکہ اسلام ہی دور جاہلیت کی ایک فرسودہ نشانی لگتا ہے جو مشال کے پرتشدد قتل سمیت دنیا میں تمام تر تشدد اور جنگوں کا ذمہ دار ہے. مشال کے قاتل پر مصنوعی غصّے سے بپھرے ہوئے یہ اندھے دیسی افلاطون ہمیں پھر یاد دلا رہے ہیں کہ بابائے امن باچا خان کی بات نہ مان کر ہم سب مجرم ہیں اور اسی وجہ سے ملالہ یوسف زئی جیسے انمول لوگوں کی خدمات سے محروم ہیں. یہ اور بات ہے کہ بابا صاحب کے اپنے دیس افغانستان میں کچھ عرصہ پہلے فرخندہ نامی ایک ذہنی طور معذور خاتون کو کابل کے جس مشتعل ہجوم نے توہین قرآن کے الزام میں سنگسار کرکے قتل کیا تھا، وہ طالبان نہیں تھے جن پر پاکستانی ہونے کا الزام لگایا جا سکے اور ان کے دوسری دیس بھارت میں حال ہی میں صرف گائے کی تجارت کے الزام میں پہلو خان نامی ایک مسلمان کو ہندوؤں کے مشتعل ہجوم نے مار ڈالا جبکہ 14 دوسروں کو ہسپتال بھیج دیا. ان لوگوں میں کسی نے نہ تو اقبال کی شاعری پڑھی تھی اور نہ ہی اسلام اور پاکستان کے کسی مذہبی بیانیے سے متاثر تھے.

ابھی ہفتہ پہلے ”سیکولر، مہذب“ اور دنیا کے لیے مثالی برطانیہ کے جنوبی لندن کے علاقے میں ایک 16 سالہ کرد مہاجر لڑکے کو 20 مقامی نوجوانوں کے ایک ہجوم نے رات کے وقت ایک بس سٹاپ پر روک کر پہلے اس کا پس منظر معلوم کیا اور پھر بیہمانہ تشدد سے اس کو ناقابل شناخت بنا کر اسے اس دنیا سے ہی ڈیپورٹ کر دیا. مظلوم پر کسی قسم کا جھوٹا الزام تک نہیں تھا. نسلی تعصب کی بنیاد پر ایسے واقعات مغرب میں عام ہیں لیکن وہاں چونکہ رائے عامہ پر دیسی افلاطونوں جیسے کوئی مخلوق نہیں چھائی ہوئی، اس لیے ذرائع ابلاغ بشمول سوشل میڈیا کے، صرف قانون کی حکمرانی کی ذریعے مجرموں کی سرکوبی پر زور دیتے ہیں نہ کہ مظلوم کے خون سے اپنے غیرمقبول سیاسی نعروں میں رنگ بھرتے ہوں جیسے کہ ہماری ہاں کے یہ دیسی لبرل کر رہے ہیں جن کے ہاتھ سوشل میڈیا کی صورت میں ماچس لگ گئی ہے، اس لیے وہاں پر ایاز نظامی اور تاریک فتح جیسے گندگی کے ڈھیر پر مکھیاں نہیں بھنبھناتیں.

موب سائیکالوجی یا ہجوم کی نفسیات سماجی نفسیات کی ایک باقاعدہ شاخ ہے. نوبل انعام یافتہ شاعر، دانشور اور ناول نگار ولیم گولڈن نے اپنے شہرہ آفاق ناول لارڈ آف فلائز میں چھوٹے بچوں کے ایک قصّے کے ذریعے اس ناخوشگوار حقیقت کی وضاحت کی ہے کہ کس طرح ایک انسانی ہجوم اگر ریاست کے قانون سے آزاد ہوجائے تو مخصوص حالات میں وحشی جانوروں سے بدتر رویہ اپنا سکتا ہے. کہانی میں بچوں کا ایک گروہ جو کہ ایک ویران جزیرے میں پھنس کر ایک بلا حکومت کے جنگلے کے قانون کا معاشرہ قائم کر لیتے ہیں اور گروہ کے سب سے حساس اور پرامن بچے پیگی کو اپنے ہی بنائے ہوئے ایک بھگوان کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں. اسی طرح مشہور برطانوی فلسفی تھامس ہابس کے سماجی معاہدے کے نظریے کی بنیاد بھی انسانی نفسیات کی یہی خصلت ہے. مہذب معاشرے قانون کی حکمرانی کے ذریعے ایسی انسانی جبلتوں کو لگام دیتے ہیں. یہی قوانین اگر معاشرے کے اجتماعی شعور اور عقل سلیم کے ذریعے ماحول اور ثقافت بشمول معاشرے کے افراد کے مذہبی عقائد اور نظریاتی اساس کے مطابق بنائے جائیں تب ہی ان کے مثبت نتائج نکلتے ہیں اور تب ہی وہ قابل نفاذ ہوتے ہیں. مشال خان کا قتل کسی قانون پر عمل کرنے سے نہیں ہوا بلکہ ایک گروہ کی قانون شکنی سے ہوا ہے.