کانوں کے کچے - عامر ملک

آپ نے یہ محاورہ ضرور سنا ہوگا کہ فلاں شخص ”کانوں کا کچا“ ہے۔ کبھی غور کیا کہ کانوں کے کچے لوگوں سے کہاں واسطہ پڑتا ہے؟ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کے بہت قریب ایسے لوگ ہوں اور خدانخواستہ آپ کے گھر میں بھی ہوں۔ بہت قریبی رشتوں میں بھی آپ کو یہ کمزوری نظر آئے گی۔کسی سے بھی غلط طور پر کوئی بات منسوب ہو، لمحوں میں اُس پر یقین کرلیا جاتا ہے۔ دفتر میں بھی ”پر کا کوّا“ بننے میں دیر نہیں لگتی۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مجمع میں بس ایک آواز اٹھ جائے تو پھر سانحہ سیالکوٹ رونما ہونے میں وقت نہیں لگتا۔ چور کی سزا تو صرف ہاتھ کاٹنا ہے لیکن لوگ اسے جلا کر اپنے تئیں خوب انصاف کرتے ہیں۔

المیہ یہ ہےکہ آج بھائی بھائی سے بدگمان ہے۔ ایک گھر میں، ایک چھت کے نیچے رہتے ہوئے، ایک دوسرے کی فطرت سے آشنا اور مزاج سے شناسا ہونے کے باوجودکوئی نہ کوئی بدگمانی دلوں میں موجود ہے اور تصدیق نہ کرنے کی قبیح عادت بھی ہے۔ حالانکہ ہمارے لیے قرآن مجید میں براہ راست حکم ہے اچھا گمان رکھنے کے لیے۔ ہمیں انصاف اور عدل کا حکم دیا گیا ہے اور انصاف یہ ہے کہ تصدیق کا اعلا ترین معیار اپنایا جائے گا، چاہے واقعہ چھوٹا ہو یا برا۔ یہ رویہ ایک گھر سے لے کر پورے سماج تک میں بالکل یکساں ہوگا اور کسی خرابی کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے محرک کا اندازہ غیر جذباتی ہوکر بالکل ٹھیک ٹھیک لگایا جائے۔

اجتماعی رویے دہائیوں میں خراب ہوتے ہیں، اس لیے انہیں ٹھیک ہونے میں وقت بھی لگتا ہے لیکن وہ بھی تب لگے گا جب اسے ٹھیک کرنے کی کوششوں کا آغاز ہوگا۔ لیکن جس شدت سے بدگمانی ہمارا قومی مزاج بن گئی ہے، یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا عامۃ الناس خود اپنی یہ عادت بدل سکیں گے؟ اسے ٹھیک تو ریاست ہی کو کرنا ہوگا لیکن اس کو بھی سب سے پہلے اپنے دوہرے معیار چھوڑنا ہوں گے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا جو ویسے بھی ایک ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

یہ دوہرا معیار کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ ریاست کسی بھی جرم میں اثر ورسوخ والے کو چھوڑ دے اور کمزور کو پکڑ لے ۔ بیرونی دباؤ کی وجہ سے انصاف نہ کرے، شاتم کو بھگادے اور اسے مارنے والے کو لٹکادے۔ ملک کا آئین اسلامی ہونے کا دعویٰ ہو لیکن علانیہ سود کا مطلب بدل کر اسے ضروری قرار دے۔ یہ دوہرا معیار ہی ہر سطح پر ٹکراؤ اور تصادم کی فضا کو جنم دے گا۔

اس ماحول میں ایک طرف خود کو سیکولرز اور لبرلز کہلوانے والے ہیں جن کا مذہب بظاہر تو انسانیت ہے لیکن ان کا طریقہ واردات ملاحظہ کیجیے۔ یہ اپنے پیچھے چلنے والے کچے ذہنوں پر ایسے اثر انداز ہوتے ہیں کہ بندہ ہر حد سے گزرنے لگتا ہے اور علانیہ اپنے خیالات کا اظہار کرکے بڑھتے بڑھتے گستاخی کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔ خود یہ حضرات، اور خواتین، چھوٹی چھوٹی شرلیوں تک محدود رہتے ہیں اور اپنی گردن بچاتے ہوئے اسے پھندا متاثرین کی گردن میں فٹ کروا کر دم لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ بندہ بچانا چاہتے تو اسے گستاخی کا موقع ہی نہ دیتے۔ ان کا تو مقصد ہی اس صورت میں پورا ہوتا ہے جب کوئی اشتعال میں آ کر بندہ مار دے۔ تب انہیں دھول اڑانے اور دین کے خلاف بات کرنے کا موقع ملے اور یہی ان کا مطلوب و مقصود ہے۔ یہ دوہرا معیار تب کھلتا ہے جب کوئی ایاز نظامی جیسا قانون کی گرفت میں آ جائے تو پھر قانون کے مطابق تحقیق کرنے دیتے ہیں اور نہ ہی سزا ہونے دیتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار ٹکراؤ کی فضا تو بنائے گا ہی۔

کچھ عرصے پہلے تک لوگوں کا خیال ہوگا کہ توہین رسالت ﷺ پر جذباتی ہونے اور شاتم کو سزا دینے والوں کا تعلق اسلام پسندوں، مدارس کے طلبا اور کسی خاص مسلک سے ہوتا ہے۔مگر ایسا ہے نہیں۔ عامر چیمہ ایک عام نوجوان تھا، کلین شیو، ممتاز قادری کا تعلق قانون نافذ کرنے والے ادارے سے تھا، اور وہ بھی پرامن بریلوی مسلک سے تھا۔ اب مردان یونیورسٹی میں بھی مدارس کے طلبہ نہیں تھے، عام لوگ بھی نہیں تھے بلکہ باچاخان کے "نظریہ عدم تشدد" کے پیرو اور مختلف مسالک کے لوگ تھے۔

اگر اب بھی ریاست دوہرا معیار نہیں چھوڑتی، اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتی تو خدانخواستہ ٹکراؤ کی اس فضا میں اور شدت آئے گی اور لبرلز اور سیکولرز کو یہی نتائج درکار ہیں۔ اس ٹکراؤ کی نشاندہی خود اعلیٰ عدلیہ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی بھی کر رہے ہیں۔ اب ریاست اپنی ذمہ داری ادا کرتی ہے تو اسکول، کالج اور مدارس و علما کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔ نئی نسل کی تربیت کرنا ہوگی، اچھا گمان اور تصدیق کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ رواداری سکھانی ہوگی۔ یہ بھی سکھانا ہوگا کہ اچھے رویے اور اخلاق سے کیسے دل جیتا جاتا ہے، کیسے دلوں کو موم کیا جاتا ہے۔ فرد ہو یا سماج یا پھر ہجوم، ان سب کی اکائی فرد ہی ہے۔ فرد کو تبدیل کریں آپ کو سماج بدلا ہوا محسوس ہوگا۔