انا للہ و انا الیہ راجعون کی برکت – نیر تاباں

باتھ روم میں جس چمکتی ہوئی چیز پر میری نظر پڑی تھی، وہ میرے ٹاپس کا سٹاپر تھا۔ بےاختیار ہاتھ کان کی جانب بڑھا۔ ٹاپس کان میں نہیں تھا! چھوٹا سا ہیرا جڑا وہ ٹاپس میری شادی کے شروع دنوں کے تحائف میں سے تھا اور بہت ہی عزیز بھی۔ فرش پر نگاہ دوڑائی کہ شاید کہیں چمکتا نظر آ جائے، کاؤنٹر پر دیکھا لیکن نہیں نظر آیا۔ بالوں پر لپٹا تولیہ کھول کر ہلکا سا جھٹکا کہ شاید ٹاپس اس میں الجھ گیا ہو لیکن یہاں بھی ناکامی ہوئی۔ دل ہی دل میں انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ کر باتھ ٹب کا drain cover احتیاط سے کھولا۔ بظاہر تو جالی میں پانی بہنے کے لیے چار بڑے سوراخ ہیں لیکن پھر بھی کہیں چھوٹی سے امید تھی کہ شاید پانی بہہ گیا ہو اور ٹاپس جالی پر رہ گیا ہو۔ خیر ٹاپس وہاں بھی نہیں تھا۔ انا للہ کا ورد جاری تھا۔

واپس جالی پر لگانے سے پہلے drain cover کو کاؤنٹر پر رکھ کر ایک بار یونہی احتیاطاً الٹ پلٹ کر دیکھا کہ شاید کوئی معجزہ ہو گیا ہو اور ٹاپس ربڑ میں اٹکا نہ رہ گیا ہو لیکن کچھ نظر نہیں آیا۔ بوجھل دل کے ساتھ کور واپس لگا دیا۔ فرش پر ایک بار پھر نظر دوڑا کر میں باہر چلی آئی۔

کچھ دیر بعد پھر باتھ روم جا کر دیکھا تو کاؤنٹر پر میرا ٹاپس چمک رہا تھا۔ یقیناً وہ ڈرین کور سے ہی نکلا تھا کیونکہ میں پہلے بھی کاؤنٹر چیک کر چکی تھی۔ حیران کن! الحمدللہ! سبحان اللہ! انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھنے پر ہمیشہ چیز ایسے مل جاتی ہے کہ میری عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ دو تین بار احمد کے سامنے بھی ایسا ہو چکا کہ انا للہ پڑھنے سے کھوئی ہوئی چیز حیران کن طور پر مل جاتی ہے۔ اب جیسے ہی کچھ گم جائے، فوراً کہتا ہے کہ وہ magic ayah پڑھیں۔ Lego کھیلتے وقت بھی کوئی پیس نظروں سے اوجھل ہو اور نہ مل رہا ہو تو فوراً انا للہ پڑھ کر ڈھونڈتا ہے۔

اس سے پہلے ایک بار ایسا ہوا کہ میاں ٹیبل لائے تو میں نے پیکنگ کھول کر ڈبہ باہر recycling bin میں پھینک دیا۔ دو تین دن بعد جب ٹیبل assemble کرنے لگے تو پتہ چلا کہ نئے ٹیبل کا سارا ہارڈ وئیر اس ڈبے میں تھا جو مابدولت نے پھینک دیا تھا۔ گھبراہٹ میں پھر magic ayah پڑھتی recycling bin کے پاس پتہ نہیں کیا امید لے کر گئی، جبکہ دو تین دن ہو چکے تھے، کوڑا اٹھایا جا چکا تھا۔ ظاہر ہے ہارڈ وئیر مجھے وہاں کیسے مل پاتا، ہے ناں؟ لیکن پلٹتے وقت جو نگاہ پڑی تو کوڑے دان کے پاس نیچے ایک اورنج لفافہ پڑا تھا؛ وہی لفافہ جسے میں ڈھونڈ رہی تھی۔ ہوا شاید کچھ یوں ہو کہ ڈبہ جب اچھال کر کوڑے دان میں پھینکا تو لفافہ ہارڈ وئیر کے وزن کی وجہ سے نکل کر زمین پر گر گیا ہو۔ یا شاید ری سائیکلنگ والوں سے گرا ہو، واللہ اعلم! ہمیں تو بس اتنا پتہ ہے کہ اس آیت کی برکت سے کھوئی ہوئی چیزیں واپس مل جاتی ہیں۔ تقریباً ہمیشہ… الحمدللہ!

Comments

FB Login Required

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

Protected by WP Anti Spam