یہ سازش تو نہیں؟ طالبۃ الفردوس

ایک طرف ایک سنگین مجرم سنگین گستاخی کرتا ہوا قانون کے شکنجے میں آ جاتا ہے، اس کا حتمی ٹرائل/فیصلہ سامنے آنے سے پہلے ایک قدرے گمنام شخص کو اسی جرم کے الزام میں سرعام قتل کر دیا جاتا ہے. گویا توہین رسالت کے قانون کے بارے میں تشکیک کا عملی وجود افراد کے اذہان میں راسخ کرنے کے لیے شر پسند عناصر اسلام کے نام پر وحشت و بربریت کا مظاہرہ کرتے ہیں. اور نرم دل افراد فوراً اس وحشت کے خلاف صف آراء ہوجاتے ہیں. ہونا بھی چاہیے.

ایسے حالات میں دشمن دہرا فائدہ اٹھاتا ہے، ایک طرف عقائد سے کھیل کر مسالک کی جنگ چھیڑ دیتا ہے تو دوسری طرف اسلام اور مدارس کے خلاف نفرت کا بیچ دل میں بو دیتا ہے. حاصل نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ توہین رسالت قانون کے بارے میں اضطراب قلوب میں سرایت کر جاتا ہے. یہ کم ہی سوچا جاتا ہے کہ توہین رسالت کرنے والوں کے لیے عوام کو عدالت لگانی ہی کیوں پڑتی ہے؟ قانون تب ہی ہاتھ میں لیا جاتا ہے جب عدالتوں سے انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوتے ہوں. ایسا کیوں ہوتا ہے کہ لوگ مایوسی کی اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ انسانیت کے معیار سے گر جاتے ہیں؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں توہینِ رسالت قانون کے نفاذ کے لیے اگر عوام کو جدوجہد کرنی پڑے گی تو پھر عوام کی عدالتیں یونہی چوراہوں پر سجیں گی. فریسٹریشن کے اس دور میں جہاں پانچ سو روپے چرانے والے کو پچاس لوگ جوتے مارنے والے ہوں، جہاں دس روپے کے کرایہ پر جھگڑنے والے مسافر اور کنڈکٹر ایک دوسرے کے گریبان پھاڑتے ہوں، جہاں ماں بہن کی عزت گالیوں میں پروئی جائے. بھوک، غربت، بےروزگاری عام ہو، وہاں کی عوام سے آپ یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ایک غیر معمولی معاملے میں سکون سے ٹھنڈے دماغ سے کام لے؟

سوال یہ ہے کہ کیا یونہی ہر واقعے کے بعد اسلام پر انگلیاں اٹھیں گی؟
یقیناً یہ شدت اسلامی نہیں ماحولیاتی ہے، یہ شدت معاشرتی ہے، یہ شدت نفسیاتی ہے.
اگر ایسا نہ ہوتا تو پچھلے سال یوحنا آباد میں دو مسلمانوں کو زندہ نہ جلایا جاتا، حال ہی میں سیالکوٹ میں ایک اور واقعہ ہوا ہے جس میں ایک نوجوان کو مغیث اور منیب کی طرح موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے.
مذمت مذمت کھیلتے رہنے سے تو جاہل لوگ قانون توڑنے سے باز نہیں آئیں گے.

جب تک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کے لیے عوام میں عدم استحکام، عدم تحفظ، اور عدم اعتماد کی فضا قائم رہے گی. تب تک یونہی قتل و غارت گری ہوتی رہے گی. اور ہم ہمیشہ کی طرح صفائیاں دیتے رہیں گے کہ اسلام میں ایسی بربریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے. واللہ اسلام میں کسی پر ظلم اور ناحق خون ریزی کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */