اسلام اور ریاست؛ ایک جوابی بیانیہ، اہل علم کی نظر میں - محمد ایاز

جناب جاوید احمد غامدی صاحب لکھتے ہیں: ”نہ خلافت کوئی دینی اصطلاح ہے اور نہ عالمی سطح پر اس کا قیام اسلام کا کوئی حکم ہے۔“ اس اصطلاح کے قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ مذکور ہونے اور فقہاء و ماہرین فن کے ہاں اس کے معنی پر اتفاق کے باوجود جناب جاوید احمد غامدی صاحب کو اطمینان نہیں ہے۔ وہ اس معاملے میں چودہ سو سالہ اجماعی تعامل اور جمہور اہل علم کے موقف کو ردّ کرتے ہوئے اس کے اپنے معنی لیتے ہیں جو اسلام کی روح کے خلاف ہے یا دوسرے لفظوں میں وہ دین حق جو دوسرے ادیان پر غالب ہونے کے لیے آیا ہے، غامدی صاحب کی نظر میں اس کا غلبہ کوئی لازم نہیں ہے۔
ھُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَہ بِالْھدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْھرَہ عَلَى الدِّينِ کلِّہ وَلَوْ کرِہ الْمُشْرِکونَ (سورۃ الصف: آیت نمبر 9)
اس آیت میں اللہ رب العزت نے اپنے نبی ﷺ کے اوپر ایک ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ اس دین کو دوسرے ادیان پر غالب کریں، نبی کریم ﷺ کے رحلت فرمانے کے بعد اب یہ ذمہ داری امت مسلمہ کے ذمہ ہے مگر غامدی صاحب امت کو اس ذمہ داری سے سبکدوش کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ حالانکہ وہ خود اس موقف کے قائل رہے ہیں. اگست 1986ء کے اشراق میں لکھتے ہیں:
”ہمارا مقدمہ یہ ہے کہ ہم چونکہ مسلمان ہیں اور ہمیں اس ملک میں اللہ کی عنآیت سے سیاسی خود مختاری حاصل ہے اور چونکہ یہ دین کا قطعی حکم ہے کہ مسلمان اگر کسی سرزمین میں سیاسی طور پر خود مختار ہوں تو وہ وہاں اسلامی قانون نافذ کریں اور اپنی حیاتِ اجتماعی کے ہر شعبہ پر احکام دین کو بالا تر رکھیں، اس لیے یہاں اللہ کا دین نافذ ہونا چاہیے۔ اس ملک کے اربابِ اقتدار اور سیاسی زعماء سے ہمارے مطالبے کی بنیاد یہ ہے۔

ہمارے اس مطالبے کے جواب میں ہمارے مخاطبین کے سامنے صرف تین راستے رہ جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے مسلمان ہونے کا انکار کر دیں۔ دوسرا یہ کہ وہ قرآن وسنت کے دلائل کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ اسلام ان سے اس بات کا تقاضا نہیں کرتا۔ تیسرا یہ کہ وہ عملاً اس تقاضے کو پورا کرنے سے گریز کرتے رہیں۔

پہلی صورت میں ان کی قیادت و سیادت ان شاء اللہ لمحوں میں ختم ہو جائے گی۔ دوسری صورت میں ان کی ہزیمت اور بےبسی کا تماشا، اگر اللہ نے چاہا تو زمین و آسمان دیکھیں گے۔ تیسری صورت میں ہم انہیں بتائیں گے وہ اس طرح درحقیقت کفر کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ ان کا اسلام قیامت میں قبول نہ کیا جائے گا۔ وہ اپنے آپ کو اس آگ سے بچانے کی کوشش کریں جو دلوں تک پہنچے گی اور جس میں مجرم ستونوں کے ساتھ بندھے ہوں گے، وہاں ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ وہ اس سے نکلنا چاہیں گے لیکن اس کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔ وہ اس دن سے ڈریں جس دن گریز کے سب راستے بند اور فرار کی سب راہیں مسدود ہو جائیں گی اور قرآن اپنی اس حجت کے ساتھ ان کے سامنے آئے گا کہ: وَمَنْ لَمْ يَحْکمْ بِمَا انْزَلَ اللَّہ فَاولَئِک ھمُ الْکافِرُونَ، اور جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں، وہی کافر ہیں۔ (اشراق، اگست 1986ء ص 6- 8)“

ذیل میں مذکورہ نکتے پر اہل علم کا موقف قارئین کے پیش نظر ہے۔

مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اسی نکتے پر لکھتے ہیں:
”قرآن کريم نے سورۂ بقرہ آيت نمبر 30 ميں حضرت آدم عليہ السلام کے تذکرے ميں ارشاد فرمايا ہے: ميں زمين ميں ايک خليفہ بنانے والا ہوں، اورسورۂ ص آيت نمبر 26 ميں حضرت داؤد عليہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمايا ہے کہ: ہم نے تمہيں زمين ميں خليفہ بنايا ہے. نیز سورۂ نور آيت نمبر 55 ميں ارشاد فرمايا ہے: تم ميں سے جو لوگ ايمان لائے ہيں اور جنہوں نے نيک عمل کیے ہيں، اُن سے اللہ نے وعدہ کيا ہے کہ وہ انہيں ضرور زمين ميں خلافت عطا فرمائے گا، جس طرح اُس نے پہلے لوگوں کو خلافت عطا فرمائى تھى اور اُن کے لیے اُس دين کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے اُن کے لیے پسند کيا ہے اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اُس کے بدلے اُنہيں ضرور امن عطا فرمائے گا۔ وہ ميرى عبادت کريں، ميرے ساتھ کسى چيز کو شريک نہ ٹھہرائيں۔ اس کے علاوہ متعدد احاديث ہيں جن ميں اسلامى رياست کے امير کو خليفہ کہا گيا ہے اور اس کى حکومت کو خلافت سے تعبير فرمايا گيا ہے۔ قرآن و حدیث کے ان ارشادات کی بناء پر اسلامی لٹریچر اس اصطلاح سے بھرا ہوا ہے۔ فلسفۂ تاريخ کے عبقرى عالم ابن خلدون رحمۃ اللہ عليہ ”خلافت)“ کى تعريف کرتے ہوئے فرماتے ہيں: لوگوں کو شرعى طرز فکر کے مطابق چلانا جس سے ان کی آخرت کى مصلحتیں بھى پورى ہوں اور وہ دنيوى مصلحت بھى جن کا نتيجہ آخرکار آخرت ہى کى بہترى ہوتا ہے(مقدمہ ابن خلدون: باب 3 فصل 25 ص 189) قرآن وحديث کے ان ارشادات اور چودہ سو سال سے اس اصطلاح کے معروف و مشہور بلکہ متواتر ہونے کے باوجود يہ فرمانا کہ خلافت کوئى دينى اصطلاح نہيں ہے، اس پر تبصرے کے لیے ميرے پاس مناسب الفاظ نہيں ہيں۔ (روزنامہ جنگ: 27 جنوری 2015ء))“

مفتی منیب الرحمٰن صاحب مذکورہ نکتے کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
”اُس کا جواب یہ ہے کہ اپنے دائرۂ اختیار و اقتدار میں تو قرآن نے مسلمانوں کی یہ ذمہ داری قرار دی ہے: اور جو اللہ کے دین کی مدد کرتا ہے، اللہ ضرور اُس کی مدد فرماتا ہے، بے شک اللہ ضرور قوت والا بہت غلبے والا ہے، اگر ہم ان لوگوں کو زمین میں اقتدار عطا فرمائیں، تو (اُن پر لازم ہے کہ) وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے (الحج: 41)۔ البتہ قرآنِ مجید نے امتِ مسلمہ کو ”خَیْرُ الاُمَمِ“ اور ”اُمَتِ وَسَط“ قرار دیا ہے، اور اُن کی ذمہ داری قرار دی ہے کہ وہ نیکی کو پھیلائیں، اور برائی کو روکیں۔ لیکن یہ دعوت قرآنِ مجید کے اسلوبِ دعوت کے مطابق ہونی چاہیے، اس کے لیے مسلح جدوجہد کرنے یا داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی طرح لوگوں کی گردنیں کاٹنے یا زمین پر فساد برپا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، اور ہم سب اس سے براءت کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ریاستی طاقت سے اِن کا قَلع قَمع کرے اور انسانیت کو اِن کے فساد سے نجات دلائے۔ نظریاتی اعتبار سے خلافت کی بات کرنا نہ معیوب ہے اور نہ ممنوع، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: بنی اسرائیل کے امورِ سیاست انبیائے کرام انجام دیتے تھے، جب ایک نبی کا وصال ہوجاتا، تو دوسرا نبی اُس کی جگہ لے لیتا، مگر اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، سو میرے بعد خلفاء ہوں گے (صحیح مسلم:1842)۔ اگر جمہوری اور پُرامن طریقے سے کوئی کمیونزم یا سوشلزم یا لبرل ازم یا سرمایہ دارانہ نظام کی بات کرے، تو اس پر کسی کو نہ اعتراض ہوتا ہے اور نہ ہی اسے معیوب سمجھا جاتا ہے، لیکن اِسی شِعار پر اگر کوئی نفاذِ اسلام یا نفاذِ شریعت کی بات کرے، تو اسے ہدفِ ملامت بنایا جاتا ہے، یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔)“ (علامہ جاوید احمد غامدی کا بیانیہ – پروفیسر مفتی منیب الرحمن)

ڈاکٹر انیس احمد، غامدی صاحب کے نکتے پر لکھتے ہیں:
یہ بات کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ قرآن کریم میں خلافت کی اصطلاح اپنی مختلف شکلوں میں 14 مقامات پر استعمال ہوئی ہے۔ سورۂ نور میں فرمایا گیا: وَعَدَ اللہ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (ترجمہ) اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے۔

اسی آیت میں آگے چل کر فرمایا جارہا ہے کہ: وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِینَہُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا ؕیَعْبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشْرِکوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕوَ مَنۡ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوۡنَ ﴿55﴾، ان کے لیے ان کے اس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں پسند کیا ہے اور ان کی (موجودہ) حالتِ خوف کو امن سے بدل دے گا، پس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔

استخلاف فی الارض کی یہ قرآنی اصطلاح تقریباً اسی معنی میں سورۂ اعراف میں استعمال ہوئی ہے: قَالَ مُوۡسٰی لِقَوْمِہِ اسْتَعِینُوۡا بِاللہِ وَ اصْبِرُوۡا ۚ اِنَّ الاَرْضَ لِلہِ ۟ۙ یُوۡرِثُہَا مَنۡ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ ؕ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِینَ ﴿128﴾ قَالُوۡۤا اُوۡذِینَا مِنۡ قَبْلِ اَنۡ تَاۡتِیَنَا وَمِنۡۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ؕ قَالَ عَسٰی رَبُّکمْ اَنۡ یُّہلِکَ عَدُوَّکمْ وَ یَسْتَخْلِفَکمْ فِی الاَرْضِ فَیَنظُرَ کَیفَ تَعْمَلُوۡنَ ﴿129﴾ موسٰی ؑ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخر کامیابی ان ہی کے لیے ہے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں۔ اس کی قوم کے لوگوں نے کہا تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں۔ اس نے جواب دیا: قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھیے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

سورۂ انعام میں اسی حوالے سے فرمایا گیا: وَ رَبُّکَ الْغَنِیُّ ذُوالرَّحْمَۃِ ؕ اِنۡ یَّشَاۡ یُذْہِبْکمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنۡۢ بَعْدِکمۡ مَّا یَشَآءُ کَمَاۤ اَنۡشَاَکمۡ مِّنۡ ذُرِّیِّۃِ قَوْمٍ اٰخَرِینَ ﴿133﴾ تمہارا رب بے نیاز ہے اور مہربانی اس کا شیوہ ہے، اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور تمھاری جگہ دوسرے، جن کو چاہے، لے آئے جس طرح اس نے تمھیں کچھ اور لوگوں کی نسل سے اٹھایا ہے۔

ان تینوں مقامات پر استخلاف کی اصطلاح کی وضاحت قرآن کریم خود کر رہا ہے کہ اس کا مفہوم اللہ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ایک قوم کو خلافت یا حکمرانی کا دیا جانا ہے۔ ہم نے صرف ان تین مقامات کا ذکر اختصار کی خاطر کیا ہے ورنہ دیگر مقامات پر اور خود تخلیق آدم ؑکے واقعے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ملائکہ سے انسان کا تعارف جس اصطلاح سے کرایا وہ خلیفہ ہی کی اصطلاح تھی۔ ظاہر ہے کہ قرآن کریم ایک نہیں 14 مقامات پر اس اصطلاح کو اس کی مختلف شکلوں میں استعمال کر رہا ہے تو اسے اسلامی اصطلاح ہی ہونا چاہیے۔ خلافت کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ سیاسی نظام جس میں حکومت اور احکام اللہ تعالیٰ کے احکامات کے تابع ہوں۔ یہ نہ تھیاکریسی ہے نہ آمریت، نہ فوجی ڈکٹیٹر شپ، نہ موروثی بادشاہت اور ملوکیت۔

خلافت، تاریخ کی روشنی میں، انبیائے کرام کی پیروی کرتے ہوئے خالق کائنات کی شریعت کو اس کی زمین پر اور اس کی مخلوق پر نافذ کرنے کا نام ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام ہوں یا حضرت سلیمان علیہ السلام یا حضرت داؤد علیہ السلام، ان سب کا اسوہ استخلاف فی الارض، یعنی اللہ کی زمین پر اللہ کی حاکمیت قائم کرنے کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ قرآن کریم کا خود اس معاملے کو واضح کر دینے کے بعد کسی دانش ورانہ نکتہ سنجی کی گنجایش باقی نہیں رہتی۔

اگر پھر بھی اصرار کیا جائے تو معروضی طور پر اس دور کے معروف مفسر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی مرحوم کی تالیف اسلامی ریاست (مطبوعہ لاہور، دار التذکیر 2002ء) کے صفحات 18 تا 24 کا مطالعہ کر لیا جائے۔ کم از کم وہ حضرات جو مجازی طور پر انہیں کسی وقت اپنا استاد مانتے رہے ہوں، ان صفحات کا مطالعہ ان کے تصورِ خلافت کے خطوط پر چھائی ہوئی دھند کو بآسانی دُور کر دے گا۔

مولانا اصلاحی اس حوالے سے خلافت کے 8 تضّمنات پر روشنی ڈالتے ہیں:
1. یہ کہ خلافت کا شعور خود انسانی فطرت کا مقتضیٰ ہے۔
2۔ یہ کہ اس زمین پر انسان کا فطری منصب ایک خود مختار اور مطلق العنان ہستی کا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ اور نائب کا ہے۔
3۔ یہ کہ اس زمین پر اصل حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے۔
4۔ یہ کہ منشائے تخلیق کے اعتبار سے اس منصب کے اہل سارے انسان ہیں۔
5۔ اس منصب کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں اگر انسان اللہ کی اطاعت نہ کرے تو فساد فی الارض کا ہونا یقینی ہے۔
6۔ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر بغیر ہدآیت و رہنمائی کے نہیں چھوڑا ہے۔
7۔ یہ کہ خلافت کی اساس وطن، نسل، نسب یا قبیلہ نہیں ہے بلکہ خلافت ایک اصولی اور نظریاتی ریاست ہے۔
8۔ یہ کہ اسلام کا سیاسی نظام عدل و مساوات کو یقینی بناتا ہے۔
(ماہنامہ ترجمان القرآن مارچ 2015)

جناب حافظ محمد زبیر صاحب اپنے مضمون جواب آں غزل در ”اسلام اور ریاست: ایک جوابی بیانیہ“ میں مذکورہ نکتے پر لکھتے ہیں:
خلیفہ سے مراد وہ مسلمان حکمران ہے جو اللہ کے بندوں کے مابین اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق فیصلے کرے۔ اللہ عزوجل سورۃ ص میں فرماتے ہیں: ﴿يـٰداوۥدُ انّا جَعَلنـٰک خَليفۃ فِى الار‌ضِ فَاحکم بَينَ النّاسِ بِالحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الھوىٰ فَيُضِلَّک عَن سَبيلِ اللہ ”اے داؤد! بے شک ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے تاکہ آپ لوگوں کے مابین حق کے ساتھ فیصلے کریں۔ اور ان کی آرا و خواہشات کی پیروی مت کریں، یہ آپ کو اللہ کے راستے سے گمراہ کردیں گے۔“ اسی طرح امام احمد بن حنبل اپنی کتاب مسند احمد میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں:
”حضرت حذیفہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: تمہارے درمیان نبوت اس وقت تک باقی رہے گی جب تک اللہ عزوجل چاہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ جب چاہیں گے، نبوت کو اُٹھا لیں گے۔ پھر نبوت کے منہاج پر خلافت قائم ہو گی، پس یہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ جب تک اللہ چاہیں گے، قائم رہے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ جب چاہیں گے، اس خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کو اُٹھا لیں گے۔ پھر کاٹ کھانے والی ملوکیت آئے گی اور یہ ملوکیت جب تک اللہ عزوجل چاہیں گے، باقی رہے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ جب چاہیں گے، اس کاٹ کھانے والی ملوکیت کو بھی اُٹھا لیں گے۔ پھر جبری ملوکیت قائم ہو گی اور اللہ عزوجل جب تک چاہیں گے، یہ جبری ملوکیت قائم رہے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ جب چاہیں گے، اس جبری ملوکیت کو اُٹھا لیں گے۔ اس کے بعد ایک بار پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہو گی۔ اس کے بعد آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔“

البتہ اس میں اختلاف ممکن ہے کہ کاٹ کھانے والی اور جبری ملوکیت کے اَدوار کون سے ہیں؟ اور ان اَدوار کے بعد قائم ہونے والی خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا دور کون سا ہے؟ لیکن اس میں کوئی شک و شبہے کی گنجائش نہیں ہے کہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ ایک ایسا عادلانہ سیاسی نظام ہے کہ جو اللہ کے رسول ﷺ اس اُمت کو دے کر گئے اور ظلم وجور کے نظام کے بعد ایک بار پھر اس کے آنے کی خوشخبری دے کر گئے۔

جناب زاہد صدیق مغل صاحب مذکورہ نکتے پر لکھتے ہیں:
”غامدی صاحب کا یہ کہنا ہے کہ نہ صرف یہ کہ خلافت کوئی دینی اصطلاح نہیں بلکہ مسلمانوں پر کسی عالمی خلافت یہاں تک کہ کسی عالمی سیاسی وحدت (مثلاً کنفیڈریشن) کا قیام بھی کوئی دینی تقاضا نہیں (اس قسم کی کسی وحدت کے قیام کی خواہش کو زیادہ سے زیادہ بس ایک نیک خواہش کہا جاسکتا ہے نہ کہ دین کا کوئی حکم) کیونکہ ازروئے اسلام قومیت کی بنیاد پر مذہب نہیں بلکہ دیگر عناصر (مثلاً تاریخی نسلی شناخت وغیر ہم) ہوا کرتے ہیں مسلمانوں کے درمیان باہمی تعلق اخوت کا ہے نہ کہ قومیت کا۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن و حدیث میں اس قسم کی خلافت کا کوئی تصور موجود نہیں۔ ذیل میں اختصار کے ساتھ ان کے دعووں کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔“

قرآن میں تصور خلافت
خلافت (رسول اللہ کی سیاسی نیابت) کا تصور یہ ہے کہ امور ریاست اس حق کے مطابق چلائے جانے چاہئیں جسے شارع نے حق کہا نہ کہ اپنی طرف سے وضع کردہ کسی تصور حق (یعنی ہوائے نفس) کے تحت۔ خدا نے اپنے برگزیدہ رسول کو بعینہ یہی تلقین فرمائی:
یا داود انا جعلناک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الہوی فیضلیک عن سبیل اللہ (سورۃ ص: آیت نمبر 26)
اے داؤد! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا پس آپ لوگوں کے درمیان حق کی بنیاد پر فیصلے کریں اور (اس حق کے مقابلے میں کسی کی) خواہشات کی پیروی نہ کریں کہ (اگر فرض محال آپ نے ایسا کیا تو) اللہ کی راہ سے ہٹ جائیں گے۔

بتائیے خلافت کا تصور جسے امت کے فقہاء نیز سیاسی مفکرین امام ماوردی سے لے کر مولانا مودودی تک قولی تواتر کے ساتھ بیان کرتے چلے آئے ہیں اس کا مفہوم اس کے سواء اور کیا ہے؟ خدا نے قرآن میں اپنے نیک بندوں اور پسندیدہ قوموں کو زمین میں اقتدار عطا کرکے فیصلے کرنے کا جب ذکر کیا تو اسے بالعموم خلافت (خلیفہ استخلاف) سے تعبیر کیا اسی طرح احادیث میں بھ خلفاء کا ذکر ہوا لہذا علماء نے اس تصور کو بیان کرنے کے لیے یہ اصطلاح استعمال کی اب اگر کسی کو اس تصور کو بیان کرنے کے لیے خلافت کی یہ اصطلاح پسند نہیں تو وہ چاہے تو اس کے لیے اپنی طرف سے کوئی دوسرا نام رکھ لے بھلا اصطلاح میں کیا لڑائی؟ لیکن کیا وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ خلافت کا یہ تصور ہی خدا کو مطلوب نہیں؟“۔ (ماہنامہ الشریعہ مئی 2015)

جاوید احمد غامدی صاحب کے اس نکتے کو کہ مسلمانوں پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اقامت دین کریں یا باالفاظ دیگر خلافت قائم کریں سلف کی آراء کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں: اس بات کا جاننا ضروری ہے کہ ریاست وحکومت کا قیام دین کے عظیم ترین فرائض میں سے ہے، دین کا قیام اس کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ (السیاسۃالشرعی لامام ابن تیمیہ، ص 138)

امام قرطبیؒ اپنی تفسیر میں فرضیت نصب امامت کے بارے میں فرماتے ہیں: نصب امامت کے فرض ہونے میں امت اور ائمہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ (احکام القرآن للقرطبی، ج 1، ص 251)

علامہ ابن خلدون ؒ فرماتے ہیں: بے شک امام کا (خلیفہ)کا مقرر کرنا فرض ہے، اس کا وجوب شریعت اور صحابہ اور تابعین کے اجماع سے ثابت ہوتا ہے۔ اور اسی طرح ہوتا رہا اور اس بات پر اجماع ہوگیا جو نصب امامت کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ (مقدمہ ابن خلدون، ص 191)

امام ابن حزم ؒ فرضیت امام کے بارے میں لکھتے ہیں: نصب امامت کے وجوب پر جو اجماع ہے، اس کی کسی نے مخالفت نہیں کی سوائے خوارج میں سے ایک فرقہ کے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں پر یہ لازم نہیں کہ وہ امام مقرر کریں، بلکہ ان پر تو اس قدر ذمہ داری ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کے حقوق برابر ادا کریں۔ اور ہمارے خیال میں اس فرقہ میں سے کوئی بھی آج موجود نہیں۔ (الملل و النحل لابن حزم، ج 4، ص 87)

امام ابن حزم ؒ کے اس قول پر استاد محترم اویس پاشا قرنی صاحب فرماتے ہیں: امام ابن حزم نے اپنے دور کےفرقوں کا تذکرہ کیا ہے اور اطمینان کا سانس لیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ فرضیت اقامت دین کے انکاری فتنہ پرور گروہ میں سے کوئی آج باقی نہیں۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ آئندہ صدیوں میں مغربی سمت سے سیکولرازم کے نام سے کفر و الحاد کا جو سیلاب عالم اسلام پر آنے والا ہے وہ اس اجماع میں شگاف ڈالنے کی کوشش کرے گا۔

استاد محترم کا ایک مقالہ ”اقامت دین فرضیت اور طریقہ کار، چند مباحث“ کے عنوان سے موجود ہے جو خالص علمی انداز میں لکھا گیا ہے۔ اس میں انہوں نے اقامت دین کی فرضیت پر فقہی اعتبار سے کلام فرمایا ہے۔ اس مختصر اور جامع مقالہ کا مطالعہ زیر بحث نکتے پر قاری کو درست رائے اختیار کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ ان شاء اللہ