علمائے حق اور علمائے سُوء (حصہ دوم) - پروفیسر مفتی منیب الرحمن

علمائے سُوء کی ایک خصوصیت بے عملی ہے، جس کے سبب اُن کے دل و دماغ سے علم کا نور اٹھ جاتا ہے اور اُس کے نتیجے میں وہ خَشیتِ الٰہی سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے علمائے بنی اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا: "کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو، کیا تم عقل نہیں رکھتے (بقرہ: 44)" اور فرمایا: "اور حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ نہ کرو اور تم جانتے بوجھتے حق کو نہ چھپاؤ، (بقرہ: 42)"۔

بنی اسرائیل پر اُن کے عِصیان اور حق سے تجاوز کے سبب اللہ تعالیٰ نے داؤد و عیسیٰ علیہما السلام کی زبانی لعنت کا ذکر کرنے کے بعد اُن کی یہ خرابی بیان فرمائی: ”وہ ایک دوسرے کو اپنے برے کرتوتوں سے روکتے نہیں تھے، اُن کا یہ شِعار نہایت برا تھا (المائدہ: 78-79)”۔ علمائے بنی اسرائیل کا ایک شِعار حق کو چھپانا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “بے شک جو لوگ ہمارے نازل کیے ہوئے روشن دلائل اور ہدایت کو چھپاتے ہیں، جب کہ ہم ان امور کو اپنی کتاب میں لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرچکے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت فرماتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں (بقرہ: 159)”۔

کتمانِ حق کرنے والے اپنی دنیا سنوارنے کے لیے حق کو چھپاتے تھے، وہ اہلِ زَر اور اہلِ اقتدار کے لیے اللہ کے احکام سے بچ نکلنے کی حیلہ سازی کرتے تھے، اسی کو قرآنِ مجید نے “ثَمَنِ قَلِیْل” کے عوض آیاتِ الٰہی کو بیچنے سے تعبیر فرمایا: ”پس تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کے بدلے میں تھوڑی قیمت نہ لو (المائدہ: 44)”۔

بنی اسرائیل میں اعتقادی اور عملی خرابیوں نے کس طرح نفوذ کیا، رسول اللہ ﷺ نے اُس کی بابت فرمایا: “بنی اسرائیل میں پہلے پہل جب خرابی داخل ہوئی تو ایک شخص دوسرے سے ملتا اور کہتا: یہ کیا کر رہے ہو، اللہ سے ڈرو اور یہ کرتوت چھوڑو، یہ تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر اگلے دن اُن سے ملتا تو انہیں منع نہ کرتا، پھر اُن کا ہم نشیں اور ہم نوالہ و ہم پیالا بن جاتا۔ اِسی سبب اللہ تعالیٰ نے اُن کی نحوست کو ایک دوسرے کے دلوں پر مسلّط کردیا، پھر آپ ﷺ نے سورۂ ص: 122 اور سورۂ مائدہ: 81 کی آیات تلاوت کر کے فرمایا: خبر دار! تم ضرور بالضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے اور ظالم کا ہاتھ روکو گے اور تمہیں ضرور اپنی پوری صلاحیت کے مطابق حق سے انحراف کی روِش کو روکنا اور لوگوں کو حق پر قائم رکھنا ہوگا، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی نحوست کو ایک دوسرے پر مسلّط فرما دے گا اور پھر بنی اسرائیل کی طرح تم پر بھی لعنت فرمائے گا (سنن ابوداؤد: 4337، سنن ترمذی: 3047)”۔

شبِ معراج رسول اللہ ﷺ کو جن عذاب و ثواب کے مشاہدات کرائے گئے، اُن میں سے ایک یہ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: “میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ اُن کے ہونٹوں کو آگ کی قینچیوں سے کاٹا جارہا ہے، میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں، انہوں نے کہا: (یارسول اللہ!) یہ آپ کی امت کے وہ خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور اپنے آپ کو فراموش کردیتے ہیں (سنن بیہقی: 1773)”۔

معاشرے کا کوئی طبقہ نہ سراسر خیر ہوتا ہے اور نہ شر، البتہ معاشرے کا وہ طبقہ بہتر ہوتا ہے جس میں خیر کا عنصر غالب ہو۔ آج کل ہمارا معاشرہ اخلاقی اعتبار سے ایک بیمار معاشرہ ہے۔ اس لیے بہت کم دن ایسے گزرتے ہیں جن میں کوئی بری خبر نہ آئے، اگر کبھی امن و سکون کا وقفہ طویل ہوجائے تو ہم دعوے کرنے لگتے ہیں کہ ہم نے شر پر غلبہ پالیا ہے، لیکن اچانک پھر کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے اور ہماری خوش فہمیوں کا آبگینہ چکنا چور ہو جاتا ہے۔ گزشتہ ہفتے سرگودھا میں ایک انسانی المیہ رونما ہوا اور میڈیا کی خبروں کے مطابق 20 افراد قتل کردیے گئے۔ اس جرم کے مُحرِّکات اگرچہ نفسانی تھے، لیکن اس کے پیچھے ایک مذہبی عنوان بھی کار فرما تھا۔ سوشل میڈیا پر ایک وڈیو گردش کر رہی ہے، جس میں ایک نیم برہنہ بابا مرکزِ عقیدت ہے اور اُس کے گرد مرد و زن، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا مخلوط دھمال جاری ہے اور وقفے وقفے سے انتہائی اَخلاق سوز گالی دی جارہی ہے، جس کو نقل کرنے کا یہ ناچیز متحمل نہیں ہوسکتا۔

یہ مراکز اس لیے آباد ہیں کہ ہوائے نفس کی تسکین کا پورا پورا اہتمام ہوتا ہے۔ بنتِ حوا بھی موجود، چرس و افیون اور حرام مشروب بھی دستیاب، الغرض مذہبی چھتری تلے لذتِ نظر اور ہوا و ہوس کا مکمل اہتمام موجود ہوتا ہے، پس ابلیس کے چیلوں کو اور کیا چاہیے۔ جوئے اور شراب کے اڈوں کی طرح اِن مراکز کو بھی پولیس تھانوں کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے، کیونکہ اُن کا حصہ اُن کو پہنچ جاتا ہے۔ جنابِ عمران خان کا یہ کہنا بجا ہے کہ جب تک پولیس کے ادارے کو حکومت کی انتظامی گرفت اور سیاسی اثر ورسوخ سے آزاد کر کے آئین وقانون اور عدالت کے سامنے جواب دہ نہیں بنایا جائے گا، معاشرے کو اِن ناسوروں سے نجات نہیں ملے گی۔

اس کا ایک اور رُخ یہ ہے کہ تبلیغی، دعوتی اور اصلاحی تنظیموں نے “نہی عن المنکر” سے دامن بچا کر صرف “امر بالمعروف” کا آسان راستہ اختیار کر رکھا ہے، کیونکہ یہ عافیت و آسودگی کا راستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام جائز و ناجائز کاروبار والے طبقات وہاں کا رُخ کرتے ہیں اور اپنی دنیاوی آسودگی اور عاقبت کی فلاح کا انتظام کرلیتے ہیں۔ دعاؤں میں تو بطورِ خاص شریک ہوتے ہیں، کیونکہ وہاں دعاؤں کی عدمِ قبولیت کے اسباب بیان نہیں ہوتے، بلکہ قبولیت کی سند عطا کی جاتی ہے۔ غیر پابندِ شریعت، بد عمل پیروں اور عاملوں کو پیشہ ور واعظین اور مناظرین کی خدمات بھی دستیاب ہوتی ہیں۔ اُن کے پاس دلائل کا انبار ہوتا ہے، ہر بات کو جواز کی سند عطا کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی حوالہ اُن کی زنبیل کے حاضر اسٹاک میں دستیاب ہوتا ہے۔ اس سے کسے غرض کہ دلیل کا وزن کیا ہے، یہ ایک منفرد قسم کی مارکیٹ ہے، اس کے مارکیٹنگ، ایکسپرٹ ہارورڈ اور Yale جیسی یونیورسٹیوں کے ایم بی اے مارکیٹنگ سے زیادہ مہارت رکھتے ہیں۔ چوہدری صاحبان، جاگیر دار وڈیرے اور سرمایہ دار عمرے کے ٹکٹ کے نام پر مجمع لگاتے ہیں اور اپنی خواہشِ نمود کی تسکین کرتے ہیں، یہ کارِ خیر نمود کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ قدِ آدم ہورڈنگز پر لاکھوں روپے کا زرِ کثیر خرچ ہوتا ہے جو قوم سے دین کے نام پر وصول کیا جاتا ہے، اس رقم کو کسی تعلیمی ادارے کے قیام یا ناداروں کے علاج یا بھوکوں کے لیے طعام پر بھی خرچ کیا جاسکتا ہے، لیکن پھر واہ واہ کیسے ہوگی اور داد کون دے گا؟

وقت کے حکمرانوں کو اپنے اقتدار کے استحکام و دوام سے غرض ہوتی ہے، وہ ”نَہی عَنِ الْمنکَر” کا فریضہ انجام دے کر اپنے حامیوں اور ووٹروں کی ناراضی کا خطرہ کیسے مول لے سکتے ہیں، اگرچہ بڑی تعداد علمائے حق کی ہے، لیکن علمائے سوء بھی اس معاشرے میں موجود ہیں، سو ایسے میں دینی اقدار کی حمایت کے لیے کھڑے ہو کر اپنی جان ومال اور آبرو کا خطرہ کون مول لے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: “مجھ سے خیر کے بارے میں سوال کرو، پھر فرمایا: سنو!سب سے بڑی شر “شرارِ علماء” اور سب سے بڑی خیر “خیارِ علماء” ہیں (سنن دارمی: 400)”۔ ہمارے معاشرے کو اللہ تعالیٰ “خیارِ علماء” کی صورت میں سب سے بڑی خیر غالب عطا فرمائے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہارے اُمَراء تمہارے بہترین لوگ ہوں، تمہارے مالدار لوگ سخی ہوں، تمہارے معاملات باہمی مشاورت سے طے ہو رہے ہوں، تو تمہارے لیے زمین کا ظاہر اُس کے باطن سے بہتر ہے (یعنی زندگی تمہارے لیے نعمت ہے) اور جب تمہارے اُمَراء تم میں سے بدترین لوگ ہوں، تمہارے مالدار بخیل ہوں، تمہاری زمام کار عورتوں کے ہاتھ میں ہو، تو تمہارے لیے زمین کا باطن ظاہر سے بہتر ہے (یعنی زندگی باعثِ خیر نہیں ہے)، (سنن ترمذی: 2266)”۔

آپ ﷺ نے فرمایا: “جس نے دین کا علم اس لیے حاصل کیا کہ علماء سے مباحثہ کرے یا کم علم لوگوں سے کٹ حجتی کرے یا لوگوں کی عقیدت کا رُخ اپنی جانب پھیرے، تو (ایسا علم) اُسے جہنم میں داخل کردے گا (سنن ترمذی: 2654)” اور فرمایا: “وہ علم جسے صرف اللہ کی رضا کے لیے حاصل کرنا چاہیے۔ جس نے اُسے اپنی دنیا سنوارنے کے لیے حاصل کیا، وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا (سنن ابوداؤد: 3664)”۔

صدر ایوب خان کے زمانے میں پیر آف دیول شریف نے انہیں اپنا عقیدت مند بنا لیا، تو پھر اُن کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سب کا رُخ پیر صاحب کی طرف ہوگیا، اُس کے بعد سے یہ کلچر جاری و ساری ہے۔ اگر کسی ادارے کا سربراہ کسی آستانے پر پایا گیا، تو اُس کے ماتحت وہیں طواف کرتے ہوئے نظر آئیں گے تاکہ صاحب کی نظروں میں آجائیں۔ سنا ہے کہ آج کل اسلام آباد میں ایسے ہی ایک پیر صاحب کا شہرہ ہے اور قیمتی گاڑیوں کی طویل قطاریں اُن کے آستانے پر نظر آتی ہیں۔ یہ سب بندگانِ اغراض ہوتے ہیں، ان کو کوئی نہ کوئی “مشکل” درپیش ہوتی ہے یا ترقی کی کوئی منزل پیشِ نظر ہوتی ہے۔ ریاستی ادارے وہاں کے ماحول کا جائزہ لیں تو بہت سے سربستہ راز آشکار ہوں گے۔ اِن باکمال پیرصاحبان کی خدمات بڑے بڑے اسپتالوں میں حاصل کی جائیں تاکہ سارے جاں بہ لب مریض شفا یاب ہوکر اپنے گھروں کو لوٹیں۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.