’’ رینجرزاختیارات ۔۔۔روٹھی ہوئی سندھ حکومت‘‘ – احسان کوہاٹی

پیپلز پارٹی عجیب ڈب کھڑبا پارٹی ہے بات جمہوریت کی کرتی ہے اور عمل بادشاہت والے ہیں ،نعرے روٹی کپڑا اور مکان کے لگواتی ہے اور اسی کو اس کے ووٹر ترس رہے ہوتے ہیں۔ آنسو غریبوں کے لئے بہاتی ہے اور اسمبلی میں نوے فیصد وڈیرے صنعتکار بھی یہی پہنچاتی ہے ۔ ذکر میرٹ کا ہوتا ہے اور عمل اقرباء پروری پر ہوتا ہے ۔ زرداری خاندان کو کوئی ایک فرد بتا دیں جو پارٹی یا حکومت میں اہم ذمہ داری یا عہدہ نہ رکھتا ہو۔۔۔عجیب متضاد رویوں کی جماعت ہے ،لگتا ہے اسے سندھ کے عوام کی حالت زار سے کچھ لینا دینا نہیں جو حکومت اپنے عوام کے حلق سے صاف پانی نہ اتار سکے جو کچرے کے ڈھیر صاف نہ کرا سکے اس سے کوئی کیا توقع رکھے؟ سیلانی کووہ سیاہی مائل زرد آنکھوں والا بیماربچہ دلدار نہیں بھولتا جسے اس کا باپ گود میں لئے کسی نہ کسی طرح سندھ اسمبلی پہنچا کہ اپنے لخت جگر کی زندگی کی بھیک مانگے اس کے لئے علاج کی منت کرے شائد کسی کو رحم آجائے اور رحم یوں آیا کہ سندھ کے سینئر وزیر نثار کھوڑو کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے رٹا لگائے ہوئے اسمبلی قوانین میں سے ایک نقطہ نکالا کہ بچہ اسمبلی نہیں آسکتا اور پھر دلدار واقعی اسمبلی نہیں آیا وہ جگر کے عارضے میں مبتلا تھا۔ اس نے اپنی سسکتی زندگی حکمرانوں کے منہ پر ماری اور مٹی اوڑھ کر سوگیا۔

یہی نثار کھوڑو صاحب میڈیا کے سامنے پیپلز میڈیاسیل میں خوبصورت مگر بے روح الفاظ سے کھیل رہے تھے۔ میڈیا کو بتا رہے تھے کہ نواز لیگ سے لوگ مایوس ہوتے جا رہے ہیں،ان کا ساتھ چھوڑ چھوڑ کر پارٹی کے قافلہ جمہوریت میں شامل ہو رہے ہیں ۔ مسلم لیگ نون کے مرکزی صدر امتیاز چولیانی بھی لیگ کا پچیس برس پرانا ساتھ چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی میڈیا سیل میں نیوز کانفرنس کے دعوت نامے کامطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ کسی نے اپنا سیاسی قبلہ تبدیل کرکے بلاول ہاؤس کی جانب منہ کر نے کی نیت کرلی ہے ۔ اس روز بھی ایساہی ہوا تھا سیلانی شدید گرمی میں جھیلتا ہوا اپنی جامہ تلاشی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ سے گاڑی چیک کروا کر بلاول ہاؤس کے قریب میڈیا سیل پہنچا تواسے اندازہ تھا کہ کسی کو سیاسی وفاداری کی تبدیلی پر شاباشی ملنے والی ہے اور ایساہی ہوا امتیاز چولیانی نے نون لیگ چھوڑ کر زرداری لیگ میں شامل ہونے کا اعلان کیا اسباب بتائے کہ نواز لیگ نے وعدے پورے نہیں کئے علاقے کے لوگوں کا ان پر بڑا دباؤ تھااب ضمیر بھی جاگ گیاہ۔ پریس کانفرنس ختم ہوئی سوال جواب شروع ہوئے رینجرز کے اختیارات کا معاملہ ایک بار پھر بڑی شہ سرخیاں بنا رہا تھا ۔ سیلانی نے سوچ رکھا تھا کہ وہ کھوڑو صاحب سے اسی بارے میں سوال کرے گا،رینجرز کو خصوصی اختیارات کے لئے وزیر اعلٰی سندھ سفارش کرکے وفاق کو بھیجتے ہیں اور وفاق ان سفارشات پر رینجرز کو امن و امان کے قیام کے لئے وہ اختیارات دے دیتا ہے جو پارٹی قیادت کو ایک آنکھ نہیں بھاتے سیلانی یہ سوال پوچھنے کو تھا کہ ایک دوست نے تیزی سے یہی سوال جھاڑ دیا:

یہ بھی پڑھیں:   سفید پوش دہشت گرد - عزیز حسین مندھرو

’’کھوڑو صاحب! رینجرز کو اختیارات کی مدت آج رات بارہ بجے ختم ہو رہی ہے وزیر اعلٰی سمری پر دستخط نہیں کر رہے ،کیا پھر کوئی تنازع ہے‘‘

جواب میں نثار کھوڑو صاحب نے کمال بے نیازی سے مسکراتے ہوئے کہا ’’ابھی تو بارہ بجنے میں وقت ہے ،جب بارہ بج جائیں گے تو دیکھا جائے گا‘‘۔

ایک اور دوست نے زرداری صاحب کے تین قریبی دوستوں کے لاپتہ ہونے سے متعلق پوچھ لیا کہ وہ ہیں کہاں؟

’’ ہمیں اس بارے میں کوئی کچھ بتا ہی نہیں رہا کہ انہیں کوئی ڈاکو لے گیا ہے یا کون لے گیا ہے ویسے ڈاکوؤں کے پاس واکی ٹاکی نہیں ہوتے‘‘۔نثار کھوڑو صاحب کی واکی ٹاکی والی بات بڑی معنی خیز تھی وہ صاف اشارہ کر رہے تھے کہ انہیں وائرلیس والے لے گئے ہیں ،چند اور سوالوں کے بعد نیوزکانفرنس ختم ہوگئی ،کھوڑو صاحب اٹھ کر جانے لگے تو سیلانی ان کے قریب آگیااس نے کھوڑو صاحب سے ایک بار پھر رینجرز اختیارات کے بارے میں بات کر نا چاہی تو وہ چڑ گئے کہنے لگے ’’میں کوئی وزیر داخلہ تو نہیں ہوں مجھے کیا پتہ کہ کب دستخط ہوں گے‘‘

یقینا وہ وزیر داخلہ نہیں ہیں لیکن سندھ کے کوئی ایک محکمہ کا معاملہ ایسا نہیں ہے جہاں وہ بحکم بلاول ہاؤس ٹانگ نہ اڑاتے ہو ں ۔ سیلانی کا جی تو چاہا کہ وہ کھوڑو صاحب سے کہے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ میں کس وزیر داخلہ کی روح حلول کر گئی تھی جو آپ واکی ٹاکی والوں کے بارے میں انکشاف کر رہے تھے بتا رہے تھے کہ زرداری صاحب کے دوستوں کو وائرلیس والے لے گئے ہیں ۔۔۔۔لیکن وہ انہیں بدمزہ کرنا چاہتا تھا اورنہ ہونا چاہتا تھا لیکن یہ بات وہاں سب ہی ڈسکس کر رہے تھے کہ پیپلز پارٹی رینجرز کو اختیارات دینے کے معاملے میں تاخیر کرکے اسلام آباد کو دباؤ میں لا رہی ہے۔ اس کے علاوہ وجہ کیا ہوسکتی ہے دس روز سے سمری وزیر اعلٰی کی میز پر پڑی ہے اس پرچڑیا بٹھانے میں گھڑی سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو سیکنڈ بھی نہیں لگتااو ر اس ایک سیکنڈ کے لئے شاہ سائیں کے پاس وقت نہیں ہے !

سیلانی کو تعجب اس بات پر تھا کہ یہ معاملہ نواز لیگ کا نہیں ہے ،سندھ پر حکومت مسلم لیگ نون کی ہے نہ کراچی میں مسلم لیگ نون کا ووٹ بنک ہے ،یہ یہاں کے ڈھائی کرورڑشہریوں کا معاملہ ہے رینجرز ،حساس اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جان پر کھیل کر اگر اس شہر سے ایم کیو ایم کی بدمعاشی اور گینگ وار کی غنڈہ گردی ختم کی ہے توتب اس کا کریڈٹ لینے میں پیپلز پارٹی خم ٹھونک کر میدان میں آجاتی ہے اوراب اسی پر وہ وفاق کو دباؤ میں لا نا چاہ رہی ہے۔ ذرا بھی نہیں سوچ رہی کہ یہ معاملہ امن وامان کا ہے اس کا براہ راست تعلق شہریوں کے جان و مال سے ہے رینجرز متحرک ہے تو شہر میں رات گئے تک ہوٹل بازار کھلے ہوئے ہیں،پارکوں میں بچے اور میدانوں میں نوجوان کرکٹ لھیل رہے ہیں، واقعی سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کو مخالف وفاقی حکومت کو دباؤ میں لینے کے لئے یہی حربہ ملا تھا ؟

یہ بھی پڑھیں:   حُسنِ تعبیر - مفتی منیب الرحمٰن

سیلانی کو سابق ڈی جی رینجرز جنرل رضوان اختر سے ہونے والی ایک ملاقات یاد آگئی ،کراچی آپریشن کو سال بھر ہوچکا تھا ،سیلانی ان کے دفتر میں جنرل صاحب کے سامنے بیٹھا شہر کے حالات پرہی بات کر رہا تھا بات سے بات چلی تو رضوان اختر صاحب اسی سندھ حکومت کے بارے میں بتانے لگے کہ وہ اس میں اپنے حصے کاکام کرنے پر تیار نہیں ،طے یہ ہوا تھا کہ کراچی آپریشن میں پکڑے جانے والوں کے لئے الگ سے خصوصی عدالتیں بنیں گی جو تیزی سے سماعت کرکے مقدمات کا فیصلہ کریں گی تاکہ مجرموں کو سزا ہو اور دوسرے بھی عبرت پکڑیں لیکن ابھی تک یہ کورٹس بن کر نہیں دے رہیں، اور تو اور انہوں نے رینجرز کو ان کے مقدمات کی پیروی کے لئے وکلاء تک نہیں دیئے۔ جنرل صاحب کہنے لگے تنگ آکر میں نے خود اپنے دفتر میں وکیلوں کا انٹرویو کیا اور انہیں سلیکٹ کیا تاکہ یہ ہمارے مقدمات کی پیروی کریں ‘‘۔

اسی قسم کا تعاون ان کے بعد آنے والے ڈی جی رینجرز بلال اکبر کے ساتھ بھی رہا،ان کے ساتھ بھی رینجرز کے تعلقات میں کھنچاؤ ہی رہا کہ وہ دہشت گردی اور کرپشن کے گٹھ جوڑ پرکام کرنے لگے تھے اور اب ایک بار پھر عوامی حکومت ماش کے آٹے کی طرح اینٹھی ہوئی ہے۔ سندھ حکومت سے ایک محکمہ پولیس سنبھالا نہیں جاتا سندھ پولیس چیف میرٹ پر بھرتیاں کرے تو اسے اجلاس میں بلا کر بیٹھنے کے لئے کرسی تک نہیں دی جاتی، ناراضگی،ناپسندیدگی کا پیغام دیاجاتاہے وہ بدین میں ’’بااثر ‘‘ شخصیت کے کہنے پرگنے کے کاشتکاروں سے زورزبردستی کرنے کا نوٹس لیتا ہے تو بلاول ہاؤس ناراض ہوجاتا ہے اور اب یک بار پھر پیپلز پارٹی رینجرز کو خصوصی اختیارات دینے پر منہ بنائے کھڑی ہے اور لمحہ بھر کے لئے نہیں سوچ رہی کہ وہ کس معاملے پر وفاقی حکومت کی بازو مروڑنے کی کوشش کر رہی ہے،معاملہ بڑھے گا وزیر اعلٰی کو سمری پر دستخط کی اجازت نہیں ملے گی تو وفاق اپنا آئین کے تحت رینجرز کو متحرک کردے گا پھر ہونے والی محاذ آرائی کا ذمہ کون اٹھائے گا؟ اور کیا دباؤ دباؤ کھیلنے کے لئے یہ عوام کی جان و مال ہی رہ گئی ہے۔۔۔سیلانی یہ سوچتا ہوا سندھ کے سینئر وزیر کوعوام کے ٹیکس سے خریدی گئی لشکارے مارتی ٹھنڈی ٹھار سرکاری لینڈ کروزر میں جاتا دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں