خورشید ندیم کا جمہوری بیانیہ، حقیقت کیا ہے؟ نوفل ربانی

سوال آپ کا حق ہے اور علماء اس کا جواب دینے کے پابند ہیں لیکن سوال کس حیثیت سے کیا جا رہا ہے؟
آپ قرآن و سنت کو من و عن تسلیم کرتے ہیں؟
آپ موجودہ علماء کے بھی علماء اور مقتداء فقہاء کے فہم قرآن بلکہ صحابہ کے فہم کو تسلیم کرتے ہیں؟
کیا آپ قرآن وسنت کو مکمل دین جس نے زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی اور نظم دیا، مانتے ہیں؟
کیا آپ دین کو ناقابل تبدیل مانتے ہیں؟؟
یا موجود ”جبر“ سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ضروری ترامیم اور تبدیلی تحریف کے قائل ہیں؟

اگر آپ مستفتی ہیں تو دارالافتاء تشریف لے جائیں، اگر آپ طالب علم ہیں تو درسگاہ کے دروازے کھٹکھٹائیں، لیکن صاحب! آپ تو فکر غامدی کے ”ماڈل“ ہیں جو حکم مغرب کی ریمپ پر قلم و قرطاس کی جولانیاں بلکہ عصمت کی نمائش کر رہے ہیں. جواب تو علماء دیں گے اور دے رہے ہیں، میں کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں.

ایک مکالمہ ہو رہا تھا آپ کی میزبانی میں، غامدی صاحب اور ایک مولوی تھے، اللہ بھلا کرے مفتی رشید احمد علوی صاحب، آپ نے اس کا دوسرا حصہ شیرگاؤ سمجھ کر پی لیا، وہ نشر نہیں کیا، تھوڑا وقت دیں، اس کی تفصیلات قوم کے سامنے لاؤں گا کہ جناب کتنے دیانتدار ہیں. خیر یہ تو ضمنی بات ہے، آتے ہیں اصل کی طرف÷
صاحب صاف سی بات ہے ”جہاد“ جی جہاد بمعنی قتال ہمارے روایتی مسلمانوں کا بیانیہ سابقہ و موجودہ ہے کیونکہ قرآن و سنت کا حکم اور فقہاء وصحابہ وجمہور امت کی تفہیم یہی ہے.
جی ہاں! ہمارا حق ہے کہ جس اللہ کی زمین پر رہتے ہیں، اسی اللہ کے احکام کے مطابق انفرادی و اجتماعی نظم خلافت کے تحت رہیں. تجربہ و تاریخ یہ بتاتی ہے کہ خلافت پر امن اور انسان دوست ہوتی ہے، جبکہ جمہوریت اپنی اصل میں پرتشدد اور انسان دشمن ہے. پوری تاریخ انسانی میں اتنے انسان قتل نہیں کیے گئے جتنے جمہوریت کے ایک عشرے میں یا ایک جنگ میں قتل ہوئے ہیں. پوری مسلم دنیا کو جمہوریت نے خون میں نہلایا ہوا ہے، ذرا آنکھیں کھولیے تو معلوم ہو.

انسانی ہلاکت کے لیے ہمہ جہتی تباہی پھیلانے والے ہتھیار، ایٹم بم، نت نئے طریقے اور مشینیں جمہوریت نے اس شرمگاہ و پیٹ کے پجاری انسان کے ہاتھ میں دیے ہیں کہ سرمایہ داری اور شہوت کے راستے میں جو بھی آئے، جیسا بھی آئے، جوان بوڑھا بچہ سب کو مٹادو. جمہوریت کے پروردہ صرف اپنے ایک ہی خوابوں میں بسنے والے ملک اور عالمی جمہوری تھانیدار امریکہ جہاں مثالی جمہوریت ہے، اس کی انسان دوستی دیکھیں کہ جمہوریت کتنا حسین تحفہ ہے.
صرف جنگ عظیم دوم میں آپ کے ممدوحین نے جو گل کھلائے، وہ یہ تھے
روس کے 1710 شہر اور قصبے، 70000 گاؤں اور 32000 کارخانے تباہ ہوئے۔ پولینڈ کے 600،000 ، یوگوسلاویہ کے 1700000 فرانس کے 600000 برطانیہ کے 375000، اور امریکا کے 405000 افراد کام آئے۔ تقریباً 6500000 جرمن موت کے گھاٹ اترے اور 1600000 کے قریب اٹلی اور جرمنی کے دوسرے حلیف ملکوں کے افراد مرے۔ جاپان کے 1900000 آدمی مارے گئے۔ جنگ کا سب سے ظالمانہ پہلو ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکا کا ایٹمی حملہ تھا۔
اس سے یاد آیا کہ وہ ویت نام کی جنگ میں ایک طرف کے گیارہ لاکھ فوجی اور دوسری طرف کے دوسری اتحادی سائیڈ کے 3 لاکھ فوجی اور 15 لاکھ عام شہری مارے گئے.
ارے دوسری سے پہلے تو پہلی جنگ عظیم ہوئی جس میں ایک کروڑ فوجیوں کے ساتھ دو کروڑ عام لوگ بھی قتل ہوئے.

یہ بھی پڑھیں:   سارے مسائل کا حل نظام خلافت میں ہی ہے -حبیب الرحمن

جمہوریت کے چیمپئین اور پوری دنیا میں آگ وبارود کے ساتھ جمہوریت کو بچانے اور ٹھونسنے والے ملک کی جنگی ہسٹری کچھ یوں ہے. اپنے قیام سے لیکر بیسویں صدی تک امریکہ کے اصل وارث باشندوں ریڈ انڈینز سے برسر پیکار رہے.
1812ء میں برطانیہ کے ساتھ جنگ لڑی،
1846ء میں میکسیکو کے ساتھ پنجہ آزمائی،
1898ء میں اسپین کے ساتھ سینگ اڑائے،
1917ء میں پہلی جنگ عظیم میں صاحب بہادر اترے،
1941ء میں دوسری جنگ عظیم میں لنگوٹ کس کر گھس گئے،
دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ نامی اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر ایک رکھیل نما ادارہ بنایا اور اس کی چھتری تلے 1950ء میں کوریا کے خلاف اور اس کے بعد 1960ء ویت نام کے خلاف جس کی تفصیل ماقبل میں گزر چکی. 1983ء میں گریناڈا کے خلاف زور آزمائی، 1989ء میں پانامہ پر نقب زنی، 1991ء میں عراق پر حملہ، 2001ء میں افغانستان پر حملہ اور 2003ء میں دوبارہ عراق پر کالے پنجے گاڑے جبکہ 2011ء میں لیبیا پر دست اندازی کی.

ٹارگٹڈ بمباری، کارپٹڈ بمباری، ڈرون حملے، ایٹم بم، ہائیڈروجن بم، میزائیل ٹیکنالوجی، ڈیتھ سکواڈ، انٹیلی جینس ایجنسیوں کی بھرمار، بھوک افلاس، کروڑوں انسانوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنا، ہجرت پر مجبور کرنا، بچوں پر غذائی پابندیاں لگانا، عورتوں کا بےدریغ قتل عام، ادویات نہ پہنچنے دینا، مختلف مہلک گیسیں بنانا اور ان سے لوہے تک کو پگھلانا، اس گیس کو انسانوں پر پھینکنا، بازاروں، مجمعوں، مسجدوں، عبادت خانوں، سکولوں پر بمباری کرنا، نسلوں کی نسلوں کو اپاہج بنانا، سات سات نسلوں کا بیمار پیدا ہونا، ہڈیاں گلا دینے والی آگ، بھسم کردینے والے بارود، اتنی ظالم تہذیب ہے آپ کی جمہوریت کی کہ سکول کی بچیوں کو مانع حمل ادویات کھلائی جاتی ہیں، اور انسانوں کو ماؤں کے پیٹ میں ہی مارنے کے بھی ہتھیار مارکیٹ میں لائے گئے ہیں اور اس کی تشہیر پر اربوں کا سرمایہ لگایا جا رہا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   سارے مسائل کا حل نظام خلافت میں ہی ہے -حبیب الرحمن

اوپر کے سوالات تو آپ کی حیثت جاننے کے لیے ہیں، اب ایک سوال آپ کے بیانیے کے تار پود کی حقیقت جاننے کے لیے،
جہاد، قتال، خلافت، اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام، تنفیذ شریعت، نظم حکومت کا اسلامی ہونا، ان تمام تر اصطلاحات کے ساتھ سورہ توبہ و انفال و محمد و دیگر مقامات آیات جہاد اور حدیث میں27 غزوات اور پھر صحابہ کی جنگوں کی تاریخ، سلاطین و خلفاء کی جنگوں اور فقہاء کی کتاب الجہاد و کتاب السیر کی تدریس کے ساتھ تو اول اسلام سے لے کر آج تک علمی دانش گاہیں لبریز تھیں، تو کیا وجہ ہے کہ آج سے بیس سال قبل کوئی دہشت گردی نہیں تھی، کوئی بدامنی نہیں تھی، پاکستان میں کہیں بم دھماکے نہیں ہوتے تھے، دشمنی پر قتل تو تھے مگر دہشت گردی نہیں تھی. 70000 ہزار تو صرف پاکستانی فوجی، پولیس، عوام، جرنیل شہید ہوئے، اس سے پہلے مگر یہ سب کیوں نہ تھا؟

ارے یاد آیا بیس سال قبل تو اپنے غامدی صاحب بھی مجاہد تھے، وہ جنرل ضیاء الحق کی شان میں ان کا قصیدہ یاد ہے، جہاد افغانستان کی برکتیں گنوانا، اور وہ فارسی کا شعر جس میں ضیاء الحق کو اسلامی نظام کے نفاذ کے ترکش کا آخری تیر قرار دیا تھا. پوری امت حتی کہ غامدی صاحب کا بھی بیانیہ جہادی تھا، مگر اس وقت یہ دہشت گردی کیوں نہیں تھی؟

ایک ضمنی سوال یہ بھی ایڈ کرلیں
آپ کے ممدوح جمہوریت کے سانڈ معصوم لوگوں پر لاکھوں ٹن بارود برساتے ہیں، دہشت گردوں کے بہانے معصوم لوگوں کی زندگی کے چراغ گل کرتے ہیں، اس کے مقابلے میں مزاحمت کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے، تو آپ فلسطین سے افغانستان تک مظلوم کو ہی ذمہ دار ٹھرا تے ہیں اور متبادل بیانیہ لانے کی باتیں کرتے ہیں. کیا یہ انصاف ہے؟
جواب آپ پر چھوڑتا ہوں.