جاگتے معاشروں میں کسٹمرز کی طاقت - ابن حجر

امریکہ کی ایک بہت بڑی کمپنی یونائیٹڈ ایئرلائنز نے اپنی ایک فلائٹ پر گنجائش سے زیادہ بکنگ ہونے کی وجہ سے ایک مسافر کو جہاز سے اترنے کو کہا، لیکن اس مسافر نے یہ کہہ کر جہاز سے اترنے سے انکار کر دیا کہ وہ ڈاکٹر ہے اور اس نے مریض دیکھنے پہنچنا ہے، اس لیے وہ ہرصورت اسی فلائٹ میں جائے گا. ائیر لائن کے سٹاف کے اصرار کے باوجود اس مسافر کی ضد بہت بڑھ گئی تو سٹاف نے پولیس کو بلا کر اس شخص کو گھسیٹ کر فلائٹ سے نکالا، جس کے نتیجے میں اس کو چوٹ بھی لگ گئی.

بس پھر کیا تھا؟ اس شخص کو گھسیٹنے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر آنے کی دیر تھی کہ لوگوں نے سوشل میڈیا و دیگر فورمز پر یونائیٹڈ ائیرلائنز کے بائیکاٹ کے عزم کا اظہار کرنا شروع کر دیا، اس کے نتیجے میں دو دن کے اندر اندر ائیرلائنز کی مارکیٹ ویلیو ایک ارب ڈالرز نیچے چلی گئی. جی ہاں! ایک مسافر کے ساتھ بدتمیزی اس ائیر لائن کو ایک ارب ڈالر میں پڑی، جس کے نتیجے میں اس ائیرلائن کا سربراہ اب اس مسافر کی اپنی غلطی کے باوجود بھی اس سے کیے جانے والے سلوک پر اس مسافر اور اپنے دیگر کسٹمرز سے معافیاں مانگتا پھر رہا ہے.

یہ ہے جیتے جاگتے معاشروں میں کسٹمرز کی طاقت، کہ بڑی سے بڑی کارپوریشن بھی ان کے آگے گھٹنے ٹیک دیتی ہے اور اپنے منافع اور ساکھ کو بچانے کی خاطر ہر طرح کی تلافی کرنے کو تیار ہو جاتی ہے.

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کوئی بھی کمپنی اپنے کسٹمرز کے ساتھ برا سلوک کرے، ناجائز منافع خوری کرے یا معاشرتی اقدار کو پامال کر کے رکھ دے، ان کے کسٹمرز کے نشئی ضمیروں پر جوں تک نہیں رینگتی. اس کی کچھ مثالوں میں شامل ہیں اینگرو فوڈز کی طرف سے ترنگ دودھ کے اشتہارات اور ٹیلی نار کی طرف سے ٹاک شاک پیکج کے اشتہارات

یہ بھی پڑھیں:   پراسرار طاقتوں کا مسکن، پاکستان - ریحان اصغر سید

چائے کے لیے ”خاص“ دودھ ترنگ میں taste enhancers یعنی ”خاص کیمیکلز“ ملا کر بیچنے پر کسی حکومتی ایجنسی یا کسٹمر کی طرف سے اف تک نہ کی گئی، یہ بات تو رہی ایک طرف، لیکن ترنگ دودھ کو بیچنے کے لیے جس طرح مرد و زن کو اسٹیج پر بلا کر اکٹھے نچایا گیا، اس پر ہماری ”زندہ قوم“ کے کسٹمرز ٹس سے مس نہ ہوئے، اور زبان کے مزے کے لیے بےحس کسٹمرز کی رالیں بہتی رہیں، اپنی اقدار کا جنازہ نکلتا دیکھ کر انہوں نے اپنی کامن سینس استعمال کرتے ہوئے اپنی صحت کےلیے اس انتہائی مضر کیمیکلز کے خلاف کوئی احتجاجی مہم چلائی نہ اس بیہودہ کمرشل کی وجہ سے اس کمپنی کا بائیکاٹ کیا. (یاد رہے کہ یہ اینگرو فوڈز وہی ہے جس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اس وقت اسد عمر تھے جو آج کل تحریک انصاف سے وابستہ ہیں)

دوسری طرف ٹیلی نار کے کمرشلز کا بھی یہی حال تھا، اور ان کے کمرشلز میں بھی وہ مخلوطی اودھم مچتا تھا کہ ہمارے ملک میں ناچنے والے خواجہ سراء اور میراثی بھی ہکے بکے رہ گئے اور سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ اتنی بیہودگی کا خیال تو ان کے دل میں بھی نہیں آیا تھا.

اس تحریر میں قارئین کے لیے ایک سبق ہے، کہ مادر پدر آزاد کاپوریشنز کا خدا ان کو حاصل ہونے والا منافع ہوتا ہے، اس لیے ان کاپوریشنز کو سیدھے راستے پر لانے کے لیے کسٹمرز کی پاور استعمال کرنا بےحد ضروری ہے، اور یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ہم میں سے ہر کوئی اپنی انفرادی حیثیت میں ایسی بد اخلاق کمپنی کے خلاف آواز بلند کرے اور اس کمپنی کا بائیکاٹ کرے، اس کا اجتماعی اثر بہت گہرا ہوگا اور کمپنی جلد ہی اپنا قبلہ درست کرنے پر مجبور ہو جائے گی، کیونکہ افراد کے انفرادی عمل سے ہی اجتماعی تبدیلی آتی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے قطرہ قطرہ سے دریا بنتا ہے جو اپنے ساتھ سب خس و خاشاک بہا کر لے جاتا ہے ، اور یہ تو آپ کو پتا ہی ہے کہ خس کم جہاں پاک!

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!