ماورائے عدالت واقعات کی روک تھام، کرنے کا کام – محمد زاہد صدیق مغل

مختلف جرائم میں ماورائے عدالت قتل (یا مار کٹائی) کے واقعات کی تعداد میں وقت گذرنے کے ساتھ ہمارے یہاں اضافہ ہوا ہے مگر اس کے باوجود اس کی سالانہ اوسط شاید ترقی یافتہ ممالک سے کم ہی ہوگی۔ ہمارے معاشرے کو مذہبی و لبرل جیسے طبقات میں تقسیم کرنے کا سہرا مشرف صاحب کو جاتا ہے جن کی پالیسیوں کے نتیجے میں ہمارے لوگوں میں اس احساس میں بےپناہ اضافہ ہوا ہے کہ ”کوئی ہم سے ہماری شناخت و اقدار چھین لینا چاہتا ہے“ اور ہمارے لبرل طبقات اس احساس کو بڑھاوا دینے میں بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ اس اعتبار سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں بدترین دور مشرف صاحب کا تھا جنہوں نے اس ملک کو ایک نئی قسم کی معاشرتی تقسیم سے دوچار کیا۔ اگر بلاسفیمی کے تحت ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی بات کی جائے تو اعداد و شمار کی رو سے بلاسفیمی کا قانون بننے کے بعد 1990ء سے لے کر اب تک پاکستان میں ماورائے عدالت قتل کے 34 واقعات ہوئے جن میں سے 11 واقعات 2000ء سے قبل جبکہ 23 مشرف دور سے بعد کے ہیں۔ اگر 1990ء سے پہلے کے واقعات بھی تلاش کرکے شامل کرلیے جائیں تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں بلاسفیمی کے نام پر اس نوع کے شاید 60 سے بھی کم واقعات ہوئے ہوں گے، یعنی اوسطا سالانہ ایک سے بھی کم۔

ہمارے یہاں اس سے زیادہ سالانہ اوسط تو ”عدلیہ آزاد“ ہونے کے بعد سے لے کر اب تک وکیلوں کی ماورائے عدالت مار کٹائی کے واقعات کی ہے! ترقی یافتہ ممالک کے اعداد و شمار آپ کو بتائیں گے کہ وہاں اس نوع کے جرائم اس سے زیادہ ہوتے ہیں حالانکہ ان کی آبادی ہم سے بہت کم اور ریاست کے سرویلئینس وسائل ہماری ریاست سے کہیں زیادہ ہیں۔
اگر ہم واقعی ان کا سدباب چاہتے ہیں تو ان موضوعات پر case based طریقہ کار کے تحت سنجیدہ سٹڈیز کی ضرورت ہے اور پھر ان سے جو نتائج نکلیں ان کی روشنی میں پالیسیاں بنائی جائیں۔ ماورائے عدالت جرائم، خصوصا ہجوم کی صورت میں، کیوں ہوتے ہیں، اس پر سنجیدہ کام کے لیے Mob Psychology کے مباحث سے مدد لی جاسکتی ہے۔ چنانچہ اس قسم کے واقعات کا مطالعہ کرکے ان میں مشترک امور اور فریقین کے پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے محرکات کا جائزہ لینے اور ان کی نفیساتی تحلیل کی ضرورت ہے۔ اس قسم کے واقعات کو مذہب سے جوڑ دینا جان چھڑا لینے کا آسان طریقہ تو ہوسکتا ہے مگر کوئی سنجیدہ علمی کام نہیں۔

اس ضمن میں بعض حلقوں کی طرف سے اس قسم کی تجاویز دینا کہ اس جرم کی سزا ختم کر دی جائے تاکہ لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی ہمت نہ ہو، نہایت بچگانہ بات ہے۔ کیا لوگ چور ڈاکو کو چوراہوں پر اس لیے مار رہے ہیں کہ قانون میں ان اعمال کے لیے سزا مقرر کر رکھی ہے؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے جرم کا الزام لگانے والا اگر عدالت میں ثابت نہ کرسکے تو الزام لگانے والے کو پھانسی کی سزا دی جانی چاہیے۔ ہمارے ملک میں عدالتیں جس طرح کام کرتی ہیں اس تناظر کو سامنے رکھ کر اس تجویز کا سیدھا سا مطلب کیا یہی نہیں بنتا کہ کوئی اس جرم کے خلاف مقدمہ ہی نہ درج کروائے بلکہ خود قانون کو اپنے ہاتھ میں لے؟ جب ہر صورت مرنا ہی ہے تو پھر جو گستاخ کسی کے نزدیک ثابت شدہ ہے، اسے مار کی ہی کیوں نہ مرے؟ وقتی نوعیت کے واقعات کو سامنے رکھ کر بنائی جانے والی پالیسیاں بناوٹی ہوتی ہیں اور ان سے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ لوگوں کا تو پہلے ہی یہ ماننا ہے کہ عدالت کے ذریعے اس معاملے میں انصاف نہیں ملتا اور ان تجاویز کا مطلب حصول انصاف مزید مشکل بنانا ہے۔ چنانچہ ان معاملات میں قانونی نظام کو اپنی ساکھ بہتر بنانا ہی ہوگی۔

ایک مزید پہلو یہ کہ جس طرح یہ بات اہم ہے کہ اس طرح ماورائے عدالت قتل کرنے والوں کو ہیرو نہ بننے دیا جائے کیونکہ یہ ایک غلط ٹرینڈ ہے اور ریاست کی طرف سے اس کی حوصلہ شکنی لازم ہے، اس کے ساتھ ساتھ پچھلے کچھ عرصے میں سامنے آنے والے اس ٹرینڈ کی حوصلہ شکنی کی بھی ضرورت ہے کہ اس قسم کا جرم کرنے والوں کی گرفتاری کے بعد عالمی پریشر پیدا ہوتا ہے اور ایسے لوگ چھوٹنے کے بعد یا جیل ہی میں سیاسی پناہ کی درخواست دے کر یورپ یا سوئٹزرلینڈ وغیرہ چلے جاتے ہیں کیونکہ یہ ”کسی اور کے ہیرو“ ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس قسم کے جرائم بعض لوگوں کے لیے یورپ وغیرہ نکلنے کا ایک شارٹ کٹ راستہ بنا ہوا ہے۔ اس جرم کے بعد یوں بھاگنے والوں کی کامیاب مثالیں موجود ہیں۔
اگر ہم واقعی مسائل کے حل میں سنجیدہ ہیں نہ کہ اپنے پسندیدہ امپورٹد قوانین کو یہاں نافذ کروانے میں تو پھر ملک پاکستان کی مقامی اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ میری یہاں کے سیکولر و لبرل طبقات سے گزارش ہے کہ خدارا میرے ملک سے کھلواڑ بند کیا جائے۔

Comments

FB Login Required

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

Protected by WP Anti Spam