کارکردگی اور انتخابات - رعایت اللہ فاروقی

2013ء میں برسرِ اقتدار آنے والی وفاقی و صوبائی حکومتیں اپنے چوتھے سال کے اختتامی مراحل میں ہیں اور آنے والا سال الیکشن کا سال ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے آخری سال اس پیشنگوئی کے لیے زائچوں کی ضرورت تھی اور نہ ہی نجومیوں کی کہ آنے والے الیکشن کے نتائج کیا ہوں گے اور حکومت کون بنائے گا؟ جو ظاہر ہونے جا رہا تھا، اس کی پیشنگوئی تو اس سال ووٹر، ووٹر کی زبان پر تھی کیونکہ ملکی تاریخ کی سب سے کرپٹ اور غیر مقبول حکومت اپنے اقتدار کے آخری سال سے گزر رہی تھی، اور عین انہی ایام میں پنجاب میں ایک ایسی صوبائی حکومت اقتدار میں تھی جس کے ترقیاتی کاموں کے ہر طرف چرچے تھے۔ یوں 2013ء کا الیکشن اس لحاظ سے ایک منفرد الیکشن کے طور پر آیا کہ پہلی بار کم از کم پنجاب میں ووٹر نے کار کردگی کی بنیاد پر ووٹ دیا۔ آج پھر ایک حکومت اپنے آخری سال میں داخل ہونے والی ہے لیکن ملکی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ اپوزیشن کی دونوں جماعتوں کے قائدین ہی اگلے الیکشن کے نتائج سے مایوس ہیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ اگلی اسمبلی میں وہ ایم این اے کی حیثیت سے ہوں لیکن وزیر اعظم وہ بنائیں گے۔ جس کا مطلب ہے کہ وہ ایک ایسی مخلوط حکومت میں اپنی بارگیننگ پوزیشن کی توقع کر رہے ہیں جس کا وزیر اعظم ان کے ووٹ سے تو ہوگا لیکن ان کی پارٹی کا نہیں ہوگا۔ اگر وہ اپنی پارٹی کی حکومت کا خواب دیکھ رہے ہوتے تو خود ایم این اے ہی رہنے کی بات کیوں کر رہے ہوتے؟ دوسری طرف 2014ء کے دھرنے میں اپنے کارکنوں کو ’’عنقریب‘‘ وزیر اعظم بننے کی نویدیں دینے والے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان لیگی حکومت کے چوتھے سال کے اختتامی مراحل میں فرما رہے ہیں کہ ’’آئندہ حکومت کون بنائے گا، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے‘‘ سوال یہ ہے کہ ایسا کیا ہوا کہ 2014ء میں اپنے وزیر اعظم بننے کا یقین محکم رکھنے والے عمران خان آج اگلے الیکشن سے ایک سال قبل نہیں جانتے کہ آئندہ حکومت کون بنائے گا اور اقتدار کے حصول کے لیے بھٹو کو مستقل زندہ رکھنے والے آصف زرداری اگلی اسمبلی میں اپنے صرف ایم این اے ہونے کے حوالے سے ہی کیوں پر یقین ہیں ؟

اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ دونوں قائدین راہ سلوک اختیار کر چکے جس کے سفر کے دوران تزکیہ نفس کے مراحل سے گزرنے کے نتیجے میں ان کے دل سے اقتدار کی رغبت اٹھ گئی ہے تو اس خیال کو شرمندگی کا باعث بننے سے قبل ہی جھٹک دیجیے۔ جب صوبے میں اقتدار کے چوتھے سال پیپلز پارٹی حکومت کی صورتحال یہ ہو کہ اس کی ساری محنت کا محور ایک دیانتدار آئی جی کو ہٹانے کی منصوبہ بندی ہو اور اسی چوتھے سال تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا اہم ترین کار نامہ گدھوں کی ایکسپورٹ کا معاہدہ ہو تو پھر آنے والے انتخابات سے امیدیں باندھنے کا جواز ہی باقی نہیں رہتا۔ وفاقی حکومت کی کار کردگی سے ان دونوں صوبائی حکومتوں کی کار کردگی کا تقابل تو ہم بھی روا نہیں سمجھتے جبکہ پنجاب کی صوبائی حکومت کی کار کردگی سے تقابل وہ آئینہ ہے جس کا سامنا اب آنے والے سال کے دوران ان دونوں جماعتوں کو بار بار ہوگا۔ اور یہ سامنا انہیں بہت تلخ تجربات سے دوچار کرے گا کیونکہ جس سال شہباز شریف راولپنڈی میں میٹرو پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے، اس سال پرویز خٹک شرکائے دھرنا کو اپنے ڈانس سے محظوظ کرنے میں مصروف تھے، جبکہ قائم علی شاہ کے خراٹوں سے سندھ اسمبلی گونج رہی تھی۔ جس سال شہباز شریف پنجاب کے لیے ترک اور چائنیز کمپنیوں سے بڑے معاہدے کر کے شہروں کی صفائی، بجلی اور اورینج لائن ٹرین کے منصوبے بنا رہے تھے، اس سال عمران خان نکاح اور طلاق جیسے مسائل میں الجھ کر ’’کبھی خوشی، کبھی غم‘‘ جیسی نجی کیفیت سے گزر رہے تھے، جبکہ آصف علی زرداری پارٹی پر بلاول کے مکمل قبضے کی کوشش ناکام کرنے میں مشغول تھے۔ جس سال شہباز شریف ملتان میٹرو بس پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے، اس سال سندھ حکومت سندھ ہائی کورٹ کے ججوں کے اس سوال کا سامنا کر رہی تھی کہ اگر لاڑکانہ میں اربوں روپے خرچ ہوئے ہیں تو لاڑکانہ کی زمین پر ایسی کوئی چیز نظر کیوں نہیں آتی جس پر اربوں روپے خرچ ہوئے ہوں؟ جبکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو اس سال سی پیک کو متنازع بنانے کی جدوجہد سے ہی فرصت نہ تھی۔ جس سال شہباز شریف پنجاب میں پینے کے صاف پانی جیسے اہم منصوبے پر کام کر رہے ہیں، اس سال پرویز خٹک کو اپنے قائد کی طرح پناما لیکس سے ہی فرصت نہ تھی جبکہ اسی سال سندھ میں پی پی پی قیادت وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے ذریعے عوام کو اپنی سنجیدگی کا یقین دلانے کی ناکام کوششوں میں مصروف تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر! اگلا لائحہ عمل کیا ہے؟ علی حسنین نقوی

پیپلز پارٹی کی موجودہ صوبائی حکومت کی کار کردگی صفر ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے سوا ان کی کون سی حکومت نے کارکردگی دکھائی ہے جو موجودہ صوبائی حکومت نے نہیں دکھائی؟ لیکن پی ٹی آئی تو تبدیلی جیسے بلند بانگ نعرے کے ساتھ حکومت میں آئی تھی، اس کی کار کردگی کا یہ عالم ہے کہ کل چار شعبوں میں عمران خان کار کردگی کے دعوے کرتے ہیں، اور ان دعووں کی حقیقت یہ ہے کہ جب عمران خان کہتے ہیں کہ ہماری صوبائی حکومت نے تعلیم کے شعبے میں بہت کام کیا ہے تو اسی لمحے یو ای ٹی کوہاٹ کیمپس کے طلبہ کا احتجاجی شور سنائی دیتا ہے، جن کا کہنا ہے کہ ان کی یونیورسٹی کی گزشتہ پانچ سال سے رجسٹریشن نہیں ہو رہی، کیونکہ اس یونیورسٹی میں وہ درکار سہولتیں موجود نہیں جو رجسٹریشن کی شرائط پوری کرنے کے لیے لازم ہیں۔ جب خان صاحب کہتے ہیں کہ ہم نے صحت کے شعبے میں بہت مثالی کار کردگی پیش کی ہے تو ’’تور غر‘‘ نامی ضلع سے آواز آتی ہے کہ اس پورے ضلع میں ایک بھی ہسپتال نہیں ہے۔ جب خان صاحب فرماتے ہیں کہ ہم نے زبردست پولیس اصلاحات کی ہیں تو مانسہرہ میں واقع ہزارہ یونیورسٹی میں بدترین پولیس تشدد کا واقعہ سامنے آجاتا ہے جس میں ایک موت بھی ہو جاتی ہے۔ جب خان صاحب فرماتے ہیں کہ ہم نے صوبے میں دو سال کے دوران 80 کروڑ درخت لگائے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یومیہ دس لاکھ درخت لگے، صوبے میں اتنی بڑی سرگرمی ہوئی اور پورے صوبے میں کسی بھی رپورٹر کو نظر نہ آئی، کیوں؟ تعلیم، صحت، پولیس اصلاحات اور 80 کروڑ درخت لگانے جیسی خدمات وہ حکومت انجام دے سکتی ہے جو ڈیلیور کرنے پر یقین رکھتی ہو، پی ٹی آئی اور اس کی حکومت کو تو پچھلے چار سال کے دوران احتجاج اور دھرنے سے ہی فرصت نہ تھی۔ خان صاحب اپنے چار سالہ احتجاج کے دوران اس جانب توجہ ہی نہ دے سکے کہ مسلم لیگ نے پوری مہارت کے ساتھ یہ حکمت عملی اختیار کیے رکھی کہ خان صاحب سے نمٹنے کے لیے اپنی صف دوم کے بھی چند رہنماء سامنے رکھے جبکہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف، احسن اقبال، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق اور شاہد خاقان عباسی جیسے اہم وفاقی وزراء کی توجہ ڈیلیور کرنے پر مرکوز رکھوائی، اور ان میں سے صرف خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق ہی خاص خاص مواقع پر عمران خان کو جواب دینے کے لئے سامنے آتے اور دوچار باؤنسر کرا کر واپس اپنے وزارتی کام کی طرف متوجہ ہوجاتے، جس کا نتیجہ یہ ہے مسلم لیگ کے پاس وفاق اور پنجاب دونوں جگہ بطور کار کردگی پیش کرنے کے لیے آج بہت کچھ ہے۔ سی پیک، کراچی کا امن، ٹی ٹی پی کو لگام دینا، میگا پروجیکٹس اور معیشت کی ایسی بہتری جس کی گواہی دنیا بھر کے اہم معاشی ادارے دے رہے ہیں، ایسی ٹھوس چیزیں جو عمران خان کے 80 کروڑ درختوں کی طرح کسی نامعلوم سیارے پر نہیں بلکہ پاکستان کی سر زمین پر نظر آ رہی ہیں۔ اس پس منظر میں آصف علی زرداری یہی کہہ سکتے ہیں کہ اگلی اسمبلی میں میری حیثیت ایم این اے کی ہوگی اور عمران خان صاحب یہ نہ کہیں کہ ’’ آئندہ حکومت کون بنائے گا یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے‘‘ تو کیا کہیں؟؟؟

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.