مٹ جائے گی مخلوق تو..؟ حنا تحسین طالب

اسلام سلامتی کا مذہب، جو جانوروں کو ذبح کرتے وقت بھی نرمی اور کم سے کم تکلیف دینے کا حکم دیتا ہے.
جو کسی قوم یا فرد کے خلاف کارروائی سے قبل تحقیق کی نصیحت کرتا ہے کہ مبادا تم کسی فاسق کی خبر پر کسی قوم/فرد کے خلاف کاروائی کرو اور بعد میں پچھتانا پڑے، اس کے ماننے والے ایسا نہیں کر سکتے.

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو عبداللہ بن ابی جیسے منافق اعظم کے قتل سے یہ کہہ کر روک دیا تھا کہ لوگ کہیں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں.
کیونکہ دین کا یہ تصور پیدا ہو جائے کہ وہ قتل کرواتا ہے تو پھر کون اسلام کا ساتھی بننا چاہے گا.

حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے جب ایک شخص کو کلمہ پڑھنے کے باوجود اس لیے قتل کردیا تھا کہ ان کے خیال میں اس شخص نے دسترس میں آنے کے بعد محض جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے جاتے تھے کہ کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا. اسامہ! کیا کرو گے اس روز جب یہ کلمہ (لا الہ الا اللہ) تمھارے خلاف استغاثہ لے کر جائے گا. اللہ اکبر!

کیا ان لوگوں میں سے کسی نے تحقیق کی زحمت کی تھی؟
کیا وہاں موجود کسی شخص نے عدالت، انصاف کی بات کی تھی.
وہ مجرم تھے بھی یا نہیں؟ اور اگر تھے بھی تو کتنے لوگ اس بات کے چشم دید گواہ ہیں جو اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ گواہی دے سکیں کہ وہ واقعی شاتم رسول تھے.
ثابت ہو جاتا تب بھی کتنے لوگوں کے پاس دین کی رو سے یہ دلیل و جواز موجود تھا اور اس پر ان کا شرح صدر بھی تھا کہ اس شخص کا خون اور اس کی بےحرمتی اب ان کے لیے حلال ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   بلا امتیاز احتساب چاہیے - محمد فیصل ضیاء

کیا ان میں ایک بھی سمجھ بوجھ کا حامل، رحم دل موجود نہیں تھا؟
کیا کسی ایک شخص کو بھی مشعال خان کی ماں یاد آئی؟ جب وہ اپنے لخت جگر کو اس حال میں دیکھے گی تو اس کا کیا حال ہوگا؟
کیا کسی محب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشعال کی اصلاح کی فکر کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کے لیے نامناسب الفاظ استعمال کر نے والوں کے لیے بھی آخری دم تک اصلاح کے حریص رہتے تھے.

کیا کسی بھی عام مسلمان کا موازنہ صحابی رسول سے کرنا درست ہے کہ اس کی گواہی کو صحابی کی گواہی کے برابر سمجھا جائے؟
کسی نے سوچا کہ کل ان کے کسی پیارے کو اسی جواز کی بنا پر اس درجہ بربریت کا نشانہ بنانا کس قدر آسان ہو جائے گا؟

جس اخلاقی زوال کا ہم شکار ہیں، اس میں بہت آسان ہے، اپنے منفی جذبات کی تسکین کے لیے کسی پر سنگین الزام لگا کر اس کی عزت، جان و مال کو حلال کر لینا.

مشعال خان مجرم تھے تب بھی عدالت اور قانون موجود ہے، یہ ریاست کی ذمہ داری تھی، کسی فرد کو یہ حق حاصل نہیں، خصوصا آج کل کے نازک دور میں تو ازحد ضروری ہے کہ اس سانحے میں ملوث ہر فرد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے.

اس کے ساتھ ہی ریاست اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر گستاخ کو شفاف قانونی کارروائی کے بعد سزا دی جائے گی تاکہ پھر کوئی مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی ہمت نہ کر سکے. پھر کوئی شخص کسی کو اس بنا پر بربریت کا نشانہ بھی نہیں بنا سکے گا.

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ناقابل قبول ہے تاہم فرد کا خود منصف بن جانا اور اس بربریت کا مظاہرہ کرنا بھی مذموم عمل ہے جو کسی طور جائز نہیں.

یہ بھی پڑھیں:   کیا خواب بھی چھین لیں گے؟ محمد عامر خاکوانی

حکمران، اہل قانون اور عدالتی نظام سے تو بقول فیض یہی التجا ہے کہ

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے؟
منصف ہو تو پھر حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟

Comments

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب کا تعلق کراچی سے ہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابسته ہیں۔ بنیادی طور پر سپیکر ہیں اور اسی کو خاص صلاحیت سمجھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں