کارٹونوں کی دنیا میں - نوشین صدیقی

"اب میں نے لڈو کھالیا ہے، میں سب کو مار سکتی ہوں۔" یہ الفاظ میری پانچ سالہ بھتیجی امل کے تھے، جو اس نے گزشتہ دنوں ایک کارٹون سیریز "چھوٹا بھیم" سے سیکھے۔ہم 80ء کی دہائی میں بڑھنے والے بچے جو اسکول سے گھر آنے کے بعد کھانا کھاکے جلدی جلدی صرف اس لالچ میں سوجاتے تھے کہ اٹھنے کے بعد اگر ہوم ورک اچھا کیا تو پھر کارٹون دیکھنے کو ملے گا، وہ بھی "پورے" دس منٹ کا۔اور ایک آج کے بچے ہیں، جنہیں نہ تو سونے کا پتہ ہے اور نہ ہی کھانے کا! نتیجہ صحت کی خرابی، ر دماغی کمزوری اور "ہائیپر ایکٹو" ہونا ہے۔ کسی حد تک دیکھا جائے تو اس میں ہمارا اپنا قصور بھی ہے۔

مختلف کارٹون سیریز کے بچوں پر مختلف اثرات ہیں۔بچوں میں پسند کئے جانے والے کارٹونز سیریز اور فلموں میں "چھوٹا بھیم"،"ڈورے مون"، "فروزن"، "باربی"، "اسپائیڈرمین"،"بیٹ مین" اور بہت سے دوسرے ہیں۔بیشتر میں مار دھاڑ، تشدداور اچھل کود دکھائی جاتی ہے اور بچہ ان سے متاثر ہوکر ان تمام حرکتوں کو آزماتا ہے۔ کچھ تو طلسماتی کردارہوتے ہیں جو بظاہر تو یہ ایک بے ضرر سی تفریح لگتے ہیں۔ مگر فوق الفطرت قوتوں کے حامل کرداروں کی کہانیاں بچوں کو عملیت پسندی اور حقیقت سے دور لے جارہی ہیں۔ جس کاواضح ثبوت یہ ہے کہ بچے اسپائیڈر مین اور بیٹ مین بننا چاہتے ہیں اور بچیاں فروزن اور باربی کو آئیڈیالائز کرتی ہیں۔بچوں کا معصوم ذہن اپنی ضرورت کی تمام چیزوں میں ان کرداروں کو دیکھنا چاہتا اور یہ سب بازار میں بآسانی میسر بھی ہے۔خواہ ان کے کپڑے ہوں، بستہ ہو،لنچ باکس ہو،پانی کی بوتل ہو،جوتے ہوں یہاں تک کے ان کی اسٹیشنری ہو۔چین سمیت تقریبا دنیا کے کافی ممالک میں تصاویر والی اشیاء اسکول لانے پر پابندی ہے جس کی وجہ سے بچے پوری توجہ سے کام کرتے ہیں۔ان کا دھیان نہیں بٹتا۔جبکہ یہاں ایسا کوئی قانون نہیں۔

اس کے علاوہ ہندی ڈبنگ میں پیش کئے جانے والے کارٹونز کے بھی بچوں کی نفسیات پر بے تحاشہ منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔، بلکہ ہندوانہ ثقافت، رسم و رواج اور اخلاقی اقدار سے دوری فروغ پارہی ہے۔بچوں کی گفتگو میں ہندی الفاظ کا اضافہ اور اردو کی کمی ہورہی ہے۔4 سے 10 سال تک کے بچوں میں کارٹونز زیادہ مقبول ہیں اور یہ وہ عمر ہے جس میں بچہ تیزی سے اثر لیتا ہے۔ اپنی مصروفیات میں مگن والدین بچوں کی شرارت سے پریشان ہوکر ان کی دوستی ٹیلی ویژن اسکرین سے کروا دیتے ہیں۔ بچہ اپنے اس رنگین اور پر کشش دوست کے ساتھ گھنٹوں گزار دیتا ہے اور والدین کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔

وقت کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے سب سے بڑا نقصان وقت کا ضیاع ہے۔24 گھنٹے ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہنے سے بچے کی تربیت والدین نہیں کارٹون کرتا ہے۔اور وہ پر تشدد ہونے کے ساتھ بے حس ہو جاتا ہے۔ وہ جسمانی، ذہنی اور تعلیمی نشوونما سے عدم توجہ کا شکار ہوتا، اس کا وزن بڑھنے کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے اورآنکھیں کمزور ہوسکتی ہیں۔

ان تمام خطرات سے بچنے کے لئے والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی تقلیدی نظروں کے سامنے اچھے اخلاق و اعمال کے نمونے اور کردار پیش کریں۔ان کے ذہنوں میں اسلامی عقائد و اعمال کو بسائیں تاکہ ان میں برے اعمال و عقائد پرورش نہ پاسکیں۔اور یہ سب صرف ایک صورت میں ممکن ہے کہ والدین اپنا قیمتی وقت اپنے بچوں کے لئے رکھیں، ان کی بہترین تربیت کریں،ان کے دوست بنیں تاکہ ہماری نسل نو میڈیاکے ہاتھوں نہ پروان چڑھے اور اور کارٹون بننے کے بجائے ایک اچھا انسان اور مسلمان بنے۔