شدت پسندی، میری رائے کیوں تبدیل ہوئی؟ مبشر اکرام

پچھلے چند ماہ میں شدت پسندی کے خلاف مجھے خود اپنی رائے تبدیل ہوتی نظر آئی، جس میں بڑا عمل دخل شاید لاہور میں ہونے والے تین دھماکوں کا ہے۔ ایک آفس سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ڈی ایچ اے میں، دوسرا بیدیاں روڈ پر ہماری کالونی سے باہر مردم شماری والوں کی ٹیم پر، تیسرا مال روڈ پر جس سے پچھلے سگنل پر میرے ایک انکل کام سے واپسی پر کھڑے تھے، اور بال بال بچے۔ جہاں جہاں یہ واقعات ہوئے ہیں، وہاں کے قریب سے بھی گزرنے کی دوبارہ ہمت نہیں ہوتی کہ کہیں سڑک پر خون جما نہ رہ گیا ہو۔

میری طرح ہمارے پالیسی میکرز کا بھی یہی خیال تھا کہ جنگ بارڈر سے اس پار لڑی جائے گی، پھر ہمارا خیال تھا کہ جنگ میں بم بس پہاڑوں پر ہی گرتے ہیں، پھر ہم نے یہ فرض کر لیا کہ پشاور سے نکلتے ہی ایسی چوکیاں ہیں جہاں سے دہشت گرد پنجاب میں داخل نہیں ہو سکتا۔ ڈرون حملوں سے لے کر قصہ خوانی بازار تک ہر ظلم روا رکھا گیا لیکن ہمیں کبھی ایک چچ چچ سے زیادہ کوئی توفیق نہ ہونے پائی۔ اب حالات یہ ہیں کہ شدت پسندی سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیز سے ہوتی ہوئی ہر گھر کی دروازے پر پہنچ چکی ہے۔ اب خودکش کو سو پچاس کا مجمع بھی نہیں دیکھنا پڑتا۔ خودکش جیکٹ اور اس کا پہننے والا اتنا سستا ہو چکا کہ دس بندوں کی ٹیم پر بھی پھٹ کر وہ اپنے خیال میں اپنا مقصد پورا کر جاتا ہے۔

آپ خود کو غیور قوم کا بہادر سپوت گردان کر گردن کو اکڑائے اکڑائے پھرتے رہیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ بچوں کو سکول کے دروازے پر چھوڑ کر لوٹتے ہوئے ایک بار دل میں اندیشہ سا ضرور اٹھتا ہے۔ مسجد میں جمعہ پڑھنے بھی جائیں تو اپنے ساتھ کھڑے چادر والے پر شک گزرتا ہے کہ اس نے قمیض کے نیچے کچھ پہن تو نہیں رکھا؟ جن بچوں نے ٹی وی پر چیتھڑے اڑتے دیکھے ہیں، وہ پتا نہیں اگلی صبح سکول کے لیے کس طرح بستہ باندھتے ہیں۔ جس ملک میں پانچ سالہ بچے سے لے کر اپنی پینشن وصول کرنے کے لیے لائن میں کھڑا ہر شخص ٹارگٹ کی رینج میں آتے ہوں، وہاں پڑھے لکھے ٹائی لگائے ہوئے لڑکوں کو کسی لاش پر کودتا دیکھ کر یہی خیال آتا ہے کہ ہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے، شاید ہم اسی کے حقدار تھے۔ ہماری بدقسمتی کی انتہا کہ ہم لوگ آج تک اپنے پر پھٹنے والوں کے خلاف اٹھنا تو درکنار، ذہنی طور پر بھی ان کے خلاف ہم آہنگ نہیں ہوپائے۔

یہ بھی پڑھیں:   ابا جی - ڈاکٹر طاہرہ بشیر سلہریا

خودکش پھٹنے کے اگلے دن کوئی صاحب بتائیں گے کہ یہ تو عمل کا در عمل تھا، جیسے پھٹنے والے کےحامی ہوں۔ ہزارہ برادری پر دھماکہ ہوا تو خدا شاہد ہے کہ کچھ لوگوں کی آنکھیں خوشی سے چمکتی دیکھیں۔ پہلے ہم مذہب کو لے کر تقسیم ہیں پھر سیاست کو لے کر۔ مسجد پر حملہ ہو تو امام بارگاہ والے ٹھنڈے پڑے رہتے ہیں، اور امام بارگاہ پر حملہ ہوجائے تو واجب القتل کہنے والے اے سی چلا کر سو جاتے ہیں۔ پنجاب میں حملہ ہوتا ہے تو پشاور والے کہتے ہیں، دیکھو یہ ہے پنجاب والوں کا حال۔ پشاور میں حملہ ہوتا ہے تو دہشت گردوں کی مذمت کم اور عمران خان کو گالیاں زیادہ دی جاتی ہیں کہ وہ وقوعہ پر پہنچا کیوں نہیں۔

ہم لوگ ”ہمارے“ اور ”ان کے“ کی تقسیم میں ایسے پریشان حال کنفیوز ہیں کہ ملک کی پچاس فیصد آبادی بھی ابھی دہشت گردی کے خلاف ایک مؤقف پر جمع نہیں ہوپائی۔ جن کا کوئی ٹکڑوں میں بٹتا ہے وہ اس کی تدفین میں مصروف ہوتے ہیں، اور باقی ”ہمارے سب ٹھیک ہیں“ کہہ کر کمپیوٹر پر پلے کا بٹن دبا کر مصروف ہوجاتے ہیں۔ جب اپنے اندر شدت پسندی بھری ہو، دوسرے فرقے کو مائیک کے سامنے بیٹھ کر گالیاں دینے والے ”زبردست خطیب“ کا خطاب پاتے ہوں، جان بوجھ کر تبرا کرنے کو، دوسروں کو بھڑکانے کو جہاں عقیدہ کہا جائے، تقسیم در تقسیم کے بعد ہر گلی محلے میں حیاتی، مماتی، مؤمن، کافر، بریلوی، دیوبندی، ”ہم“ اور”غیرہم“ میں اتنے تقسیم ہوں نماز تو درکنار دعا بھی ایک چھت تلے مانگنا حرام سمجھتے ہوں، وہاں کسی سے کیا توقع کی جائے کہ وہ قوم کسی ایک بیانیے پر جمع ہوپائے گی۔

وطن باقی رہا تو آپ کی چھت پر علم لہراتا رہےگا، پاکستان ہوا تو آپ کے سفید دھاریوں والی پگڑی کا شملہ خوشبو سے مہکتا رہے گا۔ یہ سرزمین ہوئی تو آپ سے ہری پگڑی اور بھوری رومال کے فضائل بھی سن لیں گے۔ جب تک آخری دہشت گرد نہیں پکڑا جاتا، تب تک کے لیے ایک ایک قدم پیچھے ہو کر پاکستانیوں کی صف میں جا بیٹھتے ہیں۔ ایک ٹیم بن گئی تو کم از کم اور کچھ نہیں تو ایک سمت میں سوچنا تو شروع کر ہی دیں گے۔ سوچیں گے تو ممکن نہیں کہ مسئلے کا حل نہ نکلے۔