کیا ریاست کا مذہب ہوتا ہے؟ محمد زاہد صدیق مغل

متبادل بیانیے والے حضرات یہی سوال دہراتے پھرتے ہیں کہ ”آخر ریاست کے مذہب ہونے کا کیا مطلب، ریاست کوئی انسا ن ہے کیا؟“ اور پھر اس سے فورا یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ ”قرارداد مقاصد کو کالعدم اور آئین کی اسلامی شقوں کو آئین سے خارج کردیا جائے؟“ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس دلیل کا کچھ تجزیہ کرلیاجائے۔

چنانچہ یہ سوال اٹھانے والے پہلے یہ بتا دیں کہ آیا یہ ریاست کے وجود ہونے کے قائل ہیں یا نہیں؟ اس کے دو جواب ہوسکتے ہیں، ہاں اور نہیں۔ ”ہاں“ کی صورت میں یہ واضح کر دیں کہ یہ ریاست کو افراد کے مجموعے سے کچھ الگ سمجھتے ہیں یا افراد کا مجموعہ؟ یعنی جب آپ کہتے ہیں کہ ریاست کا مذہب نہیں ہوتا تو یہ کہتے ہوئے آپ ریاست کے بارے میں کون سی بات درست سمجھتے ہیں: یہ کہ ریاست افراد کے مجموعے کا شارٹ ہینڈ فارم میں مختصر نام ہے یا وہ افراد کے مجموعے سے الگ اور مستقل حیثیت اور شخصیت رکھتی ہے؟ یہ دونوں الگ باتیں ہیں جن سے الگ قسم کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جن علماء کے خیال میں ریاست کے لیے مذہبی پوزیشن لینا جائز ہے، ان کے تصور کی رو سے تو ریاست (یا کارپوریشن) افراد ہی کے مجموعے کا نام ہے، نہ کہ ان سے علی الرغم کسی آزاد ہستی کا نام۔ تو جب ان کے نزدیک ریاست افراد کے مجموعے کا نام ہے تو اس کے بعد ریاست کے مذہبی ہونے کی پوزیشن بالکل باہم ہم آہنگ ہے، اس میں کوئی تضاد نہیں کہ اجزاء جیسے ہوں گے، ان کے مجموعے پر بھی وہی حکم لگے گا۔ اگر آپ بھی ریاست کے بارے میں اس مفروضے کو مانتے ہیں تو اس کے بعد آخر مسئلہ و بحث کس بات پر ہے؟

اگر آپ ریاست کی حیثیت سے متعلق اس مفروضے کو نہیں مانتے تو کھل کر بتائیں، تاکہ پھر اس دوسری پوزیشن پر وارد ہونے والے سوالات پیش کیے جائیں۔ خود آپ کی اپنی کتابوں میں یہ جو جملے لکھے ہوئے ہیں کہ ”ریاست یہ کرے وہ نہ کرے“ پھر اس کا ماخذ کیا ہے؟ مثلا جب آپ کہتے ہیں کہ ریاست مسلمان شہریوں سے نماز کا تقاضا کرسکتی ہے یا مثلا یہ کہ ریاست مساجد کو اپنے کنٹرول میں لے تو اس کا ”مخاطب“ (referent) کون ہے؟ کیا ”ریاست“ (افراد کے مجموعے سے علی الرغم وجود) بھی شرع کا مخاطب ہے کہ آپ نے اپنی کتابوں میں اس کے حقوق و فرائض متعین کر رکھے ہیں؟ پھر ذرا یہ بتائیے کہ افراد سے علی الرغم آپ نے جس ریاست کا تصور قائم کررکھا ہے وہ کسی ”پوزیشن“ کا نام ہے یا وہ کوئی ”خلا“ (void) ہے؟ اگر کوئی ریاست کو خلا محض سمجھتا ہے تو اسے جان لینا چاہیے کہ یہ ایک لامتصور تصور ہے جو اس نے فرض کرلیا ہے، ایسا تصور ناممکن ہے۔ کیا ”المورد“ نامی وجود کسی خلا کا نام ہے یا کسی مقصد کے حصول کا قانونی وجود (جسے کسی ”آئینی ادارے“ ہی میں لسٹ کروایا ہوا ہے)؟ ”غیر مقصدی قانونی وجود“ اپنی ذات میں متضاد بات یعنی contradiction in term ہے۔ اگر ریاست کوئی ”قانونی وجود“ ہے تو قانون تو نام ہی پوزیشن لینے کا ہے کیونکہ ہر قانون لازما کسی نہ کسی تصور خیر پر ہی مبنی ہوتا ہے۔ تو اس دوسری صورت میں بھی آپ کو لامحالہ ماننا ہوگا کہ ریاست کی کوئی نہ کوئی پوزیشن ہوتی ہے۔ تو اب بتائیے کہ افراد سے علی الرغم اس پوزیشن کا ماخذ کیا ہے؟ اور اگر ریاست کی ایسی کسی قانونی پوزیشن لینے کو آپ جائز سمجھتے ہیں (جو کہ ریاست کو ماننے کے بعد لازما ماننا پڑے گا) تو پھر وہی سوال پلٹ کر واپس آئے گا کہ آخر یہ ریاست وہ پوزیشن کیوں نہیں لے سکتی جو خدا کا قانون کہتا ہے؟ الغرض اگر ریاست نامی کسی وجود کو ماننا جائز ہے تو ہر دو صورت میں اس کا مذہبی پوزیشن لینا ایک ہم آہنگ بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فرد اور ریاست کا رشتہ - مجاہد حسین

اس سب مسئلے کا حل یہ ہے کہ آپ ریاست ہی کے وجود کا انکار کردیجیے اور کہیے کہ اسلام افراد سے علی الرغم کسی ہستی کا قائل نہیں، حکومت شخصی ہی ہوتی ہے۔ اس صورت میں پھر آپ کی توپوں کا اصل رخ علماء کی طرف نہیں بلکہ پاکستانی فوج کی طرف ہونا چاہیے جو اس ”پاکستانی ریاست“ اور ”اس ریاست کے آئین“ کی اصل محافظ ہے۔ چنانچہ آپ کا فرض منصبی ہے کہ اپنی اس پوزیشن کی رو سے پاکستانی ریاست کے ”وجود“ اور اس کے آئین کو علی الاعلان ناجائز بتائیں اور پاکستانی فوج اور ریاست کے تمام اداروں کو بھی ایک ناجائز وجود کی شاخیں کہیں۔ اس پوزیشن کی رو سے آپ پر لازم ہے کہ آئین کی صرف اسلامی شقوں کے اخراج کا نہیں بلکہ آئین پاکستان ہی کو پھاڑ کر پھینک ڈالنے کا منطقی تقاضا کریں کیونکہ آئین تو ریاست نامی کسی وجود کی پوزیشن ہے اور جس کے وجود کے اب آپ قائل ہی نہیں رہے۔ جب آپ ایک پوزیشن لیتے ہیں تو اسے اس کے مضمرات سمیت ماننا پڑتا ہے۔ علم کی دنیا میں من مانی نہیں چلتی۔

چنانچہ ریاست کی نوعیت سے متعلق ان بنیادی سوالات کی تنقیح کیے بغیر فورا ”ریاست کا مذہب نہیں ہوتا“ کا نتیجہ اخذ کرکے آئین کی اسلامی شقوں کے اخراج کا مطالبہ داغ دینا عندیہ دیتا ہے کہ اندرون خانہ مقصد ”کچھ اور“ ہے جس کے لیے اس بار سٹیج ”مذہبی زبان بولنے والوں“ کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے۔

بنیادی امور کے بارے میں قلت تدبر ہی وہ وجہ ہے جس کی بنا پر ایک ہی بیان میں متضاد مطالبے جمع کر دیے گئے ہیں۔ مثلا ایک طرف دعوی ہے کہ ”ریاست کو حق نہیں کہ کسی فرد کا مسلمان یا کافر ہونا طےکرے؟“ اور دوسری طرف ”اسی ریاست“ سے مطالبہ ہے کہ ”ریاست نظام صلوۃ کو اپنے قابو میں کرے“۔ تو جب ریاست امام و خطیب مقرر کرنے کا ذمہ نیز ان کے لیے خطاب لکھوانے کا ذمہ لے گی تو کیا اس کے لیے مطلوبہ ایمانیاتی تکییف قانونی طور پر لازم ہوگی یا نہیں؟ یعنی کیا ایسا کرنے سے قبل اسے یہ طے نہیں کرنا پڑے گا کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں، نیز کون سی بات اسلام ہے اور کون سی کفر؟ یا پھر یہ کہ جو کوئی بھی خود کو مسلمان کہے، بس اسے مسلمان مان کر امام مقرر کردے، چاہے خدا رسول اور کتاب کو گالیاں نکالتا پھرے، نیز خطیبوں کو لکھ کر دی جانے والی تقریر میں جو دل میں آئے لکھ کر دے دیا کرے؟

یہ بھی پڑھیں:   اللہ جی کا مہمان - عبدالباسط ذوالفقار

اب مزے کی بات یہ ہے کہ ایک دعوے میں کہا جارہا ہے کہ ”الف ریاست کا حق نہیں“، اور دوسرے دعوے میں کہا جارہا ہے کہ ”الف ریاست کا فرض ہے“۔ اب یہ دنیا کا عجیب و غریب فرض ہے جس کی ادائیگی کا حق ہی مکلف کو نہیں دیا جا رہا ہے! ایسا فرض جس کی ادائیگی کا حق نہ ہو، وہ تکلیف مالا یطاق ہوا کرتا ہے جناب! یعنی ایک ایسا فرض جس کی ادائیگی کی صلاحیت نہیں۔ سیکولرازم اور مذہب کی کچھڑی ایسی ہی پکتی ہے۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں