ماں تیری ہے - افشاں نوید

آج اسکائپ پر اپنی بیٹی سے بات ہو رہی تھی، ساتھ ساتھ وہ اپنے بیٹوں کی ویڈیو بھی دکھارہی تھی، جن کی عمریں بالترتیب ڈھائی برس اور ایک برس ہیں۔ وہ دونوں ماں سے لپٹ رہے تھے، ماں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دونوں اس کی پیٹھ پر سوار ہونے کے لیے ایک دوسرے کو دھکے دے رہے تھے۔ کبھی ایک گھٹنے پر سر رکھنے کی کوشش کرتے، پھر اس کے ہاتھ سے موبائل چھیننے کی تگ و دو کرنے لگتے۔ بولی دونوں ایک جیسی توجہ مانگتے ہیں۔ ایک کے سامنے دوسرے کو زیادہ پیار کرلوں تو دوسرا برا مان جاتا ہے۔ ایک ہی کھانے پر لڑتے ہیں۔ چھوٹے بھائی کو زیادہ توجہ دے دوں تو بڑا روٹھ کر کھلونے پھینک کر کے دوسرے کمرے میں چلا جاتا ہے۔ چھوٹا تو بےچارہ معصوم ہے، حق تلفی اسی کی کر دیتی ہوں، شہزادے ہیں میرے۔ یہ کہتے ہوئے چہرے پر مامتا کے سارے رنگ سمیٹے اس نے دونوں کو اکٹھا بازوؤں میں بھر لیا اور دل اور آنکھوں کی ٹھنڈ کے ساتھ میں نے اس سے اجازت چاہی کہ ڈرائیور انتظار کر رہا تھا، اور مجھے فوراً ممانی جان کی عیادت کے لیے ہسپتال پہنچنا تھا۔ آئی سی یو میں تھیں وہ، رات دل کا دورہ پڑا تھا۔

عجیب کیفیت ہوتی ہے ہسپتالوں میں داخلے کے وقت بھی کہ نہ معلوم کیا کیا مناظر دیکھنے کو ملیں۔ ڈولتے قدموں سے راہداری پار کی، آئی سی یو کے سامنے بچھی بینچوں پر ماموں جان کا خاندان براجمان تھا۔ چھوٹی بہو سیاہ تسبیح کے دانے یکے بعد دیگر حرکت دے رہی تھی، بڑی بہو جیبی سائز کے قرآن کے ورق الٹ رہی تھیں۔ بڑی بیٹی انتہائی دائیں جانب مصلے پر سربسجود تھی اور منجھلی جس کے ہاتھ میں ’’منزل‘‘ تھی، اپنی چھوٹی بہن کو (آسٹریلیا میں) ہچکیاں لیتے ہوئے امی جان کی کیفیت سے آگاہ کر رہی تھی، خود رو رہی تھی اور اس کے دلاسے دے رہی تھی اور بتارہی تھی گھر میں کتنی بار آیت کریمہ کا ورد ہوچکا ہے اور کتنی مرتبہ یاسلام و کا۔ بیٹے انتہائی پریشان چہروں اور لہجوں کے ساتھ مختلف لوگوں کے فون ریسیو کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ دعاؤں کی بھی درخواست کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   خواب ہوئے راکھ - اختر علی تابش

یکدم بڑے بھائی فیضان نے چھوٹے بھائی احسان کو مخاطب کیا کہ دل کے دورے کے بعد امی سیڑھیاں چڑھنے کے تو قابل نہیں ہوں گی، میں تو تیسری منزل پر کسی طرح امی کو لے جاؤں مگر ایمرجنسی میں دوبارہ ڈاکٹر کے پاس لانا پڑا تو کس طرح ممکن ہوگا۔ احسان نے انتہائی سعادت مندی سے کہا کہ یہ تو میرے لیے بڑی نصیب کی بات ہوتی کہ میں امی کی خدمت کر کے جنت کما لیتا مگر میرے تینوں بچے بہت چھوٹے ہیں، ہمارے گھر میں تو وہ شور شرابا ہوتا ہے کہ امان والحفیظ۔ دوسرے یہ کہ فریحہ تو بچوں میں اتنی الجھی رہتی ہے، امی کو سخت نگرانی کی ضرورت ہوگی اس وقت۔ فی الحال تو بھائی تم ہی لے جاؤ۔ کچھ عرصے بعد میں آیا وغیرہ کا بندوبست کرلوں گا۔ بڑی بہن شیریں نے چھوٹی بہن سکینہ کی طرف التجا بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ امی کو سب سے زیادہ تم سے محبت ہے، تم چھوٹی ہو تمہیں دیکھ دیکھ کر جیتی ہیں، تم اپنے ساتھ لے جانا۔ تمہارے ہاں اوپر نیچے کا بھی مسئلہ نہیں، میرے ہاں تو گراؤنڈ پر ایک ہی بیڈ روم ہے، ون یونٹ بنگلے میں یہ مشکل ہے۔ اب کچن بیڈروم سے بڑا ہے مگر کچن میں بیڈ تو نہیں بچھایا جا سکتا۔ سکینہ بہت ثواب ہے ماں کی خدمت کا، جنت تمہارے گھر چل کر آ رہی ہے۔ سکینہ کی آنکھوں کے گوشے نم ہوگئے، بولی دو دن بعد میری نند اسلام آباد سے آ رہی ہے، بچوں کے ساتھ۔ ایک ہی تو بیڈ روم ہے جو بچوں کا ہے۔ وہ اس کے استعمال میں ہوگا، امی کو کہاں رکھوں گی؟ امی کے لیے تو چلو ٹی وی لاؤنج میں بستر ڈال دوں مگر میرے اور اس کے چھ بچے تو امی کے حواس پر سوار رہیں گے اور ان کو سخت آرام کی ضرورت ہے.

یہ بھی پڑھیں:   نوجوان خوبصورت نانا / دادا کیسے بنیں؟ معلمہ ریاضی

سب بےبسی سے ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ رہے تھے۔ میرے پاس تو کہنے کو کچھ تھا نہ سوچنے کو، مجھے تو گھنٹہ بھر قبل اپنی بیٹی کی ویڈیو یاد آرہی تھی جب وہ اپنے دونوں بچوں کو بازوؤں میں بھر رہی تھی۔ ان کی پیشانیوں پر بوسے دے رہی تھی۔ بچے اس سے چمٹے ہوئے تھے، اس لیے کہ بچوں کو ماں کی ضرورت تھی اور اس وقت آئی سی یو میں لیٹی ماں کو بچوں کی ضرورت ہے۔ ایک ماں چار بچے کتنے حسن اور خوبی سے سنبھال لیتی ہے مگر چار بچوں کے لیے ایک ماں مسئلہ بن جاتی ہے۔ کسی نے ٹھیک ہی دعوت دی ہے سوچنے کی کہ
سوچو اکثر یوں ہوتا ہے
لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے
بچپن میں سب بھائی، بہنیں
ماں کا قرب ہتھیانے کو
ایک دوجے سے لڑ پڑتے ہیں
ہر کوئی چلاتا ہے
ماں میری ہے، ماں میری ہے
اور آنکھوں میں پیار بھرے
ماں دھیرے دھیرے ہنستی ہے
بعد میں لیکن یوں ہوتا ہے
سوچو ایسا کیوں ہوتا ہے
اپنے اپنے گھر والے
جب ہوجاتے ہیں بہنیں بھائی
بوڑھی ماں کو ایک دوجے کے
سر پر ڈالا کرتے ہیں
ایک دوجے سے لڑتے اور جھگڑتے ہیں
ہر کوئی چلاتا ہے
ماں تیری ہے، ماں تیری ہے

Comments

افشاں نوید

افشاں نوید

روزنامہ جسارت میں کالم لکھتی ہیں۔ نوید فکر کے نام سے کالموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، اسی عنوان سے 5 ماہناموں میں تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں