اختر شیرانی جتنا ایمان بھی نہیں - سید عدنان کریمی

آپ کا اصرار ہے کہ مشال پر بد ترین ظلم ہوا. ٹھیک ہے میں نے مان لیا.

آپ کا کہنا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کا اختیار کسی کو نہیں سوائے ریاست کے. متفق ہوں کہ آپ کی بات سولہ آنے درست ہے.

آپ کا فرمانا ہے کہ مشال کے والدین کے دکھ درد، مقتول کے پس منظر اور قریبی دوستوں کی باتوں سے نہیں لگتا کہ مشال گستاخ و شاتم تھا. درست فرمایا آپ نے، میں نے قبول کیا.

مذکورہ تینوں نکات کا ماحصل یہ ہے کہ مشال کے اوپر بد ترین تشدد ہوا، مجرموں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے. حرف حرف آپ کے نتیجے سے اتفاق کرتے ہیں کہ قاتلوں کو سزا ہونی چاہیے.

دوسری جانب مشال کے کیس کو ذرا ایک طرف رکھ کر یہ تو بتائیے کہ آسیہ نے جو گستاخی کی تھی، وہ کس زمرہ میں آتا ہے؟ تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی کی لاف زنی کو کس کھاتے میں ڈالیں گے؟ حالیہ بلاگرز کے سبّ و شتم اور دریدہ دہنی کو کس حساب میں رکھیں گے؟ ابھی کل کی تو بات ہے کہ چودھری نثار اپنے ہفتہ واری پریس بریفنگ میں بتا رہے تھے کہ گستاخ بلاگرز کی گستاخیاں اس انتہا کو پہنچی ہوئی تھیں کہ جسے میں خود دو سطروں سے زیادہ نہ پڑھ سکا اور نہ ہی وزیراعظم کو ان گستاخیوں کی کاپی دینے کی ہمت ہوئی. مزید یہ کہ مسلم سفراء کے اجلاس میں بھی ہر سفیر کو الگ الگ فوٹوکاپی کروا کر دینے کا یارا نہیں رہا تھا، ایک ہی پیج کو تمام سفراء کے درمیان رکھا گیا اور اس پر بحث ہوئی.

وزیرداخلہ کی مذکورہ تمام باتوں سے یہ امر بخوبی آشکار ہوتا ہے کہ بلاگرز کی گستاخی کا معاملہ کتنی سنگین نوعیت کا حامل کیس ہے، مگر اس میں اب تک کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی. آسیہ کا معاملہ بھی اب تک روایتی سست روی کا شکار ہے. سوال یہ ہے کہ ریاست کو جن گستاخوں کا سامنا ہے، ان کا معاملہ بھی اب تک التوا کا شکار کیوں ہے، اور ریاست نے کسی دریدہ دہن کو اب تک نشانِ عبرت نہیں بنایا تو جاہل عوام ریاست پر کیونکر اعتماد کرے گی.

مجھے حیرانگی اس پر ہے کہ ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کا اعزازی تمغہ اپنے ماتھے پر سجائے ملک میں ’’ڈان لیکس‘‘ جیسے کیسز میں تو ایسی بلا کی پھرتی دکھائی جاتی ہے کہ چشم زدن میں معاملات کو اتھل پتھل کردیا جاتا ہے، شیخ رشید پر جوتے پھینکنے والے بوڑھے کو آن کی آن میں دھر لیا جاتا ہے. لیکن گستاخی کے معاملے پر وزیر داخلہ محض ہفتہ واری بریفنگ میں اپنے ایمانی سطح کو ظاہر کرکے اپنے کو ’’ذمہ وار وزیر‘‘ منوانے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں.

واضح رہے کہ جذباتیت اور عشق میں زمین آسمان کا فرق ہے. جذباتیت کا بیانیہ کچھ اور ہے اور عشق کا فلسفہ کچھ اور ہے. جذباتیت سے مغلوب شخص کو ندامت کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے لیکن عشق کے مریض کو کوئی اور بیماری و بار کا سامنا کرنا نہیں پڑتا کیونکہ عشق نہ زاہد ہے نہ مُلّا ہے نہ حکیم.

دعویٰ یہ ہے کہ گستاخ رسول کی کوئی سزا قرآن و سنت میں مذکور نہیں اور عمل یہ ہے کہ جب میرے والدین کو کوئی گالی دے تو میں اس دریدہ دہن کے کشتوں کے پشتے لگا دیتا ہوں. یہ منافقت اور دین بیزاری کی کھلی نشانی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

یقین جانیے! ہمارے اندر شرابی اختر شیرانی جتنا ایمان بھی نہ رہا. فلسفے نے ہمارا ایسا کباڑا کیا ہے کہ ہمارے شعور کو مُردہ ضمیر سے گھن آنے لگی ہے.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */