توہین رسالت، ایک پہلو یہ بھی ہے – ابوبکر قدوسی

یہ روز سیاہ خود دکھایا ہے
میرے گھر کے چراغاں نے مجھے

توہین رسالت کے معاملے کو ہمارے بعض ”مذہبی“ دوستوں نے خراب کیا ہے. ممکن ہے کوئی دوست کہے کہ یہ وقت اس بات کا نہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ بات پہلے ہی بہت تاخیر سے ہو رہی ہے. جو سنجیدہ مذہبی قوتیں ہیں، گو آج بھی وہ سنجیدہ نہیں، آپ ہر مسلک کی ”سواد اعظم“ جماعتیں کہہ لیں یعنی بڑی جماعتیں.
جی ہاں! ان جماعتوں کو یہ کام بہت پہلے کرنا چاہیے تھا کہ طے کیا جائے کہ توہین رسالت ہے کیا، اور کیا نہیں اور کیا عقائد کا فرق بھی توہین کے زمرے میں آتا ہے؟

آپ حیران ہوں گے کہ اسلامی دنیا میں توہین رسالت کے سب سے زیادہ مقدمات پاکستان میں قائم ہیں. اور دوسرے اسلامی ممالک سے ان مقدمات کی شرح میں اس قدر فرق ہے کہ ایسے لگتا ہے کہ ہمارے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین (معاذاللہ) ایک معمول کا حصہ ہے، لیکن عملی صورت ایسی نہیں ہے، کیونکہ ان میں سے بیشترمقدمات ان افراد پر قائم کیے گئے جو اپنے اپنے مسلک میں راسخ العقیدہ تھے.

میں ایک سے زیادہ افراد کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جو باعمل مسلمان تھے، لیکن ان الزامات کا شکار ہوئے اور ان کی زندگی اجیرن ہوگئی.

ایک بزرگ جنوبی پنجاب کے تھے، وہ مسجد میں لگتے اترتے اشتہارات اور کچھ پرانے رسائل اور پھٹے پرانے اوراق کا پلندہ جلا رہے تھے. ایک مخالف مسلک کے آدمی نے دیکھ لیا اور ”قران جلا دیا“ کا شور برپا کر دیا. لوگ اکٹھے ہوئے اور ان بابا جی کو، جو مسجد میں اذان دیتے تھے، توہین قرآن کے الزام میں مار مار کے قتل کر دیا.

اسی طرح گجرات کے ایک خطیب تھے، جنہوں نے منبر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ”بشر“ کہہ دیا جبکہ دوست آپ کو ”نور“ کہتے ہیں، بس توہین کا الزام لگا اور مقدمات شروع ہوگئے، کئی برس جیل میں گزرے، ”انصاف“ کے حصول میں لاکھوں روپیہ لگ گیا، بری ہو کر آئے، ایک روز سر راہ بیٹھے تھے کہ ایک ”مجاہد“ آیا اور ”جہادی حملے“ میں مولانا مارے گئے. بہتر تھا جیل میں رہتے، محفوظ تو تھے.

ایک بزرگ کی دکان پر میلاد کا اشتہار لگا تھا، اور جان بوجھ کے لگایا گیا تھا کہ عقیدے کے وہابی تھے. وہ صبح دم دکان پر آئے، انہوں نے دیکھا تو اتار دیا. لگانے والے نظر جمائے بیٹھے تھے، ہنگامہ ہوا اور بابا جی اور ساتھ میں جوان پوتا قتل ہوگیا.

ہمارے اردو بازار کے ہمسائے تھے. شریف النفس آدمی، کبھی کسی کو دکھ نہ دیا، ہمارے ساتھ کبھی کبھی نماز میں شریک ہوتے، اسلامی کتب کے پبلشر تھے، ایک روز توہین کا الزام لگا جان بچانے کو ملک چھوڑ گئے، بھر پرا گھر برباد ہوگیا، جما جمایا کاروبار تباہ ہوگیا اور اب پار پردیس بیٹھے ہیں.

آپ حیران ہوں گے کہ ان مقدمات کی کثیر تعداد مسلمانوں پر قائم ہے، اور بدقسمتی کی بات ہے کہ مقدمے کے مدعی عمومی طور پر ایک ہی سوچ اور گروہ کے مسلمان افراد ہیں. آپ بھول گئے ہوں گے کہ جب ممتاز قادری کو پھانسی ہوئی تو اہل حدیث، دیوبندی، جماعت اسلامی کے افراد نے بھرپور مظاہرے کیے، احتجاج کیا لیکن ”یاروں“ نے پھر بھی کہا ”لو گستاخ“ بھی آئے ہیں. اندازہ کیجیے کہ ایک بڑا گروہ دوسرے کے نزدیک گستاخ رسول ہے. اب آپ کہیں کہ یہ موقع نہیں تھا اس بات کا، اب یکسو ہونے کا وقت ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ وقت کیوں آیا کہ بلاگرز نے بدترین گستاخیاں کیں اور محفوظ طور پر ملک سے نکل گئے اور گستاخیاں بھی ایسی کہ شاید سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین نے بھی کم کی ہوں (نعوذ باللہ ).

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس قانون کو خود مذاق بنا دیا ہے. مشرف دور میں قانون میں تبدیلی کی بات ہوئی تو مذہبی جماعتیں باہر نکل آئیں. مجھے یاد ہے کہ میں نے ذاتی طور پر کئی لیڈران گرامی کے ترلے کیے کہ قانون کے لاگو کرنے کی صورتوں پر ضرور بات کیجیے، عقائد کے فرق کی بات کیجیے، یہ بات کی جائے کہ الزام محض جھوٹ اور بد نیتی کی بنیاد پر لگایا جانا ثابت ہو جائے تو الزام کنندہ پر جوابی توہین کا مقدمہ درج کیا جائے کہ اس نے رسول کی ذات کو اپنے مذموم مقصد کے لیے استعمال کیا، لیکن ہمارے مقتدر حضرات نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا اور آج نتیجہ یہ نکلا کہ ہجوم نے ان معاملات کو ”سنجیدگی“ سے لے لیا، بلاگرز کو بھگا دیا گیا، لیکن عوامی دباؤ کے تحت ایک مرکزی ملزم ”ایاز نظامی“ کو گرفتار کر لیا گیا. اس پر شور ابھی چل رہا تھا کہ مردان میں مشال کے قتل کا واقعہ پیش آ گیا، جہاں فیصلہ پھر ”ہجوم“ نے ہی کیا، عدالت عالیہ کے فرائض اسی نے انجام دیے، اور ہجوم کا فیصلہ تو ایسا ہی ہوتا ہے.

اس تمام معاملے میں سازش کے پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا. وہ یوں کہ اہلیان مغرب کی نگاہوں میں عرصے سے یہ قانون کھٹک رہا تھا اور ان کی طرف سے کئی بار کوشش ہو چکی تھی کہ اس کو ختم کیا جائے. اسی طرح بہت سے شواہد سامنے آئے کہ اس منظم طور پر توہین کے پیچھے فنڈنگ بھی ہے اور یہ کن کی ہے، کوئی راز کی بات نہیں – ایسے میں جب ”ان“ کے مقامی مہروں کے گرد شکنجہ کسا گیا، گرفتاریاں ہوئیں، تو ایک آدھ ”لاش“ کا مل جانا ان کے لیے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا ہے. ان کا پروردہ میڈیا اب دفاعی سے جارحانہ پوزیشن میں آ گیا ہے. قانون توہین رسالت کے لتے لیے جا رہے ہیں. مولوی اور داڑھی کو کھلی گالیاں دی جا رہی ہیں. لبرل اور مذہب بیزار اینکرز کھلے طور پر نفرت کی نئی فصل کاشت کر رہے ہیں. تو اس پس منظر میں، کیا فرض نہیں کیا جا سکتا کہ اس لاش کو محنت سے ”حاصل“ کیا گیا ہے، اور جب مارنے والے بھی کوئی معروف مذہبی افراد نہیں بلکہ ایک لبرل جماعت کے کارکن ہیں.

لیکن کتنے دکھ کی بات ہے کہ عام عوام گلیوں میں، بازاروں میں، اس معاملے سے لاتعلق ہیں. سبب کیا ہے؟
سبب یہی ہے کہ ایک گروہ نے اپنے عقائد کی بنا پر گستاخی کے فتوے لگا لگا کر عوام کو بےزار کر دیا. جو فیس بک پر نہیں جاتے، وہ شاید ابھی بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہوگا کوئی ”مولویوں کا سٹنٹ“. شائد ابھی بھی وقت ہے کہ یہ گروہ اپنے معاملات کی زمام کار سنجیدہ علماء کے ہاتھ میں دے، اور کم علم افراد سے جان چھڑائے. ”مار لو جانے نہ پائے“ کا ہنگام ختم کریں، سنجیدہ اور علمی جدوجہد کریں، اصلی مجرموں کی طرف دھیان دیں.

الحمدللہ مجھے یہ افتخار حاصل ہے کہ میں نے ایک نہیں تین شاندار کتب اس مسئلے پر شائع کیں، جن میں نمایاں ترین شیخ السلام ابن تیمیہ کی معرکہ الآرا کتاب ”الصارم المسلول“ بھی شامل ہے. تو دوستو! علمی وقت کا کام ہے اور سنجیدگی کی ضرورت. اللہ سے دعا ہے کہ اب بھی ہمارے مذہبی احباب کو اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے کی توفیق دے.

Comments

FB Login Required

ابوبکر قدوسی

ابوبکر قدوسی معروف اشاعتی ادارے مکتبہ قدوسیہ کے مدیر ہیں۔ تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ مجلہ الاخوہ کے مدیر رہے۔ اسلامی موضوعات سے دلچسپی ہے۔

Protected by WP Anti Spam